بریکنگ نیوز: حکومتی اتحادی چوہدری برادران بھی دھر لیے گئے ۔۔۔۔ کتنی بڑی کرپشن ثابت ہو گئی ؟ حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دینےوالی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) نیب نے کہا ہے کہ چودھری برادران نے بےنامی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی، چودھری شجاعت کے بیٹوں کے اکاؤنٹس میں باہر سے581 ملین ٹرانسفر ہوئے،پرویز الٰہی کی فیملی نے بےنامی اکاؤنٹس سے 978 بلین وصول کیے،چودھری برادران نے تاحال اثاثوں کے ذرائع نہیں بتائے،ان کی درخواست ضمانت

خارج کی جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے چودھری برادران کے اثاثوں سے متعلق انکوائری رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی ہے۔نیب نے لاہورہائیکورٹ کو بتایا کہ چودھری برادران تاحال اثاثوں کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں۔ آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ چودھری برادران کیخلاف قبل ازگرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کی جائے۔نیب کی رپورٹ کے مطابق چودھری برادران نے بےنامی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔ چودھری شجاعت کے بیٹوں نے بھی بے نامی اکاؤنٹس سے بھاری رقم وصول کی۔بیٹوں کے اکاؤنٹس میں بیرون ملک سے 581 ملین سے زائد ٹرانسفر ہوئے۔ بیٹوں کے اکاؤنٹس میں بیرون ملک سے بھیجی رقم کے ثبوت نہیں ہیں۔ چودھری شجاعت اور بیٹوں نے مختلف کمپنیوں کو ڈیڑھ ارب سے زائد قرضہ دیا۔ اسی طرح پرویز الٰہی کی فیملی نے بے نامی اکاؤنٹس سے 978 ملین وصول کیے۔ چودھری پرویزالہٰی نے 250 ملین کی جائیداد خریدی۔ پرویز الٰہی اور فیملی کے 1985سے 2018ء تک اثاثے 4.069 بلین کا اضافہ ہوا۔چودھری برادران سے زائد اثاثوں کے بارے تحقیقات جاری ہیں۔ نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ 1985ء میں چودھری شجاعت اور ان کی فیملی کے اثاثے21 لاکھ تھے، جو کہ 2019ء میں چودھری شجاعت اور ان کی فیملی کے اثاثے 51 کروڑ 84 لاکھ ہوگئے۔ چودھری برادرا ن نے بیرون ملک سے پاکستان میں پیسا منگوایا۔ بے نامی اکاؤنٹس استعمال کرکے منی لانڈرنگ کی۔ چودھری برادران نے 5 بےنامی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کی۔ چودھری برادران نے 5 بےنامی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کی۔