ہیوسٹن میں قائم چینی سفارتخانہ میں امریکی ایجنٹس داخل،عالمی میڈیا چِلا اُٹھا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ٹیکساس کے سب سے بڑے شہر ہیوسٹن میں قائم چینی قونصل خانہ بند کرنے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد امریکی حکومت نے مقامی پولیس کے تعاون سے قونصل خانے کے خارجی وداخلی راستوں کو سیل کردیا جس کے بعد کالے رنگ کی دو ایس یو وی گاڑیاں‘دولاکرزگاڑیوں کے ساتھ قونصل خانے

کی عمارت میں داخل ہوگئیں گاڑیوں میں وفاقی ایجنٹ سوار ہیں پاکستان کے نجی خبر رساں ادارے کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ مناظربراہ راست نشر کیئے گئے کہ کس طرح فلمی اندازمیں امریکی وفاقی ایجنٹوں کی گاڑیاں ہیوسٹن پولیس کے ساتھ قونصل خانے ڈاﺅن ٹاﺅن کے قریب واقع مونٹریس بلیوارڈ پر واقع چینی قونصل خانے میں داخل ہوگئے قبل ازیں ہیوسٹن پولیس نے وفاقی ایجنٹس کے ساتھ عمارت کے داخلی وخارجی راستوں کے سیل کیا . چینی گارڈزکی جانب سے امریکی ایجنٹس کی اس حرکت پر کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ تصاویر اور ویڈیو کلپس میں دیکھا جاسکتا ہے امریکی ایجنٹس کی درخواست پر چینی گارڈزنے قونصل خانے کا مرکزی گیٹ بغیر کسی مذاحمت کے کھول دیا‘ سفارت خانوں اور ڈکلیئرڈ سفارتی مشنزمیں میزبان ملک کی پولیس ‘فوج یا قانون نافذکرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا داخل ہونا جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے.وکی لیکس کے بانی جولین اسانج لندن میں قائم لاطینی امریکا کے چھوٹے سے ملک ایکواڈور کے سفارت خانے میں 7سال تک پناہ گزین رہے مگر انٹرنیشنل وارنٹ ہونے کے باوجود لندن پولیس یا وفاقی ایجنٹس اسانج کی گرفتاری کے لیے ایکواڈور کے سفارت خانے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ امریکا نے ایکواڈورکی حکومت پر دباﺅ ڈال کر مجبور کیا کہ وہ جولین اسانج کا پناہ گزین کا اسٹیٹس ختم کرئے جس پر ایکوڈور کی حکومت نے دباﺅ میں آکر جولین کو راضی کیا کہ وہ سفارت خانے کی عمارت سے باہر نکل جائیں جہاں11اپریل2019کو لندن پولیس نے جولین اسانج کو ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کے الزام پر گرفتار

کرلیا.اسی طرح امریکا کے ایک افغانستان‘عراق اور پاکستان میں ”ڈرون آپریشنز“ کے انچارج اور نیشنل سیکورٹی ایجنسی(این ایس اے) کے افسر ایڈورڈ سنوڈین امریکا سے فرارہوکر اس وقت برطانیہ کے زیرکنٹرول ہانگ کانگ میں پناہ گزین ہوا مگر امریکی درخواست کے باوجود ہانگ کانگ نے سنوڈین کو امریکا کے حوالے نہیں کیا جس کے بعد وہ روس پہنچا اور 39دن تک ماسکو ایئرپورٹ پر پناہ گزین بن کر رہا جس کے بعد یکم اگست2017کو روس نے اس کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور کرلی اور اسے ماسکو منتقل کردیا گیا سنوڈین این ایس اے میں آنے سے قبل امریکی انٹیلی جنس”سی آئی اے“کے لیے بھی کام کرتا رہا ہے اس لیے جب وہ ماسکو ایئرپورٹ پر پناہ گزین تھا تو امریکی بار بار ماسکو سے سنوڈین تک رسائی مانگتے رہے مگر روس کا جواب ایک ہی رہا کہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کرئے گا .ماہرین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اٹھایا جانے والا اقدام انتہائی غیرمعمولی ہے جس کی مہذب معاشروں میں مثال نہیں ملتی امریکی حکام کا موقف ہے کہ وفاقی اداروں کو مطلوب ایک چینی خاتون سائنسدان ہیوسٹن میں قائم چینی قونصل خانے میں پناہ گزین ہے جس کی حوالگی کے لیے امریکا نے واشنگٹن میں چینی سفارت خانے سے متعدد مرتبہ درخواست کی گئی تاہم سفارت خانے نے امریکی الزامات کو ہمیشہ ردکیا ہے.مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے بڑھی کشیدگی سے حالات عالمی جنگ کی طرف جاسکتے ہیں اور موجودہ حالات میں امریکا کو جنگ سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے اس لیے وہ چین سے چھیڑچھاڑکررہا ہے پچھلے دنوں امریکا اور بھارت کی مشترکہ جنگی مشقوں کے دوران بھی بیان

