پہلے میں زندہ رہنا چاہتا تھا مگر اب نہیں ۔۔۔۔!!! زندگی کے آخری ایام میں وزیراعظم لیاقت علیخان سے ملاقات کے بعد قائداعظم نے فاطمہ جناح سے یہ بات کیوں کہی ؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) 30 جولائی 1948 کو جناح کے ڈاکٹرز زیارت پہنچ گئے۔ اس سے ایک دن پہلے بابائے قوم کی دیکھ بھال کے لیے کوئٹہ سے ایک تربیت یافتہ نرس، فلس ڈلہم کو بھی زیارت بلوایا جا چکا تھا۔ اب خدا خدا کرکے جناح کا باقاعدگی سے علاج شروع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے کہ

اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔نامور مضمون نگار عقیل عباس جعفری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ’مائی برادر‘ میں قلم بند کیا تھا۔ انہوں نے یہ کتاب جی الانا کی مدد سے تحریر کی تھی۔محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھا: ’جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الٰہی بخش کا مؤقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔‘فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیں: ’میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔‘

چند منٹ بعد انھوں نے اپنی بہن سے کہا: ’نیچے جاؤ۔۔۔ وزیراعظم سے کہو میں اس سے بھی ملوں گا۔‘فاطمہ جناح نے بھائی سے گزارش کی کہ ’بہت دیر ہوچکی ہے، آپ ان سے صبح مل لیجیے گا۔‘ مگر جناح نے حکم دیا ’نہیں۔۔۔ اسے ابھی آنے دو، وہ خود آخر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔‘وہ لکھتی ہیں: ’دونوں کی ملاقات آدھے گھنٹے جاری رہی۔ جونہی لیاقت علی خان واپس نیچے آئے تو میں اوپر اپنے بھائی کے پاس گئی۔ وہ بری طرح تھکے ہوئے تھے اور ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انھوں نے مجھ سے پھلوں کا جوس مانگا اور پھر چوہدری محمد علی کو اندر بلوا لیا جو 15 منٹ تک ان کے پاس رہے۔ پھر جب وہ دوبارہ تنہا ہوئے تو میں اندر ان کے پاس گئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ جوس یا کافی کچھ لینا پسند کریں گے مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ کسی گہری سوچ میں محو تھے۔ اتنے میں رات کے کھانے کا وقت ہوگیا۔ بھائی نے مجھ سے کہا ’بہتر ہے کہ تم نیچے چلی جاؤ اور ان کے ساتھ کھانا کھاؤ۔‘’نہیں،‘ انھوں نے زور دے کر کہا، ’میں آپ ہی کے پاس بیٹھوں گی اور یہیں پر کھانا کھالوں گی۔‘’نہیں،‘ بھائی نے کہا، ’یہ مناسب نہیں ہے۔ وہ یہاں ہمارے مہمان ہیں، جاؤ اور ان کے ساتھ کھانا کھاؤ۔‘اس کے بعد فاطمہ جناح لکھتی ہیں: ’کھانے کی میز پر میں نے وزیراعظم کو بہت خوشگوار موڈ میں پایا۔ وہ لطیفے سنا رہے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے جبکہ میں بھائی کی صحت کے لیے خوف سے کانپ رہی تھی

جو اوپر کی منزل میں بستر علالت پر پڑے ہوئے تھے۔ کھانے کے دوران چوہدری محمد علی چپ چاپ کسی سوچ میں گم رہے۔ کھانا ختم ہونے سے پہلے میں اوپر چلی گئی۔ جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو بھائی مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے ’فاطی، تمہیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔‘ میں نے اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی بڑی کوشش کی جو میری آنکھوں میں امڈ آئے تھے۔‘سترہ اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم‘۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمٰن کے ایک خط کا حوالہ دیا۔اس خط میں ایم اے رحمٰن نے انھیں لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا۔ اس روایت کے مطابق ’قائد اعظم پر دوا کا اثر بڑا موافق ہو رہا تھا اور وہ بتدریج صحت یاب ہو رہے تھے۔ ایک روز لیاقت علی خان قائداعظم سے ملنے کے لیے زیارت آئے۔ وہ ان کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹہ رہے۔ اسی دوران دوا کھلانے کا وقت آگیا لیکن میرے والد اندر جاکر قائداعظم کو دوا نہیں دے سکتے تھے کیونکہ اندر جو ملاقات ہو رہی تھی وہ بے حد خفیہ تھی۔ چنانچہ وہ باہر انتظار کرتے رہے تاکہ ملاقات ختم ہوتے ہی وہ قائداعظم کو دوا کھلا سکیں۔‘’جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فوراً کمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ

قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔‘ہمایوں خان نے مزید بتایا: ’قائداعظم کے انتقال کے فوراً بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلاوا بھیجا۔ لیاقت علی خان نے ان سے پوچھا کہ اس روز زیارت میں جب میں کمرے سے باہر نکل آیا اور آپ اندر گئے تو قائداعظم نے آپ سے کیا بات کی تھی۔ میرے والد نے لیاقت علی خان کو بہترا یقین دلانے کی کوشش کی قائد نے آپ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو کے بارے میں مجھ سے قعطاً کوئی بات نہیں کی تھی سوائے اس کے کہ اس کے بعد قائد نے دوا کھانی بند کر دی تھی، لیکن میرے والد کے اس جواب سے لیاقت علی خان کو تسلی نہیں ہوئی۔‘’لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کو، سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘یہ ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش کے صاحبزادے، ہمایوں خان کی بیان کردہ روایت ہے جو ہم تک اے آر رحمٰن اور شریف الدین پیرزادہ کے توسط سے پہنچی ہے۔ اس کی صحت پر بحث کی گنجائش ہوسکتی ہے

