سعودی عرب میں 48 وارداتوں میں ملوث پاکستانی اورگینگ گرفتار ۔۔۔!!!ملزمان اب تک کتنے لاکھوں ریال کا سامان لوٹ چُکے تھے؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہوجائیں

ریاض(ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات چاہے جتنے بھی خراب ہوں، پر لگتا ہے کہ سعودی عرب میں دونوں ممالک کے جرائم پیشہ افراد میں بہت سلوک ہے۔ ماضی میں کئی ایسے چور اور ڈکیت گینگ پکڑ ے گئے جن میں پاکستانی اور بھارتی کارکنان مل کر وارداتیں کرتے تھے۔ ریاض پولیس نے

اپنی تازہ ترین کارروائی میں چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ایک جرائم پیشہ گروہ پکڑ لیا ہے جس میں بھارتی اور پاکستانی کارکنان شامل ہیں۔12افراد کا یہ گروہ 48 سے زائد وارداتیں کر چکا تھا۔ جن میں سے زیادہ تر ریاض شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں کی گئیں۔ ریاض پولیس کے ترجمان میجر خالد القریدس نے بتایا کہ پکڑے گئے افراد بیٹری، کاپر کٹرز اور بجلی کے دیگر قیمتی سامان کی48 وارداتوں میں ملوث تھے۔ملزمان ٹیلی کمیونی کیشنز کمپنیوں کے ٹاورز کے کنٹرول رومز اور آپٹیکل گائیڈ بورڈز کو اپنی لوٹ مار کا ہدف بناتے تھے۔زیادہ تر وارداتیں الناظم، النسیم اور القیروان کے علاقوں میں کی گئیں، جن میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 64 ہزار ریال مالیت کا سامان لُوٹا گیا۔ ملزمان چوری کیا گیا سامان مشرقی ریاض کے علاقے ال ریمال میں واقع ایک گودام میں چھُپایا کرتے تھے۔ پولیس نے گودام پر چھاپہ مار کر چوری کا کچھ سامان اور 14 ہزار ریال کی رقم برآمد کر لی۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل سعودی عرب میں8 پاکستانیوں پر مشتمل نوسرباز گینگ پکڑا گیا ہے جو سینکڑوں افراد کو جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں ریال کی رقم لُوٹ چکا تھا۔یہ گروہ لوگوں کو ان کے بینک اکاؤنٹس کی بندش کا ڈراوا دے کر یا انعام نکلنے کی خوشخبری دے کر ان کے اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرتا، اور پھر اکاؤنٹ میں سے رقم ٹرانسفر کر دیتا تھا۔‘پولیس ترجمان نے کہا کہ ’گرفتار ملزمان عمر کے تیسرے اور چوتھے عشرے میں ہیں۔ ان کے قبضے سے 37 موبائل سیٹس برآمد ہوئے ہیں جن میں ہزاروں افراد کے نمبر درج تھے۔ موبائل سے دھوکہ دہی والے پیغامات کا ریکارڈ بھی ملا ہے۔25 ہزار ریال اور کئی اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد ہوئے۔‘’جعلسازوں نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ روزانہ 20 ہزار ریال اس طریقہ کار سے کما رہے تھے۔ تمام افراد کو حراست میں لے کر ایف آئی آر درج کر کے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔‘التویجری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دھوکہ باز گروہ وقتاً فوقتاً مملکت کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیے جاتے رہتے ہیں۔ پولیس، مقامی بینک ذرائع ابلاغ کی مدد سے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ کر کے ان کی عیارانہ چالوں سے بچنے کی تاکید بھی کرتے رہتے ہیں تاہم ہر بار کچھ نہ کچھ سادہ لوح ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