مودی سرکار نے دونوں ملکوں پر بھونڈا الزام عائد کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چین سے شکست کھانے والے اور ایران چین معاہدے کے نتیجے میں زبردست نقصان اٹھانے کے ساتھ سفار تکاری کے میدان میں ناکامی کے بعد اب بھارت نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے چین اور پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ دونوں ممالک مل کر بھارت کے خلاف

حیاتیاتی ہتھیاروں پر تحقیق کر رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تین سال کا معاہدہ ہوا ہے جس میں جان لیوا اینتھریکس وائرس پر تحقیق کے بھی کئی منصوبے شامل ہیں۔معاہدے میں ابھرتے وبائی امراض پر تحقیق میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے گا اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے والی بیماری پر مفصل تحقیق کی جائے گی۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ووہان انسٹیٹیوٹ پاکستانی سائنسدانوں کو کو وسیع پیمانے پر تربیت دے رہا ہے کہ کس طرح پیتھوجنز اور بائیو انفارمیٹکس میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں تاکہ پاکستانی سائنسدان وائرس کا اپنا کلیکشن ڈیٹابیس تیار کرسکیں۔دوسری جانب بھارت کی چین اور نیپال سے کشیدگی کے دوران پاکستان کے بنگلہ دیش سے بڑھتے تعلقات سے بھارت پریشان، ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنگلہ دیشی ہم منسب سے 15منٹ تک طویل گفتگو اور پاکستان آنے کی دعوت پر بھارتی ادارے پریشانی کا شکار ہیں۔ق چند ہفتے قبل بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن اور ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد اس وقت سمجھ آیا جب بدھ کی دوپہر پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے دفتر نے ٹویٹ کر کے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سے طویل گفتگو کی ہے۔شیخ حسینہ کے پریس سیکریٹری احسان الکریم کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 15 منٹ طویل گفتگو ہوئی۔ بنگلہ دیش کے ساتھ روابط میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دونوں ممالک کے ‘مذہب اور ثقافت ایک ہیں۔’ پاکستانی ہائی کمشنر نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ‘ہم اپنے برادر ملک بنگلہ دیش کے ساتھ تمام شعبوں میں ایک مضبوط رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ حالات میں بھارت بے چینی کا شکار ہے۔ بھارت کے ڈھاکہ میں سابق ہائی کمشنر اور سابق خارجہ سیکریٹری پیناک رانجن چکربورتی کا کہنا ہے کہ ‘بنگلہ دیش میں ہمیشہ سے ایک ایسا دھڑا رہا ہے جو پاکستان سے قریبی تعلقات چاہتا ہے اور وہ پاکستان سے علیحدگی کے بھی حق میں نہیں تھا۔‘