کورونا سے مکمل محفوظ ملک میں بھی کورونا کا پہلا کیس۔۔۔۔۔

لندن (ویب ڈیسک) سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے کہا ہے کہ ایک شخص جس نے تین سال قبل جنوبی کوریا کا رخ کیا تھا وہ گذشتہ ہفتے سرحد کے اس پار واپس آئے تھے، اور ان میں کووڈ 19 کی علامات تھیں۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اعلی عہدیداروں کے ساتھ

ہنگامی ملاقات کی، جس کے بعد سرحدی شہر کیسانگ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔شمالی کوریا نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے ملک میں کووڈ 19 کے متاثرین نہیں ہیں- لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسا ہونے کا امکان نہیں تھا۔کے سی این اے نے کہا ’کیسونگ شہر میں ایک ہنگامی واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص جس کے وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے وہ غیر قانونی طور پر حد بندی کی لائن عبور کرنے کے بعد 19 جولائی کو واپس آگیا۔‘دوسری جانب پاکستان میں گذشتہ چند دنوں سے کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یومیہ ٹیسٹنگ کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ کیا پاکستان میں واقعی کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آئی ہے؟ کیا یہ سب حکومتی اقدامات اور سمارٹ لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے؟اس حوالے سے ماہرین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں ، یومیہ اموات کی شرح میں کمی اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ کورونا وائرس دم توڑ رہا ہے ۔ لیکن طبی ماہرین اور کوورنا کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے ڈاکٹرز اسے یومیہ ٹیسٹوں کی تعداد میں کمی کی وجہ بھی بتا رہے ہیں ۔ کورونا وائرس کے حوالے اصل صورتحال کا چند روز بعد عیدالاضحیٰ گزرنے کے بعد پتہ چلے گا ۔ ایک اور خبر کے مطابق امریکہ میں جمعے کے روز بھی 1000 سے زیادہ اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ لگاتار چوتھا روز ہے جب ایک ہزار سے زیادہ اموات پیش آئی ہیں۔گذشتہ روز امریکہ میں کم از کم 1019 افراد کورونا سے موت کے منہ میں گئے ۔ جمعرات کو 1140، بدھ کو 1135 اور منگل کو 1141 اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔جمعے کو امریکہ میں 68800 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جبکہ مجموعی تعداد اب 40 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ ایریزونا، فلوریڈا، کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں نئے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں ایک مشیر نے کہا ہے کہ انھیں ایسے اشارے ملے ہیں جن کے مطابق مغربی اور جنوبی ریاستوں میں بُرا وقت اب گزر چکا ہے۔