ناقابل یقین حقائق جو شاید آپ کے علم میں نہ ہوں

لاہور (خصوصی رہورٹ ) سُلطان راہی مرحوم کو 8 اور 9 جنوری 1996 کی درمیانی شب راہی ملک عدم ہوئے اِس منحوس خبر نے پاکستان تو کیا بلکہ جہاں جہاں بھی راہی صاحب کے فین بستے ہیں سب کو خون کے آنسُو رُلا دیاسلطان راہی کی تدفین 14 جنوری کو ان کی رہائش گاہ

سے 612 قدم کے فاصلے پر شمش قادری کے مزار کے احاطے میں ہوئی ان کی نماز جنازہ سبزہ زار کی مسجد کے پیش امام مزمل حسین شاہ نے پڑھائی۔سلطان راہی کی تدفین میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی بیوی اور بیٹیاں امریکہ میں مقیم تھیں انہیں اطلاع دی گئ تو وہ امریکہ میں شدید برف باری کی وجہ سے پاکستان تاخیر سے پہنچیں۔سلطان راہی کی ڈیڈ باڈی 14 جنوری کی صبح 11 بج کر 20 منٹ پر گاڑی نمبر LHR 485 سے گاف روڑ پر ان کے صاحب زادے بابر سلطان لاۓ اس وقت تک پورا لاہور اپنے محبوب اداکار کا آخری دیدار کرنے پہنچا ہوا تھا۔ہر کوئ چھوٹا بڑا سلطان راہی کے اچانک بچھڑنے پر رنج و افسوس کا اظہار کر رہا تھا صبح 10 بجے ہی ہزاروں لوگ سلطان راہی کی رہائش گاہ تک پہنچ چکے تھے۔پولیس کی بے پناہ نفری ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے متعین کی گئ تھی لیکن اس کے باوجود جب دوپہر 1 بجے جنازہ اٹھایا گیا تو ایک کہرام برپا ہو گیا کوئ شخص کسی کے سنبھالے میں نہیں آ رہا تھا اس موقع پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔سلطان راہی مرحوم کا جنازہ حسب اعلان دوپہر 3 بجے اٹھایا جانا تھا لیکن بے پناہ ہجوم کو دیکھتے ہوۓ جنازہ 1 بجے ہی اٹھا لیا گیا۔نمازہ جنازہ ان کی رہائش گاہ کے قریب ہی باغ جناح میں پڑھائی گئ سلطان راہی کا جنازہ گھر سے باہر ایک ٹرک پر رکھا گیا جسے پھولوں سے سجایا گیا تھا اس ٹرک پر جہاں سلطان راہی کے عزیز و اقارب تھے

وہاں فلمی صنعت سے فیصل قریشی , بابر علی , جان ریمبو , ریاض بٹ , شفقت چیمہ , عجب گل , ہمائیوں قریشی , ندیم , جاوید رضا , عارف لوہار سلطان راہی کے صاحب زادے حیدر سلطان , بابر سلطان , طارق سلطان اداکار نواز خان کیمرہ مین ریاض بخاری اور فائٹر قیصر مستانہ بھی تھے ہجوم سے ہر کوئ ٹرک پر سوار ہونے کی کوشش کر رہا تھا جس کی وجہ سے کئ بار ٹرک الٹتے الٹتے بچا اس موقع پر ہجوم نے پتھراؤ کیا کہ وہ اپنے محبوب فنکار کا آخری دیدار کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہ کر سکے۔مرحوم کی میت باغ جناح پہنچائ گئ باغ جناح عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ایک اندازے مطابق نمازہ جنازہ میں دو سے اڑھائ لاکھ افراد نے شرکت کی۔سلطان راہی کی میت ٹرک سے نہیں اتاری گئ بلکہ ٹرک میں رکھے ہوۓ ہی نماز جنازہ ادا کی گئ تقریباً اڑھائ بجے جنازہ تدفین کے لیے شمش قادری کے مزار کی طرف روانہ ہوا یہ تھوڑا سا فاصلہ تقریباً ایک گھنٹے دس منٹ میں طے ہوا جب جنازہ روانہ ہوا تو جو فنکار N T M کی وین پر سوار تھے ان میں غلام محی الدین , یوسف خان , ندیم اظہار قاضی , اچھی خان , نصراللہ بٹ اور اعظم جہانگیر وغیرہ شامل تھے اس موقع پر کئ افراد اس وین پر سورا ہو گۓ جس کی وجہ سے وین کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئ جب جنازہ گاف روڑ پر پہنچا تو دونوں اطراف کی دیواروں اور درختوں پر سلطان راہی مرحوم کے پرستار چڑھ گۓ

جس کی وجہ سے چیمہ ہاؤس کی دیوار ٹوٹ گئ اور کئ افراد بری طرح زخمی ہوۓ کئ لوگ بجلی کے کھمبوں پر چڑھے ہوۓ تھے جبکہ کئ ایک لڑکوں کو ٹرانسفارمر پر چڑھے ہوۓ بھی دیکھا گیا اس کے علاوہ کئ لڑکے ایسی دیواروں پر بھی بیٹھے ہوۓ تھے جن پر شیشے کے ٹکڑے لگے ہوۓ تھے جس کی وجہ سے لڑکوں کے پیر بُری طرح زخمی ہو چکے تھے جب سلطان راہی کا جنازہ اپنی آخری منزل کی جانب رواں تھا تو عوام نے ٹرک پر پھول پھینکے ایک پرستار نے کلمے شریف والی چادر بھی پھینکی جب جنازہ شمش قادری کے احاطے کے باہر اتارا گیا تو تو سینکڑوں لوگوں نے آخری دیدار سے روکنے پر انتظامیہ پر پتھراؤ کیا جس وجہ سے کئ فنکار زخمی ہو گۓ اس عظیم انسان کے جنازے میں لوگوں کی تعداد سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگا جا سکتا ہے کہ وہ کتنا ہر دل عزیز فنکار تھا پوکستانی عوام نے آج تک صرف ایک ہی فنکار کو اتنی عزت دی اور وہ تھے سلطان راہی صاحب ,,سلطان راہی کی تدفین میں جہاں فنکاروں اور عام شہریوں نے شرکت کی وہاں ان لوگوں نے بھی شرکت کی جن کی وہ مالی امداد کیا کرتا تھا کئ غریب عورتیں اور مرد ان کی رہائش گاہ پر سینہ کوبی کر رہے تھے کہ ہم تو پہلے ہی یتیم تھے سلطان راہی خدا کے بعد ہمارا ایک ہی سہارا تھا اس کی وجہ سے ہماری دال روٹی چل رہی تھی سلطان راہی نے اپنی زندگی کا آخری فلمی سین اداکارہ صائمہ کے ساتھ 31 دسمبر کی رات کو فلم پیرو کے لیے ریکارڈ کروایا۔ (ش س م)