اُمت مسلمہ کیلئے تاریخی لمحات !!! آیا صوفیہ میں امام نے تلوار تھام کر خطبہ کیوں دیا؟ جان کر آپکا دل بھی باغ باغ ہوجائے گا

استنبول(ویب ڈیسک) ترک وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے آیا صوفیا میں خطبہ جمعہ تلوار ہاتھ میں تھام کر دیا۔ انہوں نے تلوار تھامے خطبہ دیا جو خلافت عثمانیہ کے دور کی ایک روایت ہے اور فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ پروفیسر علی ایرباش نے الٹے ہاتھ میں تلوار پکڑی جو

ایک طرف تو دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری کرنے اور دوسری طرف اتحادیوں کو تقویت اور اعتماد دینے کا پیغام دیتی ہے۔ نماز جمعہ کی تقریب کے دوران روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔ ترک صدر، ترکی کی اعلیٰ حکومتی شخصیات اور اراکین پارلیمنٹ بھی نماز جمعہ میں شریک ہوئے، ترک صدرنے نمازِ جمعہ ادا کرنے سے پیشتر سورۃ فاتح اور سورۃبقرہ کی پہلی 5 آیات کی تلاوت کی۔ امام علی ایرباش نے تلوار تھام کرخطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’الحمداللہ ہماری قوم کو گہرائیوں سے متاثر کرنے والی یہ حسرت اب نکتہ پذیر ہو رہی ہے، اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ آیا صوفیہ کو عبادت کے لیے کھولا جانا مسجد اقصی سمیت پوری دنیا میں مظلوم مسلمانوں اور مساجد کے لیے آب حیات کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس کے دروازے تمام تر مساجد کی طرح بلا کسی تفریق بازی کے تمام تر بنی نو انسانوں کے لیے کھلے رہیں گے۔ اس مسجد کے معنوی او ر روحانی ماحل میں ماضی کی جانب سفر بلا کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ اس موقع پر کرونا وبا کی وجہ سے سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے۔ 18 ہزار پولیس اہلکاروں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھےجبکہ 800 ڈاکٹرز اور 110 ایمبولینسز طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تعینات رہے۔