اب بھی کہو کہ ’’کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔۔۔‘‘ جو کام نواز شریف نے 130 ملین ڈالر میں کرتے تھے وہی کام عمران خان کی حکومت نے 60 ملین ڈالر میں کیسے کیا؟ ناقابلِ یقین انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) معروف اینکر عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف دور کا بجلی کا منصوبہ عمران خان حکومت آدھی سے بھی کم لاگت میں بنا رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق تجزیہ کار عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بننے والا بجلی کا منصوبہ پاکستان تحریک

انصاف کی حکومت میں اب آدھی سے بھی کم لاگت میں بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں ونڈ پاور پروجیکٹ کے نام سے ایک منصوبہ لگایا گیا۔جس میں 30 کمپنیوں کو 59 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ لگانے کی اجازت دی گئی۔اور اس منصوبے کی لاگت 130 ملین ڈالر تھی جب کہ اس منصوبے کی ایفی شنسی 30 فیصد تھی۔تاہم اب یہ حکومت وہی منصوبہ آدھی سے بھی کم لاگت میں بنا رہی ہے۔یعنی اب منصوبے کی لاگت 60 ملین ڈالر ہے۔اور جس میں کمپنیوں کو 59 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔جب کہ اس کی ایفی شنسی بھی 7 فیصد زیادہ یعنی کہ 37 فیصد ہے۔ خیال رہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے 450 ملین ڈالرز ورلڈ بینک اور آئی ایف سی کی سرمایہ کاری کے سپرسکس ونڈ پاور پراجیکٹس پر دستخط سے 310 میگاواٹ ماحول دوست اور سستی بجلی پیدا کی جائے گی۔یہ 6 پراجیکٹس ان 700 ملین ڈالرز سرمایہ کاری کے 11 پراجیکٹس کا حصہ ہیں جن سے مجموعی طور پر 560 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہو گی۔واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21ء کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جھم پیر میں 1224 میگاواٹ کے ونڈ پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کیلئے 4000 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ جمعہ کو یہاں جاری کی گئی پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق 24 نومبر 2017ء کو ایکنک نے اس منصوبہ کی منظوری دی تھی جس پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 10752.610 ملین روپے لگایا گیا تھا جس میں غیر ملکی امداد کی مد میں 4705.450 ملین روپے کا تخمینہ تھرپورٹ کے مطابق 30 جون 2020ء تک منصوبہ کیلئے 1500 ملین روپے کے فنڈز جاری کئے جائیں گے جبکہ آئندہ مالی سال 2020-21ء میں بجلی کی ترسیل کے منصوبہ کیلئے وفاقی حکومت نے 4000 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور دوران سال حکومت اپنے وسائل سے یہ فنڈزفراہم کرے گی۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ منصوبہ کیلئے غیر ملکی امداد کی مد میں کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا۔ واضح رہے کہ منصوبہ کی تکمیل سے ہوا کی مدد سے پیدا ہونے والی سستی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