بازی کا سلسلہ جاری رکھا ہے مگر امریکا نے بیان بازی خود کرنے کی بجائے بھارت کو آگے رکھا .بحیرہ ہند کے پانیوں میں ہونے والی مشقیں ماہرین کے نزدیک جنوبی چین تک رسائی کے لیے ہیں جبکہ رواں سال کے آخرمیں ہی امریکا نے آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ خلیج بنگال میں بحری مشقیں کرنے کا اعلان کررکھا ہے ‘اسی طرح فرانس سے رافیل جنگی جہازوں کی کھیپ کے بعد 60سے70میل تک مار کرنے والے ”ہیمرمیزائیلوں “کا بھی معاہدہ کیا ہے‘بھارت کے ساتھ جنگی مشقوں میں امریکہ کا سب سے بڑا جنگی بحری بیڑا بھی شامل ہے جس میں ٹکونڈریگا کلاس گائڈڈ میزائل جہاز- یو ایس ایس پرنسٹن، اور میزائل تباہ کرنے والے جنگی جہاز یو ایس ایس اسٹریٹ اور یو ایس ایس رالف جانسن بھی شامل ہیں‘اسے ”سپر کیریئر“کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے‘جوہری طاقت سے لیس اس جنگی بحری جہاز کو امریکی بحریہ میں سنہ 1975 میں کمیشن کیا گیا تھا .اس کا نام امریکی بحریہ کے تیسرے فلیٹ ایڈمرل کمانڈر چیسٹر نیمتز کے نام پر رکھا گیا ہے جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا ابتدا میں نیمتز کا نورفولک میں لنگر انداز تھا لیکن اب اس کا پڑاﺅ سرکاری طور پر کٹسیپ کے بحری اڈے پر ہے لیکن اپریل میں اس جنگی جہاز کے لوگ بھی کورونا وائرس کی گرفت میں آگئے جس کی وجہ سے اسے 27 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا پھر رواں ماہ کے اوائل میں نیمتز کو ایک بار پھر بحیرہ جنوبی چین میں تعینات کیا گیا .اس جنگی جہاز کو 2022 میں اس وقت

ہٹا لیا جائے گا جب اس سے بھی زیادہ جدید ”جیرالڈ آر فورڈ کلاس“ جنگی جہاز یو ایس ایس جان ایف کینیڈی اس کی جگہ لے گا لیکن ابھی تک اس کے متعلق فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ہیوسٹن کے چینی قونصل خانے میں امریکی وفاقی ایجنٹوں کا داخل ہونا غیرملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتا ہے لگتا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ اب ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے‘ دو عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو اپنے اپنے ملکوں سے نہ صرف نکال رہی ہیں بلکہ قونصل خانوں کو بھی بند کیا جا رہا ہے امریکا کی جانب سے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کے جوابی اقدام کے طور پر چین نے چینگڈو میں امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا ‘امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف یہ اقدام ’امریکی شہریوں کے انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اور ان کی نجی اطلاعات کو محفوظ بنانے کے لیے کیا جبکہ چین نے کہا ہے کہ امریکی قونصل خانے کو بند کر کے چین نے امریکہ کے خلاف جائز اور ضروری جواب دیا ہے‘ چین تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتا اور ان حالات کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے .چین نے چینگڈومیں جس قونصل خانے کو بندکرنے کا حکم دیا ہے وہ 1985 میں قائم کیا گیا تھا اور اِس وقت اس میں دو سو کے قریب امریکی اہلکار کام کر رہے تھے جن میں 150 مقامی لوگ ملازم ہیں. امریکہ کے لیے چینگڈو کا قونصل خانہ تزویراتی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل رہا ہے تبت کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ قونصل خانہ

امریکہ کو چین کے خود مختار خطے تبت سے معلومات حاصل کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے تبت میں زیرزمین آزادی کی تحریک چل رہی ہے .امریکہ نے چین پر الزام تو معلومات اور اطلاعات چرانے کا عائد کیا ہے لیکن اس اعلان کے وقت کسی ایسے واقعے کی نشاندہی نہیں کی جس کی وجہ سے ہیوسٹن کے قونصل خانے کو بند کیا گیا ہے تاہم امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹیگس نے کہا کہ چین امریکہ کے اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی کر رہا ہے. ہیوسٹن میں چینی سفارت خانے کے حوالے سے واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت میں چین پر وسیع الزامات پر مبنی ایک فردِ جرم عائد کی گئی کہ جس میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی ہدایات پر امریکی نجی اداروں کی ہیکنگ کی گئی اور ان کے انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس چرائے گئے ہیں جس سے امریکہ بھر میں اور دوسرے ممالک میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں.چین کی جوابی کارروائی کے اعلان سے قبل ایک امریکی تجزیہ کار اور سی آئی اے کے سابق اہلکار فیریفیفر نے کہا تھا کہ اگر چین ہیوسٹن کے قونصل خانے کے جواب میں ووہان یا اس جیسے کسی اور شہر میں امریکی سفارتی عمارت کو بند کرتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ چین کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا البتہ اگر چین نے ہانگ کانگ یا شنگھائی میں امریکی سفارت خانہ بند کیا تو یہ کشیدگی میں اضافے کی سمت ایک اقدام سمجھا جائے گا.اسی دوران امریکہ نے چار چینی سائنسدانوں گرفتار کیا جن میں ایک پر ویزا فراڈ کا الزام ہے

امریکی حکام کے مطابق چینی سائنسدان، تانگ جوان کا تعلق چین کی فوج پیپلز لبریشن آرمی سے ہے جہاں وہ میجر ہیں انہوں نے اپنی ویزا کی درخواست میں اپنے فوجی ہونے کا ذکر نہیں کیا تھا‘امریکی حکام نے ان کی گرفتاری کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ آیا انہوں نے رضاکارانہ گرفتاری دی ہے میجر تانگ جوان اب تک سان فرانسسکو میں چینی قونصل خانے میں پناہ لیے ہوئے تھیں.امریکی تحقیقی ادارے کیٹو انسٹیٹیوٹ کے مطابق دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے قونصل خانوں کو بند کرنا دراصل ان دونوں کے درمیان باہمی اعتماد کی کمی کا رجحان ظاہر کرتا ہے‘’قونصل خانوں کے بند کرنے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ یہ سفارت کاری کے لیے نقصان دہ ہے چینگڈو میں امریکی سفارت خانے کی بندش سے امریکہ کی مقامی معلومات تک رسائی کم ہو جائے گی.حال ہی میں جن نئے معاملات میں دونوں ملکوں نے کشیدگی کے میدان سجائے ہیں ان میں ایک تو ہانگ کانگ کی امتیازی حیثیت ہے اور دوسرا کووِڈ-19 کا مسئلہ ہے ماہرین کا ایک حصہ کہتا ہے کہ ہانگ کانگ کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ ماہرین کے دوسرے حصے کا خیال ہے کہ ہانگ کانگ ایک معاہدے کے نتیجے میں چین کے حوالے ہوا تھا جس کی پاسداری کرنا چین کی ذمہ داری ہے.لیکن موجودہ حالات میں دکھائی دے رہا ہے کہ ہانگ کانگ اپنی حیثیت میں ایک مسئلے کی بجائے اب عالمی طاقتوں کے درمیان نئی سرد جنگ کا ایک مہرہ بن گیا ہے اسی طرح کووِڈ-19 کو

ایک انسانی اور سائنسی معاملہ سمجھا جانا چاہیے تھا اور ابتدائی دور میں سمجھا بھی گیا لیکن اب یہ معاملہ بھی چین اور امریکہ کے درمیان جنگ کے نئے مہرے کے طور پر استعمال ہوتا نظر آرہا ہے.سائنس دانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ کووِڈ-19 جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور وبا اس کے بعد پھوٹی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اصرار کرتے ہیں کہ یہ وبا چینی سائنسی اداروں سے نکلی وہ اب تک اپنے دعوے کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت نہیں دے سکے ہیں‘چینی ریڑیم کے نظریات کی ترجمانی کرنے والے میڈیا ادارے ’‘گلوبل ٹائمز‘ ‘نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کئی اور میدانوں میں بھی بڑھ رہی ہے.سرد جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گلوبل ٹائمز اپنے ایک حالیہ شمارے میں لکھتا ہے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات ہانگ کانگ، جنوبی چین کے سمندر، ہواوے اور سنکیانگ کے معاملوں کی وجہ سے کشیدہ ہوتے جار رہے ہیں، تو اب ایسے خدشات کے سیاہ بادل سر پر منڈلا رہے ہیں کہ سرد جنگ ایک باقاعدہ فوجی تصادم کی صورت اختیار کرلے. کئی چینی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کو ماضی کی سرد جنگ کے زمانے کے حریف کے طور پر دیکھنا اور پھر چین کے خلاف نفرتوں کو ہوا دینا ایسے حربے ہیں جو امریکی جنگجو (ہاکس) چین کے خلاف ایک رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کر ر ہے ہیں تاکہ اس برس ہونے والے امریکی انتخابات کو متاثر کیا جا سکے‘بین الاقوامی تعلقات کے کئی ماہرین اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ اضافہ امریکہ کی اندرونی انتخابی سیاست کی وجہ سے ہے.