اب کسی کو شناختی کارڈ کی کاپی دینا ہوتو اس پر لائن نہ لگائیں بلکہ ۔۔۔۔ متعلقہ ادارے نے بڑے کام کا اعلان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) شناختی کارڈ کسی بھی شخص کی شناخت کا بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ اکثر اوقات ہمیں ثبوت کے طور پر اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دینا پڑتی ہے جبکہ بعض اوقات جس کو شناختی کارڈ کی کاپی دی جاتی ہے وہ اس کا غلط استعمال بھی کر سکتا ہے تاہم

اب ایک اہم خبر آئی ہے جوپنجاب انفارمیشن کمیشن نے شناختی کارڈ کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے احکامات جاری کئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق چیف انفارمیشن کمشنر نے کہا ہے کہ کسی بھی کیس میں شناختی کارڈ کی کاپی نمبر پر کالی سیاہی پھیر کر دی جائے۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے احکامات ایک درخوا ست پر نوٹس لیتے ہوئے جاری کئے ہیں۔ احکامات کے مطابق چونکہ شناختی کارڈ نمبر سے حساس معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور ان کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جہاں شناختی کارڈ کی کاپی دینا ضروری ہونمبرپر کالی سیاہی پھیر دی جائے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق فیصل بینک لمیٹیڈ نے اپنے صارفین کے لیے ڈیجیٹل صلاحیتوں سے لیس طریقہ ہائے کار متعارف کرانے کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے سرحد پار رقم کی تیز، محفوظ اور آسان ادائیگی کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ کمپنی ریپل سے اشتراک کا معاہدہ کر لیا ہے۔اس معاہدے پر فیصل بینک لمیٹیڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف حسین کی زیرنگرانی دستخط کیے گئے جس کے ساتھ ہی فیصل بینک عالمی سطح پر ریپل کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ بننے والا پاکستان کا پہلا بینک بن گیا ہے۔اس تقریب میں دونوں آرگنائزیشنز کی سینئر مینجمنٹ نے شرکت کی۔اس اقدام کو بہت سراہا جا رہا ہے.

16 تبصرے “اب کسی کو شناختی کارڈ کی کاپی دینا ہوتو اس پر لائن نہ لگائیں بلکہ ۔۔۔۔ متعلقہ ادارے نے بڑے کام کا اعلان کر دیا

  1. It’s confusing as for most of the times, CNIC number is also needed for records to verify from NADRA.
    CNIC copy with hidden CNIC number will be useless for verification of any kind.

  2. Nonsense id number nahi tho useless copy ka kia kerna. Kaysya kisi ko trace kerogay ager nimber nahi hoga tho

  3. پنجاب انفارمیشن کمیشن کا شناختی کارڈ سے کیا لینا دینا.. اگر کوئی پرابلم ہے تو نادرا یا وفاقی ادارہ ہی کردار ادا کرسکتا ہے.. تاہم یہاں صرف فیصل بینک کی مشہوری کے لئے بے بنیاد خبر چلائی گئی ہے

  4. This is stupid, paper copies should be avoided at all costs because the privacy of this sensitive data can’t be ensured on paper. The best alternative is to have biometric verification when needed. Change your business workflow to replace paper with biometric verification.

  5. جس نمبر پر سیاھی پھیر دی جاۓ تو پھر ایسی کاپی کاکیا فاٸدہاگر کوٸ اس کو چیک کرناچاھے تو چیکنگ کیسی ھوگی

  6. K.Electric ko call karen aur koi sa bhi number bolien. Ager woh number kisi bhi connection k against registered hua to pura address batadete hai. It should be stopp immediately

تبصرے بند ہیں