مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کی بطور ڈپٹی کمشنر کراچی میں تعیناتی پر شور کیوں : موصوف افسر کیسے بنے اور انہیں کس نے وفاق سے سندھ بھجوایا ؟ حیران کن انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک) صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمان کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کرنے پر نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔نامور صحافی عماد خالق بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ضیا الرحمان کو فرحان غنی کی جگہ ڈی سی سینٹرل تعینات کیا گیا جس کے بعد صوبے کی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ان اعتراضات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ حکومت کے سینیئر عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ دراصل وفاق کی جانب سے ضیا الرحمان کو ڈیپوٹیشن پر سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ افسران کو صوبے میں جہاں چاہیں تعینات کریں۔ضیا الرحمان جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے کل پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ بھائیوں میں سب سے بڑے خود مولانا فضل الرحمان ہیں، ان کے بعد عطا الرحمان، پھر لطف الرحمان، اس کے بعد ضیا الرحمان اور سب سے چھوٹے بھائی کا نام عبید الرحمان ہے۔بی بی سی کو حاصل ہونے والے دستاویزات کے مطابق ضیا الرحمان ستمبر 2007 سے قبل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں گریڈ 17 کے ملازم تھے اور انھیں اس وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے ڈپیوٹیشن پر ایڈیشنل کمشنر افغان مہاجرین تعینات کر رکھا تھا۔ستمبر سنہ 2007 میں اس وقت کے گورنر خیبرپختونخوا على محمد جان اوركزى نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے

ضیا الرحمان کو پراونشل سول سروس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیےستمبر سنہ 2007 میں اس وقت کے گورنر خیبرپختونخوا على محمد جان اوركزى نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے ضیا الرحمان کو پراونشل سول سروس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے۔جس کے بعد انھیں پراونشل منیمجمنٹ سروس میں گریڈ 17 میں تعینات کیا گیا۔ضیا الرحمان صوبہ پنجاب میں بھی مختلف عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔ سنہ 2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے انھیں او ایس ڈی بنا دیا اور بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وفاق نے جنوری 2020 میں ضیا الرحمان کو سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ضیا الرحمان کی خدمات ڈیپوٹیشن پر سندھ کو دی گئیں۔سندھ حکومت نے حال ہی میں انھیں تاحکم ثانی ڈپٹی کمشنر وسطی تعینات کیا ہے۔ جبکہ سابق ڈی سی وسطی فرحان غنی کا تبادلہ کر کے انھیں ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔صوبہ سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس تعیناتی پر پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانے کے عوض ’سیاسی رشوت‘ قرار دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف سندھ کی رہنما اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام سندھ حکومت کی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔’ایک طرف سندھ حکومت صوبے میں صوبائی ڈومیسائل پر غیر قانونی نوکریوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری جانب لوگوں کو دیگر صوبوں سے لا کر سیاسی مفادات کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔‘

صوبہ سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس تعیناتی پر پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانے کے عوض ’سیاسی رشوت‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ضیا الرحمان ڈی ایم جی گروپ سے نہیں بلکہ پراونشل منیجمنٹ سروس (پی ایم ایس) سے تعلق رکھتے ہیں اور ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ پی ایم ایس کے کسی افسر کی بین الصوبائی تعیناتی ہوئی ہو۔ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فیصل سبز واری نے اس حوالے سے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس تعیناتی پر اعتراضات کی کئی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سندھ میں بلدیاتی نظام حکومت کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ سندھ حکومت ماضی کی طرح ان من پسند ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز کا بلدیاتی چارج دے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات یہ ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتیوں کے باعث سندھ حکومت نے گذشتہ دس برس کے دوران تمام ترقیاتی کام ان کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے کروائے ہیں۔انھوں نے منتخب بلدیاتی حکومتوں کو کراچی اور حیدرآباد سے دور رکھا اور آگے بھی پیپلز پارٹی ایسا ہی ارادہ رکھتی ہے۔سندھ حکومت کے سینیئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ اپوزیشن والے جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ان کے بھائی کو نوازنے کی بات کرتے ہیں یہ بے بنیاد ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں بھی اور اب بھی افسروں کی ڈپیوٹیشن پر بین الصوبائی تعیناتیاں ہوتی ہیں، ضیا الرحمان پہلے پنجاب میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں تب شور کیوں نہیں مچا تھا۔‘وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ضیا الرحمان کی خدمات ڈیپوٹیشن پر سندھ کو دی گئیںاس حوالے سے جب تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ وفاق سے ضیا الرحمان کی خدمات لینے سے انکار کر دیتے۔‘جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ ‘وفاق کو بھی ایسے فیصلے کرتے وقت سوچنا چاہیے اور دوسرا سندھ حکومت نے ان کو ایم کیو ایم کے گڑھ ضلع وسطی میں ہی کیوں تعینات کیا؟ انھیں لاڑکانہ، خیرپور یا اندرون سندھ کہیں تعینات کر دیتی، اس سے حکومت کی بددیانتی واضح ہوتی ہے۔‘