رحمان ملک اور یوسف رضا گیلانی کی اصلیت سامنے آگئی : سابق بیوروکریٹ نے پول کھول کر رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) کہنے کو تو میاں نوازشریف جمہوری وزیراعظم تھے لیکن آمریت کی نرسری میں پروان چڑھے تھے۔ کچھ مزاج شاہانہ پایا تھا۔ مہابلی اکبر کی طرح ان کے بھی پانچ رتن تھے۔ لالیکا، کانجو، چکری کا چودھری، خوشاب کے ملک نعیم اور سرفہرست ہمارے ہر دلعزیز شیخ صاحب تھے

نامور کالم نگار اور سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جو آجکل طنز و تشنیع اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ میاں صاحب کے ترکش کا سب سے مؤثر تیر تھے۔ ہمیشہ ہدف کے تعاقب میں رہتے، اُن دنوں محترم کو بڑا زچ کیا۔ نتیجتاً معتوب بھی ہوئے مگر یہ ایک الگ قصہ ہے ۔زرداری کی کابینہ میں کہنے کو تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے مگر اصل اختیار رحمان ملک کے پاس تھا۔ شاہ صاحب اپنے کام سے کام رکھتے تھے اور اس کارخیر میں سارے خاندان کو شریک کر رکھا تھا۔ ہر کسی نے حسبِ استطاعت ثواب کمایا۔ لہٰذا انہیں کسی اور کے رول پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ الطاف بھائی چونکہ کچھ زیادہ ہی DEMANDING اور زود رنج واقع ہوئے تھے لہٰذا اُنہیں پرنام کرنے اور رام کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ جیسے جیسے لندن کے باسی کے مطالبات نار جہنم کی طرح بڑھتے گئے، ویسے ویسے ملک صاحب کی ’’شٹل ڈپلومیسی‘‘ بھی تیز ہوتی گئی۔ اسی وقتی کامیابی نے ملک کو کتنا نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ تو مستقبل کا مورخ ہی لگا سکے گا۔ ملک صاحب نے بخت نصر کی طرح خود بڑی ترقی کی۔ سیالکوٹ کے تنگ وتاریک محلے سے نکل کر ایک لمبی جست لگائی۔ اس کی تفصیل ہم مناسب وقت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ۔عمران خان کی کابینہ کے دو وزراء نے بڑا نام کمایا ہے۔ فواد چودھری اور شیخ رشید صاحب، فواد چودھری صاحب کے مخالفین ان پر

طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔ کوئی انہیں مرغ باد نما کہتا ہے، ایسا پرندہ جو اقتدار کی ہواؤں کا رُخ پہچانتا ہے۔ پارٹیاں بدلنے میں اسے کافی مہارت حاصل ہے۔ جب یہ لوگ دشنام طرازی پر آتے ہیں تو انہیں ’’فساد چودھری‘‘ یا ’’فراڈ چودھری‘‘ کہنے سے بھی باز نہیں آتے۔ لیکن مخالفین ایک بنیادی بات بھول جاتے ہیں، ایسے شخص کو جو پارٹی قبول کرتی ہے وہ انکے ماضی کے باوصف ان کی صلاحیتوں کی معترف ہوتی ہے۔ کسی “TURN COURT” کو شمولیت کے ساتھ ہی اتنا بڑا عہدہ ویسے ہی نہیں دیا جاتا! فارسی زبان کا محاورہ ہے تامرد سخن نہ گفتہ باشد عیب و ہنر نہفتہ باشد۔ یہ جب بولتے ہیں تو موتی پروتے ہیں، مختصر میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ ان میں جرأت اظہار بھی ہے، طاقت گفتار بھی۔ دھیمے اور نپے تلے الفاظ میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو مخالفین پر وزنی ہتھوڑے کے مانند گرتی ہے۔ جب انہیں وزارت اطلاعات سے فارغ کرکے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بے ضرر وزارت دی گئی تو مخالفین نے سمجھا۔ سرآمد روزگارے ایں فقیرے۔ ایک شخص جو سائنس کی ابجد سے بھی واقف آشنا نہیں ہے۔ وہ کیسے مشکل وزارت چلا پائے گا۔ اخباری کالموں اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی ان کی خاصی بھد اُڑائی گئی۔لیکن کچھ عرصہ بعد ہی عوام کو محسوس ہوا کہ یہ فساد چودھری نہیں بلکہ ’’فرہاد چودھری‘‘ ہے۔ وہ تو جوئے شیر کھود کر مشہور ہوا۔ انہوں نے اس سے بھی زیادہ مشکل مسئلے کا مستقل حل نکال لیا ہے۔(ش س م)