لوٹی ہوئی دولت واپس آنا شروع! برطانیہ کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز پاکستان کو واپس کر دیئے گئے، پوری قوم کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) برطانیہ نے ملک ریاض سے ضبط کیے گئے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کر دیے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کے دوران برطانیہ میں ضبط کیے گئے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کر دیے۔برطانوی حکام نے بتایا ہے کہ اسی طرح برطانیہ میں

لاکھوں پاونڈز گزشتہ سال میں دوسرے ترقی پذیر ممالک کو واپس کیے گئے۔یہ رقم بین الاقوامی بدعنوانی اور رشوت ستانی کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔نیشنل کرائم ایجنسی کے بین الاقوامی بدعنوانی یونٹ کے ذریعے اس سال کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی جو ملک میں بڑے اوورسیز ترقیاتی منصوبوں میں مجرمانہ نقد رقم کی فراہمی سے منسلک ہے۔ہیں۔کروڑوں پاؤنڈ سے بنائی گئی ملک ریاض کی جائیدادوں کو برطانیہ میں بھی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔برطانوی حکومت نے تحقیقات کے دوران ناجائز آمدن کے ثبوت ملنے کے بعد ملک ریاض کی اکاؤنٹس اور جائیداد منجمد کر دیے تھے۔گذشتہ سال دسمبر میں نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض سے متعلق سول تحقیقات کے بعد 190 ملین ڈالر کی سول سیٹلمنٹ پر اتفاق کیا تھا۔ملک ریاض کا شمار پاکستان میں نجی شعبے کے سب سے بڑے کارپوریٹ درجنوں میں ہوتا ہے ۔خیال رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے ملک ریاض کی 190 ملین پاؤنڈز کی پراپرٹیز منجمد کرنے کے حکم کے بعد کاروباری شخصیت ملک ریاض کا مؤقف بھی سامنے آیا تھا۔ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں قانونی اور ڈکلئیرڈ جائیداد بیچی ہے۔جائیداد کی فروخت بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رقم ادا کرنے کے لیے کی گئی۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصفیہ سول معاملہ ہے۔

جرم ثابت ہونا ظاہر نہیں کرتا۔ انہوں نے پاکستان زندہ باد کہتے ہوئے لکھا کہ مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور آخری سانسوں تک رہے گا۔ملک ریاض اس بیان کو برطانوی این سی اے کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔حقیقیت میں یہ بیان نیشنل کرائم ایجنسی کا نہیں بلکہ حکومتی پریس ریلیز کا ہے جسے شہزاد اکبر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کیا۔