قائد اعظم محمد علی جناح کی بیماری کا راز 12 سال تک ایک ہندو ڈاکٹر کی تجوری میں کیوں بند رہا ؟ جناح رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کے آخری دنوں کے حوالے سے ایسے حقائق جن سے آپ لاعلم ہونگے

کراچی (ویب ڈیسک) نامور محقق عقیل عباس جعفری اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر الٰہی بخش 23 جولائی 1948 کو کوئٹہ اور پھر وہاں سے بذریعہ کار زیارت پہنچے لیکن دن بھر سفر کرنے کے باوجود انھیں زیارت پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی اور جناح سے ان کی ملاقات اگلی صبح ہی ممکن ہوسکی۔

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ’جب میں نے قائد سے ان کی بیماری سے متعلق استفسارات کیے تو ان کا تمام زور اسی بات پر تھا کہ وہ بالکل بھلے چنگے ہیں اور یہ کہ ان کا معدہ ٹھیک ہو جائے تو وہ جلد ہی معمول کے مطابق کام کرنے لگیں گے۔‘مگر جب ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کا سرسری معائنہ کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کا معدہ تو بالکل ٹھیک ہے لیکن ان کے سینے اور پھیپھڑوں کے بارے میں صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ ڈاکٹر الٰہی بخش کے مشورے پر اگلے دن کوئٹہ کے سول سرجن ڈاکٹر صدیقی اور کلینیکل پیتھالوجسٹ ڈاکٹر محمود ضروری آلات اور سازو سامان کے ساتھ زیارت پہنچ گئے۔ انھوں نے فوری طور پر جناح کے ٹیسٹ کیے جن کے نتائج نے ڈاکٹر الٰہی بخش کے ان خدشات کی تصدیق کر دی کہ وہ تپ دق کے مرض میں مبتلا ہیں۔ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کے مرض کے حوالے سے سب سے پہلے فاطمہ جناح کو مطلع کیا اور پھر ان ہی کی ہدایت پر اپنے مریض کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش لکھتے ہیں: ’قائد اعظم نے جس انداز میں میری تشخیص کو سنا، میں اس سے انتہائی متاثر ہوا۔‘چوہدری محمد حسین چٹھہ نے اپنے ایک انٹرویو میں ضمیر احمد منیر کوبتایا کہ جب ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کو بتایا کہ انھیں تب دق کا مرض لاحق ہے تو جناح نے جواب دیا: ’ڈاکٹر، یہ تو میں 12 برس سے جانتا ہوں، میں نے اپنے مرض کو صرف اس لیے ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہندو میری موت کا انتظار نہ کرنے لگیں۔‘

برصغیر کی جدوجہد آزادی کے موضوع پر لکھی گئی مشہور کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مصنّفین لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر نے بالکل درست لکھا ہے کہ: ’اگر اپریل 1947 میں ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی میں سے کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا علم ہو جاتا جو بمبئی کے ایک مشہور طبیب ڈاکٹر جے اے ایل پٹیل کے دفاتر کی تجوری میں انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا، تو شاید ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور آج ایشیا کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ پر بہہ رہا ہوتا۔ یہ وہ راز تھا جس سے برطانوی سیکرٹ سروس بھی آشنا نہ تھی۔ یہ راز جناح کے پھیپھڑوں کی ایک ایکسرے فلم تھی، جس میں بانی پاکستان کے پھیپھڑوں پر ٹیبل ٹینس کی گیند کے برابر دو بڑے بڑے دھبے صاف نظر آ رہے تھے۔ ہر دھبے کے گرد ایک بالا سا تھا جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا تھا کہ تپ دق کا مرض جناح کے پھیپھڑوں پر کس قدر جارحانہ انداز میں حملہ آور ہوچکا ہے۔‘ڈاکٹر پٹیل نے جناح کی درخواست پر ان ایکس ریز کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔ تاہم انھوں نے جناح کو علاج اور صحت یابی کے لیے یہ مشورہ ضرور دیا کہ ان کا علاج صرف اور صرف آرام میں مضمر ہے۔ مگر بانی پاکستان کے پاس آرام کا وقت کہاں تھا؟ان کے پاس وقت کم تھا اور کام بہت زیادہ تھا اور وہ باقاعدہ علاج کا اہتمام کبھی نہ کرسکے۔ وہ اتنی آہنی ہمت کے مالک تھے کہ انھوں نے اپنے مرض کے بارے میں اپنی عزیز ترین بہن کو بھی آگاہ نہیں کیا، حتیٰ کہ انھوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش کو بھی اپنے راز سے اس ہی وقت آگاہ کیا جب وہ خود یہی تشخیص کر چکے تھے۔ماؤنٹ بیٹن نے خاصے طویل عرصے بعد لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ساری طاقت جناح کے ہاتھ میں تھی۔ ’اگر کسی نے مجھے بتایا ہوتا کہ وہ بہت کم عرصے میں ہی فوت ہوجائیں گے تو میں ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ یہ واحد صورت تھی کہ ہندوستان متحدہ صورت میں برقرار رہتا۔ راستے کا پتھر صرف مسٹر جناح تھے، دوسرے رہنما اس قدر بے لوچ نہیں تھے اور مجھے یقین ہے کہ کانگریس ان لوگوں کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچ جاتی اور پاکستان تاقیامت وجود میں نہ آتا۔‘ڈاکٹر الٰہی بخش لکھتے ہیں: ’جب مرض کی تشخیص ہوگئی تو میں نے ایک جانب علاج اور خوراک میں مناسب ردوبدل کی اور دوسری جانب لاہور سے ڈاکٹر ریاض علی شاہ، ڈاکٹر ایس ایس عالم اور ڈاکٹر غلام محمد کو ٹیلی گرام دیا کہ وہ ضروری سازو سامان اور سفری ایکس ریز کے آلات لے کر فوراً زیارت پہنچیں۔(بشکریہ : بی بی سی )