پلک جھپکتے ہی غائب، سپرسانک جیٹ کے چرچے دنیا بھر میں، حیران کن تفصیلات جانئے

اس جہاز کی آزمائشی پرواز2021 میں ہوگی عام مسافر دو ہزار تیس تک اس جہاز میں سفر کر سکیں گے۔آواز کی رفتار سے تیز جہاز تئیس سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مسافر نیویارک سے لندن صرف تین گھنٹے اور پندرہ منٹ میں پہنچ پائیں گے۔سپرسانک جیٹ تیار کرنے والی کمپنی کو کورونا وبا سے پہلے تک چھ ارب ڈالر کے آرڈر مل چک تھے۔

بوم سپرسانک XB-1 نامی اس طیارے کیلئے 33ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے تھے۔طیارے کاک پٹ درمیان میں لگا ہے اور انتہائی ستواں طیارے کے ڈھانچے کو دیکھ کر اس پر پنسل کا گمان ہوتا ہے۔کاک پٹ طیارے کی چونچ سے کافی دور ہونے کے باعث کمپنی نے فورکے اسکرین لگایا ہے جس پر کئی طرح کے کیمرے لگے ہیں جو پائلٹ کو سارا منظر دیکھنے میں مدد دیں گے۔طیارے کی نوک پر دو جدید ترین کیمرے نصب ہیں جو مشترکہ طور پر پورا منظر دکھاتے ہیں اور بہت دور نصب کاک پٹ میں موجود پائلٹ بالکل حقیقی منظر کی طرح پوری علاقے کو دیکھتا ہے۔طیارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جیسے ہی آواز کی رفتار سے آگے جاتا ہے تو اس سے بلند آواز والی صوتی گونج یا سونک بوم پیدا نہیں ہوتی۔