اگر یہ کام کیا ہوتا تو 26 فروری کو آپ کے طیارے دو درخت اور ایک کوے کو ٹچ کرکے واپس نہ جاتے بلکہ کچھ نہ کچھ کرکے ہی جاتے ۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر نے بھارتیوں کو حیران کن طعنہ دے دیا ، معلومات سے بھر پور تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ نے جب غیر مسلح ڈرونوں سے مسلح ڈرونوں تک سفر کی بالائی منازل طے کر لیں تو ہم جیسے ممالک بھی اس طرف آئے۔ آج پاکستان میں بھی مسلح ڈرون تیار کئے جا رہے ہیں۔

یہ ایک جدید ترین (Latest) وار ٹول ہے۔مغربی یورپ کے ممالک، روس اور چین بھی امریکی تقلید کر رہے ہیں۔ انڈیا بھی اپنی تگ و دو میں لگا ہوا ہے کیونکہ اس کا ایک تلخ تجربہ اسے حالیہ لداخ کے سٹینڈ آف میں ہو چکا ہے۔لداخ کی اس جھڑپ میں چین کی طرف سے جاسوسی (غیر مسلح) ڈرونوں کا عام استعمال کیا گیا۔ انڈیا نے بھی اس طرف دھیان ضرور فرمایا لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ چین اس فیلڈ میں اس کو آؤٹ سمارٹ کر چکا ہے۔ ڈرون ایسے علاقوں کی ریکی کے لئے نہایت موزوں ہے جو انسانی رسائی میں نہیں ہوتے۔ مزید برآں ان علاقوں میں پٹرولنگ (گشت) بھی اب ممکن ہو چکی ہے جو انتہائی دشوار گزار تصور کئے جاتے ہیں۔ وادی ء گلوان اور پاگونگ جھیل اسی قسم کے علاقوں میں شامل ہیں۔ انڈیا ان علاقوں میں ریکی اور گشت کے سلسلے میں چین کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔انڈیا کے پاس اس وقت جو جدید ترین مسلح (یا غیر مسلح) ڈرون ہیں ان کا نام حیرون (Heron) ہے اور یہ اسرائیل سے خریدے گئے ہیں۔ اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز، حیرون اور ریسرچر نامی ڈرونوں کو کئی دوسرے ملکوں کے علاوہ بھارت کو بھی فروخت کرتی ہیں۔ حیرون کی لمبائی 28فٹ ہے، اس میں 250کلو گرام وزن اٹھانے کی صلاحیت ہے، اس کی رفتار 200میل فی گھنٹہ ہے، یہ 10ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے اور لگاتار 52 گھنٹوں تک فضا میں محو پرواز رہ سکتا ہے۔اسرائیل سے درآمد کردہ دوسرا ڈرون ریسرچر ہے

جو سطح سمندر سے 6100میٹر تک کی بلندی پر جا سکتا ہے۔ لیکن لداخ ایریا میں اس ڈرون کا استعمال اتنا موثر اور کارگر نہیں۔اس وقت انڈیا کے ترکش میں 70عدد حیرون موجود ہیں۔ انڈیا خود بھی ڈرون سازی میں ’مبتلا‘ ہے اور اس کے بڑے ڈرون کا نام ’رستم‘ ہے۔ (اس کے مقابلے میں پاکستان میں جو ڈرون ڈویلپ کئے جا رہے ہیں ان میں سب سے کامیاب ڈرون کا نام ’براق‘ ہے جس کا تجربہ تین برس پہلے شمالی وزیرستان میں شوال کی پہاڑیوں پر کیا جا چکا ہے)چین میں ڈرون سازی کے وسیع کارخانے ہیں اور دنیا بھر میں اسے ڈرون فروشی میں باقی ملکوں کے مقابلے میں سبقت حاصل ہے۔ اسرائیل ساختہ حیرون کے مقابلے میں چین کے پاس جو ڈرون ہے اس کا نام GJ-2s ہے۔ اس کی لمبائی 11میٹر ہے، یہ 480کلو گرام تک لوڈ اٹھا سکتا ہے اور اس لوڈ میں 40، 40 کلوگرام کے 12میزائل یا بم لے جائے جا سکتے ہیں، اس کی رفتار 380کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ 9000میٹر تک کی بلندی پر اڑ سکتا ہے…… دوسرے لفظوں میں یہ ڈرون، حیرون سے زیادہ تیز رفتار اور بہتر طور پر مسلح ہے۔ پاکستان نے چین سے 48عدد یہ GJ-2sخریدے ہیں …… عام پاکستانی قارئین صرف یہ جانتے ہیں کہ انڈیا ایل او سی پر ”ننھے ننھے“ کواڈ کاپٹر بھیجتا رہتا ہے اور پاکستان آرمی انہیں کبھی سرحد سے ایک فرلانگ کے اندر آنے پر گرا لیتی ہے اور کبھی دوفرلانگ تک…… اور بس……!! لیکن پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس اپنے ہاں تیار کردہ (بّراق / رستم) اور اپنے دوستوں سے خرید کردہ

(GJ-20s/حیرون)ان چھوٹے چھوٹے غیر مسلح ڈرونوں سے کہیں بڑے اور پاور فل مسلح ڈرونوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ 30ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے ان ڈرونوں کو اگر حریف کی جاسوسی کے لئے بھی استعمال کیا جائے تو اس کاوش کی حدود کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔انڈیا نے گزشتہ برس 26فروری کو بالاکوٹ پر جو فضائی حملہ کیا تھا، معلوم ہوتا ہے کہ اس ایریا کی ریکی نہیں کی گئی تھی۔ اگر کسی حیرون کو استعمال کرکے بالاکوٹ کی ریکی کر لی ہوتی تو انڈین ائر فورس کے طیارے چند درختوں اور ایک کوےّ مار کر واپس نہ بھاگتے اور دنیا بھر کی رسوائی مول نہ لیتے!چین کی PLA، تبت میں ان ڈرونوں کو استعمال کرتی رہی ہے اور ان کو لائیو ایکسرسائزوں میں لائیو ایمونیشن کے ساتھ استعمال میں لاتی رہی ہے۔ ان ڈرونوں میں مختلف قسم کے گائیڈڈ میزائل اور بم بھی استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات سے ہٹ کر ان ڈرونوں کے دوسرے استعمالات بھی روبہ کار لائے جاتے رہے ہیں۔مثلاً ان ڈرونوں کے علاوہ چھوٹے غیر مسلح ڈرون استعمال کرکے خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں اپنے صف بند ٹروپس کو کھانا پہنچانا اور اسی طرح ادویات اور ہلکا ایمونیشن بھی ان چھوٹے ڈرونوں میں لاد کر ان سے وہ کام لیا جاتا رہا ہے جو اب تک انڈین آرمی سیاچن، کارگل اور لداخ (دولت بیگ اولدی) میں نہیں لے سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا کے پاس جو حیرون ہیں ان کی بلندی کی رینج وہ نہیں جو چینی ڈرونوں کی ہے۔امریکی ریپر اور پری ڈیٹر نامی مسلح ڈرون بہت مہنگے ہیں اور انڈیا فی الحال ان کو خریدنے کا پروگرام نہیں رکھتا۔ پاکستان آرمی نے چین سے جو 48عدد CJ-2s خریدے ہیں ان کے استعمال کی کوئی سُن گُن ابھی تک نہیں ملی۔ شائد مستقبل کی وارز کی پلاننگ میں ان کا رول بھی وہی ہو جو PLAکے انہی ڈرونوں کا ہے!(ش س م)

اگر یہ کام کیا ہوتا تو 26 فروری کو آپ کے طیارے دو درخت اور ایک کوے کو ٹچ کرکے واپس نہ جاتے بلکہ کچھ نہ کچھ کرکے ہی جاتے ۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر نے بھارتیوں کو حیران کن طعنہ دے دیا ، معلومات سے بھر پور تحریر” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں