ہمارے پاس نواز شریف دور کا یہ بندہ ہوتا تو ہم ملکی تاریخ کی کامیاب ترین حکومت چلا رہے ہوتے ۔۔۔ خود عمران خان کے ساتھی کیا اعتراف کرتے ہیں ؟ جاوید چوہدری کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) حفیظ شیخ وزارت خزانہ چلا رہے ہیں، ان کی مستقل رہائش بھی امریکا میں ہے‘ یہ ساڑھے 13 کروڑ روپے کے مالک ہیں لیکن آپ پاکستان سے ان کی دل چسپی کا لیول ملاحظہ کیجیے‘ ان کے ایک اکاؤنٹ میں 16 ہزار روپے اور دوسرے میں 9 ہزار روپے ہیں

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ باقی سارا سرمایہ ڈالرز اور درہم میں ہے گویا ملک کے سیاہ و سفید کے مالک کو خود پاکستانی کرنسی پر اعتماد نہیں‘ یہ پوری دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن اپنا سرمایہ ڈالرز اور درہم میں رکھتے ہیں‘ یہ پاکستانی قانون کے تحت پارلیمنٹ میں بجٹ پیش نہیں کر سکتے لیکن سارا بجٹ ان کے رحم و کرم پر ہے‘ یہ ملک کی مضبوط ترین وزارت کے مالک ہیں‘ ندیم بابر پٹرولیم کے معاون خصوصی ہیں۔یہ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں ‘ یہ بجلی بنانے والے اداروں کے ایڈوائزر بھی ہیں اور مالک بھی اور ان کا محکمہ ان اداروں کو فرنس آئل اور گیس بھی دیتا ہے اور ادائیگیاں بھی کرتا ہے‘ تانیا ایدرس ملک کو سوشل میڈیا ایج میں لے جارہی ہیں‘ یہ کینیڈا کی پیدائشی شہری ہیں‘ان کی مستقل رہائش سنگا پور میں ہے جب کہ ملک میں ان کا کوئی اثاثہ نہیں‘ شہزاد سید قاسم توانائی کے معاون خصوصی ہیں‘ یہ امریکی شہری ہیں اور توانائی کی وزارت ملک کی مہنگی ترین وزارت ہے‘ ڈاکٹر معید یوسف قومی سلامتی کے معاون خصوصی ہیں‘ ان کے پاس امریکا کی ریذیڈنسی ہے‘ ڈاکٹر شہباز گل گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور ہمارے دوست ندیم افضل گوندل کے پاس کینیڈا کی ریذیڈنسی ہے۔ہمارے ذہن میں یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں‘ کیا اقامہ بڑا جرم ہے یا دوسرے ملکوں کی شہریت؟ ہم نے اقامہ ہولڈروں کو ہیوی مینڈیٹ کے باوجود اٹھا کر وزارتوں سے باہر پھینک دیا تھا اور عمران خان نے اس پر تالیاں بجائی تھیں

لیکن آج ان کے دائیں بائیں دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ ہولڈرز بیٹھے ہیں اوریہ وزیراعظم کو جچ رہے ہیں! کیا یہ لطیفہ نہیں؟ وزیراعظم کی نظر میں مچھر حرام تھا اور ہاتھی حلال ہو چکا ہے‘ ہم اسے کیا سمجھیں؟ دوسرا یہ مشیر اگر واقعی ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور یہ پاکستان کی مدد کے لیے اپنا آرام‘ عیش اور شان دار زندگی چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے ہیں تو کیا پھر یہ دارالامن کی محبت میں ’’کافروں‘‘ کی شہریت نہیں چھوڑسکتے؟ اگر انھیں پاکستان پر اتنا ہی یقین ہے تو پھر یہ ریذیڈنسی‘ گرین کارڈ اور سرخ پاسپورٹ پھاڑیں اور گرین پاسپورٹ پر اعتماد کریں لیکن یہ خود تو اپنے پاسپورٹ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن ہمیں روز حب الوطنی کا درس دیتے ہیں‘ یہ کیا تماشا ہے؟ آپ آخر کتنی دیر اپنے صابن کو مکھن ثابت کرتے رہیں گے!۔آپ اب دوسرا ایشو بھی ملاحظہ کیجیے‘سپریم کورٹ کے دوججوں نے 20 جولائی کو خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا‘ یہ 87صفحوں کا فیصلہ ہے اور اس نے عملاً نیب اور احتساب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی‘ سپریم کورٹ کے ججوں نے فیصلے میں نیب کو جانب دار بھی قرار دیا‘ سیاسی انجینئرنگ کا ذریعہ بھی‘ مخالفین کے بازو مروڑنے کا طریقہ بھی اور ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بھی‘ یہ فیصلہ محض فیصلہ نہیں یہ نیب کے خلاف پہلی مفصل چارج شیٹ ہے‘ ملک کے تمام طبقے اس فیصلے کو بروقت اور برحق قرار دے رہے ہیں‘ حکومت کے اپنے لوگ بھی اسے حق اور سچ کہہ رہے ہیں۔

یہ اپنے منہ سے بول رہے ہیں نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لہٰذا وہ وقت آ چکا ہے جب ہم آنکھیں کھول کر حقیقت کا سامنا کریںاور یہ تسلیم کریں سیاست دان ہوں‘ بزنس مین ہوں یا پھر بیورو کریٹس یہ نیب کے خوف سے کام نہیں کر رہے‘گروتھ رک گئی ہے اور ملک ڈھلوان پر لڑھک رہا ہے‘ نیب کے ظلم کی بدترین مثال احد چیمہ ہیں‘یہ شخص ن لیگ کی حکومت کا اصل چیمپیئن تھا‘یہ اگرملک میں پہلی میٹرو نہ بناتا یا یہ ریکارڈ مدت میں بجلی کے پانچ ہزارمیگاواٹ کے پاور پلانٹس نہ لگاتا تو میاں برادران کی حکومت لوڈ شیڈنگ میں غائب ہو جاتی‘ عمران خان کے اپنے لوگ کہتے ہیں ہمارے پاس اگر ایک احد چیمہ ہوتا تو ہم تاریخ کی کام یاب ترین حکومت ہوتے لیکن نیب نے اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا؟اس نے احد چیمہ کو عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیا۔یہ 29 ماہ سے کیمپ جیل لاہور میں سڑ رہا ہے اور کوئی جج اس کی ضمانت کی درخواست سننے کے لیے تیار نہیں‘ اس کا یہ نتیجہ نکلا آج کوئی بیورو کریٹ کسی فائل پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں‘ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے پشاور کی میٹرو بھی احد چیمہ کی وجہ سے مکمل نہیں ہو رہی‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ منصوبہ جس دن مکمل ہو گیا اس دن پشاور کے دو درجن بیورو کریٹ اندر ہو جائیں گے لہٰذا مسافر کی چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست ہے آپ اب احد چیمہ پر بھی رحم فرما دیں‘اس شخص نے اپنی پرفارمنس کی قیمت اپنی اوقات سے زیادہ ادا کر دی ہے لیکن آپ بھی کیا کریں؟ آپ بھی ہماری طرح اس دور میں سانس لے رہے ہیں جس میں لپ سٹک دوسروں کے ہونٹوں پر ہو تو یہ حرام ہوتی ہے لیکن یہ اگر حکومت نے لگا رکھی ہو تو یہ اسے بہت جچتی ہے‘ یہ اسے سوٹ کرتی ہے اور یہ اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔(ش س م)