5 رافیل طیارے فرانس سے بھارت کے لیے روانہ : مگر ان طیاروں کی خاص بات کیا ہے اور بھارت انہیں اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے کیوں بے چین ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) دنیا کے جدید ترین لڑاکا جیٹس میں شمار ہونے والے فرانسیسی طیارے رافیل آج انڈیا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور بدھ کو ان طیاروں کو امبالہ کے اڈے پر فضائیہ میں شامل کیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ انڈیا ان طیاروں کے لیے ہیمر مزائل خریدنے کے

ایک سودے کو بھی حتمی شکل دے رہا ہے۔نامور صحافی شکیل اختر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔رافیل طیارے فرانس کے میریانا فضائی اڈے سے انڈیا کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ طیارے تقریباً سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کریں گے اور راستے میں فضائی ٹینکروں کے ذریعے ہی ان میں ایندھن بھرا جائے گا۔ان طیاروں کو انڈین فضائیہ کے پائلٹس اڑا کر انڈیا لا رہے ہیں۔ دساؤ کمپنی نے انڈین فضائیہ کے پائلٹس اور انجینئرز کو اس طیارے اور اس میں نصب میزائل اور بمبز کے بارے میں مکمل تربیت فراہم کی ہے۔یہ طیارے ایک دن میں ہی انڈیا پہنچ سکتے تھے لیکن انھیں یہاں لانے سے پہلے ابوظہبی کے نزدیک فرانس کے فضائی اڈے پر اتارا گیا، جہاں سے یہ بدھ کی صبح انڈین ریاست ہریانہ میں واقع امبالہ فضائی اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔ان جہازوں کو فصائیہ میں شامل کیے جانے کی باضابطہ تقریب آئندہ مہینے کسی وقت متوقع ہے۔پیرس میں انڈین سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق فرانس نے یہ طیارے مقررہ وقت کے اندر انڈین فضائیہ کے حوالے کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پہلے بیچ میں انڈیا کو دس رافیل طیارے دیے گئے ہیں۔ جن میں سے پانچ بدھ کو انڈیا پہنچنے والے ہیں اور باقی پانچ انڈین فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت کے لیے فرانس میں ہی رہیں گے۔انڈین حکومت نے فرانس کی دساؤ رفال کمپنی سے تقریباً 58 ہزار کروڑ روپے (نو ارب ڈالر) مالیت کے 36 رفال جہاز خریدنے کا سودا 2016 میں کیا تھا۔

معاہدے کے تحت سبھی 36 طیارے سنہ 2021 تک انڈیا کے حوالے کیے جائیں گے۔ انڈیا نے جو طیارے خریدے ہیں ان میں سنگل سیٹر اور ڈبل سیٹرر دونوں ہی ساخت کے رفال شامل ہیں۔یہ طیارے ایک ایسے وقت میں انڈین فضائیہ میں شامل کیے جا رہے ہیں جب لداخ کی سرحد پر ٹکراؤ کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان زبردست کشیدگی ہے۔سرحدی ٹکراؤ کے بعد انڈیا میں چین کی ایپس پر پابندی عائد کیے جانے اور چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر روک اور سازوسامان کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔اس پس منظر میں فرانسیسی ساخت کے رافیل طیاروں کی شمولیت کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین رافیل طیارے کو گیم چینجر سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان طیاروں کی شمولیت سے انڈیا کو اونچے فضائی محاذوں پر اٹیک کرنے میں چین پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس طیارے میں جو میزائل اور بم نصب ہیں، ان کے ہدف پر وار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔اس دوران خبر ملی ہے کہ انڈیا رافیل طیاروں میں نصب کرنے کے لیے فرانس سے تباہ کن ہیمر مزائل خریدنے کا سودا بھی کر رہا ہے ۔ یہ سودا انڈیا کی فوج ’ایمرجنسی پاور‘ یعنی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے دیے گئے خصوصی اختیارات کے تحت کر رہی ہے۔یہاں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انڈیا 60 سے 70 کلو میٹر تک وار کرنے والے ان میزائلوں کی خریداری چین سے تناؤ کے مدنظر کر رہا ہے۔ ہیمر مزائل بنانے والی کمپنی سیفران الیکٹرانک اینڈ ڈیفنس کے مطابق ’ہیمر مزائل دور سے ہی آسانی سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘(بشکریہ : بی بی سی )