ایمانداری اور حب الوطنی کا لیول چیک کیجیے : موصوف کے پاکستانی اکاؤنٹس میں 25 ہزار روپے جبکہ باقی سارا سرمایہ ڈالرز اور درہم کی صورت میں بیرون ملک کے بنکوں میں پڑا ہے ۔۔۔۔۔ جاوید چوہدری نے کپتان کے قریبی ساتھی کے پول کھول دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خان نے آدھی کابینہ غیر منتخب مشیروں کے حوالے کر دی‘ ان ’’نان الیکٹڈ‘‘ حکمرانوں میں چار معاونین خصوصی کے پاس دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ ہیں جب کہ دیگر تین مستقل رہائشی ہیں مثلاً ذلفی بخاری وزیراعظم کے انتہائی قریبی دوست ہیں

‘ یہ بلاشبہ ارب پتی ہیں ‘ ان کا سب کچھ برطانیہ میں محفوظ ہے‘ یہ ’’برٹش بارن‘‘ ہیں‘ ان کے پاس اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت ہے‘ یہ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے نگران بھی ہیں اور یہ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین بھی ہیں گویا یہ پاکستان میں سیاحتی پالیسی بھی بنا رہے ہیں۔افرادی قوت کا قبلہ بھی ٹھیک کر رہے ہیں اور یہ بیرون ملک موجود ایک کروڑ پاکستانیوں کے مقدر کا فیصلہ بھی کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کیا یہ ان تینوں شعبوں کے ایکسپرٹ ہیں‘کیا یہ مائیگریشن‘ سیاحت اور ہیومین ریسورس کے پروفیسر رہے ہیں یا انھوں نے دس بارہ ملکوں کے یہ شعبے ٹھیک کر دیے ہیں یا پھر یہ بین الاقوامی سطح کی کوئی سیاحتی کمپنی چلا رہے ہیں؟ جب کہ حقیقت تو یہ ہے ان کا ان تینوں شعبوں میں کوئی تجربہ بھی نہیں اور یہ برطانیہ کے شہری بھی ہیں‘ان کی واحد کوالی فکیشن وزیراعظم سے دوستی ہے‘ یہ اگر واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں یا ان کے اندر ملک کی خدمت کے ابال آرہے ہیں تو پھر یہ برطانوی پاسپورٹ پر لات مار کر ہمیشہ کے لیے پاکستان آ جائیں‘ الیکشن لڑیں اور ملک کی خدمت کریں‘ یہ کس کیپسٹی میں تجربے اور تعلیم کے بغیر تین تین عہدوں کو انجوائے کر رہے ہیں‘ حفیظ شیخ وزارت خزانہ چلا رہے ہیں۔ان کی مستقل رہائش بھی امریکا میں ہے‘ یہ ساڑھے 13 کروڑ روپے کے مالک ہیں لیکن آپ پاکستان سے ان کی دل چسپی کا لیول ملاحظہ کیجیے‘ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 16 ہزار روپے اور دوسرے میں 9 ہزار روپے ہیں باقی سارا سرمایہ ڈالرز اور درہم میں ہے

گویا ملک کے سیاہ و سفید کے مالک کو خود پاکستانی کرنسی پر اعتماد نہیں‘ یہ پوری دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن اپنا سرمایہ ڈالرز اور درہم میں رکھتے ہیں‘ یہ پاکستانی قانون کے تحت پارلیمنٹ میں بجٹ پیش نہیں کر سکتے لیکن سارا بجٹ ان کے رحم و کرم پر ہے‘ یہ ملک کی مضبوط ترین وزارت کے مالک ہیں‘ ندیم بابر پٹرولیم کے معاون خصوصی ہیں۔یہ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں ‘ یہ بجلی بنانے والے اداروں کے ایڈوائزر بھی ہیں اور مالک بھی اور ان کا محکمہ ان اداروں کو فرنس آئل اور گیس بھی دیتا ہے اور ادائیگیاں بھی کرتا ہے‘ تانیا ایدرس ملک کو سوشل میڈیا ایج میں لے جارہی ہیں‘ یہ کینیڈا کی پیدائشی شہری ہیں‘ان کی مستقل رہائش سنگا پور میں ہے جب کہ ملک میں ان کا کوئی اثاثہ نہیں‘ شہزاد سید قاسم توانائی کے معاون خصوصی ہیں‘ یہ امریکی شہری ہیں اور توانائی کی وزارت ملک کی مہنگی ترین وزارت ہے‘ ڈاکٹر معید یوسف قومی سلامتی کے معاون خصوصی ہیں‘ ان کے پاس امریکا کی ریذیڈنسی ہے‘ ڈاکٹر شہباز گل گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور ہمارے دوست ندیم افضل گوندل کے پاس کینیڈا کی ریذیڈنسی ہے۔ہمارے ذہن میں یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں‘ کیا اقامہ بڑا جرم ہے یا دوسرے ملکوں کی شہریت؟ ہم نے اقامہ ہولڈروں کو ہیوی مینڈیٹ کے باوجود اٹھا کر وزارتوں سے باہر پھینک دیا تھا اور عمران خان نے اس پر تالیاں بجائی تھیں لیکن آج ان کے دائیں بائیں دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ ہولڈرز بیٹھے ہیں اوریہ وزیراعظم کو جچ رہے ہیں! کیا یہ لطیفہ نہیں؟ وزیراعظم کی نظر میں مچھر حرام تھا اور ہاتھی حلال ہو چکا ہے‘ ہم اسے کیا سمجھیں؟ دوسرا یہ مشیر اگر واقعی ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور یہ پاکستان کی مدد کے لیے اپنا آرام‘ عیش اور شان دار زندگی چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے ہیں تو کیا پھر یہ دارالامن کی محبت میں ’’کافروں‘‘ کی شہریت نہیں چھوڑسکتے؟ اگر انھیں پاکستان پر اتنا ہی یقین ہے تو پھر یہ ریذیڈنسی‘ گرین کارڈ اور سرخ پاسپورٹ پھاڑیں اور گرین پاسپورٹ پر اعتماد کریں لیکن یہ خود تو اپنے پاسپورٹ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن ہمیں روز حب الوطنی کا درس دیتے ہیں‘ یہ کیا تماشا ہے؟ آپ آخر کتنی دیر اپنے صابن کو مکھن ثابت کرتے رہیں گے!۔