’’مجھے اس سکینڈل میں سزا سے بچالیں۔۔‘‘ 12 سال کی سزا پانیوالے سابق ملائیشین وزیراعظم نجیب رزاق کی اماراتی ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوگئی

کوالالمپور (ویب ڈیسک) ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی اماراتی ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک گفتگو سامنے آ گئی۔ وزیراعظم نجیب رزاق کو ملٹی بلین ڈالرز سکینڈل میں7 سنگین الزامات میں قصور وار پایا گیا ہے جس کے تحت ان کو 12 سال کی قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

الزام ہے کہ اس سکینڈل میں نجیب رزاق نے ملکی ترقی کے لیے مختص فنڈز میں خرد برد کی اور ملکی خزانے کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا۔ اس سکینڈل نے ملائیشین سیاست کو ہلا کر رکھ دیا اور نتیجتاً 61 سال اقتدار میں رہنے والی امنو پارٹی کا اقتدار ختم ہو گیا اور اس فراڈ کے نیتجے میں دنیا بھر کے کئی ممالک میں تحقیقات شروع ہو گئیں ہیں۔ ملائیشین سپریم کورٹ نے 16ماہ جاری رہنے والے اس ٹرائل کے نتیجے میں نجیب رزاق کو مجرم ٹھہرا کر 12 سال قید اور 39 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس کیس کے دوران نجیب رزاق کی ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک گفتگو سامنے آئی جس میں وہ اماراتی ولی عہد سے اپنے بیٹے رضا کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالرز کی ٹرانزیکشن کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ آڈیو کال ملائیشین انسداد بدعنوانی سیل کی جانب سے جاری کی گئی۔ اس فون کال کے دوران نجیب رزاق ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید سے ذاتی حیثیت میں مدد طلب کرتے ہیں جبکہ محمد بن زید النہیان ان سے خاندان سے متعلق پوچھتے ہیں جس پر نجیب رزاق کہتے ہیں کہ باقی تو سب ٹھیک ہے مگر یہ سکینڈل ان کی ساکھ خراب کر رہا ہے۔ نجیب رزاق کرپشن اور چوری کے42 مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں4 بلین ڈالرز کی چوری کی گئی ہے۔ جو کہ ملائیشیا کے سرکاری خزانے سے چوری کیے گئے۔ ملائیشین ڈویلپمنٹ برہد ون نامی سکینڈل میں نجیب رزاق کے سوتیلے بیٹے رضا عزیز کی پروڈکشن کمپنی(ریڈ گرینائٹ پکچرز) کے ذریعے کروڑوں روپے ملک سے باہر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجے جانے کا الزام ہے۔ اس فون کال کے دوران نجیب رزاق محمد بن زید سے جھوٹی ادائیگیوں کی ٹرانزیکشن کے لیے کہتے ہیں اور ابوظہبی کی پٹرولیم کمپنی کے اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشن کا مشورہ دیتے ہیں۔