مجھے عیسائی مت کہو: میں حجاب کے بغیر بھی مسلمان ہوں ۔۔۔۔۔ 7 سال پہلے اسلام قبول کرنے والی امریکہ اداکارہ کا حیران کن اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) 7 سال قبل اسلام قبول کرنے والی امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کا کہنا ہے کہ ہر روز خود کو کسی ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا جو میں نہیں ہوں، میری ذات کو کچل رہا ہے۔۔۔ اور ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ میری آواز اچھی ہے اور

میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں تو لوگ مجھ سے ایک رول ماڈل بننے کی توقع کر رہے ہیں‘نامور خاتون صحافی منزہ انوار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔’مجھے مسلمان ہوئے سات سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہاں، اگرچہ میں بنا حجاب کے اپنی تصویر شیئر کر رہی ہوں، لیکن حجاب کے بغیر بھی میں مسلمان ہوں۔‘سات سال قبل اسلام قبول کرنے والی معروف امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ نے چند دن قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک طویل پوسٹ شئیر کی، جس کے ساتھ انھوں نے اپنی بغیر حجاب والی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔اس پوسٹ کے ذریعے انھوں نے سوشل میڈیا دباؤ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ سر نہ ڈھانپ کر بھی وہ مسلمان ہی رہیں گی۔ انھوں نے عربی زبان نہ جانتے ہوئے بھی عربی میں ایک گانا گایا جس کے بعد وہ عرب دنیا میں انتہائی مقبول ہوئی تھیں۔ اسی سال انھوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔جینیفر کا تعلق امریکہ سے ہے مگر انھوں نے چار سال تک افریقی مسلم ملک مراکش میں رہائش اختیار کیے رکھی۔ عرب ممالک میں وہ اپنے عربی گانوں اور قرآن کی خوبصورت آواز میں تلاوت کے حوالے سے بہت مشہور ہیں۔جینفر گراؤٹ نے بی بی سی کے ساتھ اپنے حجاب پر حالیہ بحث، اور اسلام قبول کرنے کے بعد کی ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا پر انھیں کیا کچھ سننا اور سہنا پڑا، اس بارے میں بات کی۔ لیکن اس سے پہلے آئیے آپ کو ان کے حجاب تنازعے کا پسِ منظر بتاتے ہیں۔

اس پلیٹ فارم کو خالصتاً ایک کاروبار کی طرح ٹریٹ کر سکتی ہوں اور اس بند ڈبے میں سر دیے رہ سکتی ہوں جس میں، میں نے خود کو پھنسا لیا ہے۔ لیکن یہ میری حقیقت نہیں ہے۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں‘جینیفر گراؤٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شئیر کی جانے والی پوسٹ کا آغاز یہ تسلیم کرتے ہوئے کیا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی اس تحریر سے کیا تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ذہنی حالت ٹھیک رکھنے کے لیے سوشل میڈیا سے بریک لینی پڑی۔ سوشل میڈیا کے مجھ پر زیادہ دباؤ ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ میں مسلم معاشرے کی ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اس کی وجہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ میں اپنی ذات کو کھو بیٹھی ہوں۔‘اس کے ساتھ جینیفر نے اپنی ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں انھوں نے سر نہیں ڈھانپا ہوا۔ اس سے قبل وہ زیادہ تر ایسی تصاویر پوسٹ کرتی تھیں جس میں انھوں نے حجاب پہنا ہوتا تھا۔جینیفر نے صرف اس بنا پر کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتی ہیں، خود کو مسلم دنیا کی رول ماڈل ماننے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ سر ڈھانپنا ایک ’فرض‘ ہے، اس لیے میں یقیناً کسی بھی عورت کے حجاب پہننے کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہر روز خود کو کسی ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا جو میں نہیں ہوں،

میری ذات کو کچل رہا ہے۔۔۔ جینفر کہتی ہیں کہ لوگوں کو سمجھنا چایے کہ ’مجھ جیسے مذہب تبدیل کرنے والے بیشتر افراد کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جو اسلام سے بالکل مختلف ہے۔۔ اور ہمارا ہر چیز کو دیکھنے کا اپنا ایک نظریہ ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسلام قبول کیے سات سال ہو گئے ہیں اور اس دوران میں بہت سے مراحل سے گزری ہوں۔‘جینفر بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تو ان دنوں کبھی وہ حجاب پہن لیتیں اور کبھی نہ پہنتیں۔ لیکن بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے عہد کیا کہ وہ حجاب نہیں اتاریں گی۔ اور اس دوران انھوں نے تقریباً سات مہینے عبایا کے ساتھ چہرے کا نقاب بھی پہنا۔ اس دوران وہ قطر میں مقیم تھیں۔امریکہ واپس جاکر جینیفر نے حجاب پہننا تو برقرار رکھا لیکن چہرے کا نقاب ختم کر دیا۔ پھر اگلے تین سال انھوں نے باقاعدگی سے حجاب پہنا۔وہ کہتی ہیں ’اس کے بعد میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر حجاب نہ پہننے کا فیصلہ کیا۔ لیکن قرآن کی پہلی تلاوت کے بعد جب مجھے بہت شہرت ملنے لگی تو میں نے دوبارہ حجاب پہننا شروع کر دیا۔‘’لیکن اب آکر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ سب کو خوش کرنے کے چکر میں جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ لوگوں نے مجھے صرف قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔‘جینفر بتاتی ہیں کہ انھوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور ایک موسیقار کے طور پر وہ ان پلیٹ فارمز کا آغاز اسلام قبول

کرنے سے کہیں پہلے کر چکی تھیں۔جینیفر کہتی ہیں اسلام میں کسی بھی کام کو کرنے کے پیچھے سب سے اہم چیز ’نیت‘ ہوتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ جب بہت سارے لوگ مسلسل آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ آپ کو کیسا نظر آنا چاہیے، تو آپ کے پاس اپنا حقیقی روپ دکھانے کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’چلیے مان لیتے ہیں کہ مجھے حجاب پہننا پسند ہے لیکن دوسری طرف لاکھوں افراد ہر روز مجھے بتاتے ہیں ’تمھیں حجاب پہننا چاہیے۔۔ تمھیں خود کو ڈھانپنا چاہیے۔۔۔ تمھارا حجاب کہاں ہے۔۔۔ پھر اگر میں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی بھی ہوں تو یہ میری الجھن میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں خدا کی رضا کے لیے حجاب پہن رہی ہوں یا سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی خوشی کے لیے۔۔۔ لوگوں کی توقعات کسی کو اپنی اچھی نیت ظاہر کرنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔‘وہ کہتی ہیں ’ہماری اُمہ کی صوتحال بہت بہتر ہو جائے گی اگر انھیں نیتوں کی اہمیت سمجھ آ جائے اور یہ سمجھ آ جائے کہ اسلام میں تنوع موجود ہے۔ دنیا میں بہت سی خواتین حجاب نہیں پہنتیں لیکن وہ خود کو مسلمان کہتی ہیں اور انھیں اس کا حق حاصل ہے۔‘’مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے صرف اس وجہ سے مسیحی کہہ کر بلاتے ہیں کیونکہ میں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ میں گانے بنا اور گا رہی ہوں۔‘وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھار میں صوفیوں کی طرح خدا سے قربت حاصل کرنے کے لیے موسیقی بناتی ہوں۔۔۔ لیکن مجھ پر تنقید کرنے والوں کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔۔ ان کی ساری توجہ صرف اس چیز پر ہے کہ میں نے حجاب پہن رکھا ہے یا نہیں۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

مجھے عیسائی مت کہو: میں حجاب کے بغیر بھی مسلمان ہوں ۔۔۔۔۔ 7 سال پہلے اسلام قبول کرنے والی امریکہ اداکارہ کا حیران کن اعلان” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں