توہین آمیز ویڈیو کیس ۔۔!! آغا افتخار الدین مرزاکے بیرون ممالک رابطوں کا انکشاف موبائل سے 486 نمبرزملے ، یہ کن کن کے نکلے؟نیا پنڈوراباکس کھل گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ججز اور عدلیہ کیخلاف آغا افتخار الدین مرزا توہین آمیز ویڈیو از خود نوٹس میں ایف آئی اے نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ ایف آئی اے کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شریک ملزم اکبر علی کو انسداد دہشت گردی عدالت

نے ضمانت پر رہا کر دیا جبکہ افتخار الدین مرزا کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ افتخار الدین مرزا کے موبائل نمبرز کی تفصیلات سی ڈی آرز کے ساتھ حاصل کر لی گئی ہیں،موبائل ریکارڈ کے مطابق ملزم نے بیرون ممالک رابطے کیے،ملزم کے486 نمبرز کی کنٹیکٹ لسٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران اور سویلین شامل ہیں،سب سے زیادہ رابطے میں رہنے والے 26 نمبرز کی تفصیلات کے مطابق انکا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں،عبدالوحید ڈوگر سے بھی تفتیش کی گئی،عبدالوحید ڈوگر نے بتایا کہ کہ وہ پیشہ ورانہ صحافی ہے،عبدالوحید ڈوگر کے مطابق وہ وزارت داخلہ،وزرات خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف امور پر رپورٹنگ کرتا ہے،عبدالوحید ڈوگر نے جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس سے متعلق شہزاد اکبر سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں شکایت درج کرنے کے بعد ایک مرتبہ شہزاد اکبر سے ملاقات کی،عبدالوحید ڈوگر نے افتخار الدین مرزا سے کسی قسم کی تعلق کی تردید کی،شہزاد اکبر کا بھی بیان ریکارڈ کیا گیا انھوں نے افتخار مزار سے لا تعلقی کا اظہار کیا،افتخار الدین مرزا کی 689 اپلوڈڈ ویڈیوز میں سے 175 کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں،عدالتی حکم پر افتخار الدین مرزا کے 19 بنک اکاونٹس کی تحقیقات جاری ہیں،افتخار الدین مرزا کے ایک بنک اکاونٹ میں ہاوسنگ سوسائٹی کی ٹرانزکشن ہوتی رہی،افتخار الدین مرزا کے بیٹے نے تسلیم کیا کہ 31 کنال کی سوسائٹی میں باقی بیچ کر انکے والد کے پاس چند مرلے زمین رہ گئی ہے،اقرا پبلک سکول اینڈ کالج کے اکائونٹ سے 2010 سے 2018 تک 6 کروڑ 4 لاکھ 37 ہزار 568 روپے رقم منتقل کی گئی،اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اکاونٹ سے 15 لاکھ سے 71 ہزار 562 روپے کی رقم منتقل ہوئی،الحسینی ٹرسٹ اکاونٹ سے 43 لاکھ 50 ہزار 839 روپے منتقل ہوئے،ملزم کے اکاونٹس میں بیرون ممالک سے بھی فنڈنگ ہوتی رہی ہے ،ملزم کے پاس سوزوکی مہران اور ویگن آر دو گاڑیاں ہیں, ملزم کے ٹیکس ریکارڈ کیلئے چیئرمین ایف بی آر کو درخواست کی ہے۔