کیونکہ خود ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب ’قائداعظم کے آخری ایام‘ میں اس سے مختلف بیان دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’نیچے اترا تو وزیراعظم سی ڈرائنگ روم میں ملاقات ہوئی۔ وہ اسی روز مسٹر محمد علی کے ساتھ قائداعظم کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے تھے۔ انھوں نے بڑی بے تابی سے قائداعظم کی کیفیت دریافت کی اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مریض کو اپنے ڈاکٹر پر اعتماد ہے اور انشااللہ اس کا ان کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔ انھوں نے بہت تاکید کی کہ قائداعظم کی اس طویل بیماری کی جڑ کا ضرور کھوج لگایا جائے۔ میں نے انھیں یقین دلایا کہ قائداعظم کی حالت تشویشناک ہونے کے باوجود وہ پر امید ہیں کہ اگر انھوں نے وہ جدید دوائیں کھالیں جو کراچی سے منگوائی جا رہی ہیں تو ممکن ہے وہ صحت یاب ہوجائیں گے۔ بڑی امید افزا بات یہ ہے کہ مریض میں مدافعت کی کافی قوت ہے۔ وزیراعظم اپنے رہنما اور پرانے رفیق کی علالت سے بہت افسردہ تھے، ان کی دل سوزی سے میں بہت متاثر ہوا۔‘اب حقیقت کیا ہے؟ اس کا علم تو صرف ان پانچ، چھ شخصیات ہی کو تھا جو اس وقت موقع پر موجود تھیں۔ اب بدقسمتی سی ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔ واقعے پر بھی 72 سال کے ماہ و سال کی گرد جم چکی ہے اور اب ایسا کوئی ذریعہ باقی نہیں جو قوم کو اس واقعہ کی اصلیت سے آگاہ کرسکے۔29 اگست 1948 کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کا ایک مرتبہ پھر معائنہ کیا۔

وہ لکھتے ہیں: ’قائد اعظم کا معائنہ کرنے کے بعد میں نے یہ امید ظاہر کی کہ جس ریاست کو آپ وجود میں لائے ہیں اسے پوری طرح مستحکم اور استوار کرنے کے لیے بھی دیر تک زندہ رہیں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ آیا تا کہ میرے جذبات سے وہ غمگین ہو جائیں گے۔ ان کے یہ الفاظ اور ان کا افسردہ اور یاس انگیز لہجہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔‘جناح نے ڈاکٹر الٰہی بخش کو مخاطب کرکے کہا: ’آپ کو یاد ہے، جب آپ پہلی بار زیارت آئے تھے تو میں زندہ رہنا چاہتا تھا لیکن اب میرا مرنا جینا برابر ہے۔‘ڈاکٹر الٰہی بخش لکھتے ہیں کہ یہ الفاظ زبان سے ادا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایک ایسے شخص کو آبدیدہ دیکھ کر، جسے جذبات سے یکسر عاری اور فولاد کی طرح سخت سمجھا جاتا تھا، ڈاکٹر الٰہی بخش دنگ رہ گئے۔ جناح اس وقت بتدریج روبہ صحت تھے، اس لیے جناح کی مضمحل طبیعت سے انھیں اور بھی حیرانی ہوئی۔ انھوں نے وجہ دریافت کی تو جناح نے فرمایا: ’میں اپنا کام پورا کرچکا ہوں۔‘ڈاکٹر الٰہی بخش لکھتے ہیں کہ:’اس جواب سے میری الجھن اور بڑھ گئی اور خیال ہوا کہ وہ اصل بات پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں اور جو وجہ انھوں نے بیان کی ہے وہ یونہی ٹالنے کے لیے ہے۔ میں رہ رہ کر سوچتا تھا کہ کیا آج سے پانچ ہفتے پہلے ان کا کام نامکمل تھا اور اب یکایک پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ میں یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا کہ کوئی بات ضرور ہے جس نے ان کی جینے کی آرزو مٹا دی ہے۔‘یہی واقعہ فاطمہ جناح نے بھی تحریر کیا ہے، مگر قدرے مختلف الفاظ میں۔ وہ لکھتی ہیں: ’اگست کے آخری دنوں میں جناح پر اچانک مایوسی کا غلبہ ہو گیا۔ ایک دن میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ’فاطی۔۔۔ اب مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی جلد چلا جاؤں، اتنا ہی بہتر ہے۔‘’یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی، جیسے میں نے بجلی کے ننگے تار کو چھو لیا ہو۔ پھر بھی میں نے صبر و ضبط سے کام لیا اور کہا: جن! آپ جلد ہی اچھے ہو جائیں گے۔ ڈاکٹروں کو پوری امید ہے۔‘’میری یہ بات سن کر وہ مسکرائے۔ اس مسکراہٹ میں مرونی چھپی تھی۔ انھوں نے کہا: نہیں۔۔۔ اب میں زندہ رہنا نہیں چاہتا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )