لیگی رہنماء راتوں کے اندھیرے میں کس سے بات کر رہے ہیں؟ اعتزاز احس پھٹ پڑے۔ تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قانون دان اور رہنما پیپلزپارٹی اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما رات میں کس سے ملاقات کر رہے ہیں۔ایک دن حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن خاموش ہو جاتے ہیں۔ن لیگ میں حکومت کو بھیجنے یا نہ بھیجنے پر کنفیوژن ہے۔حکومت گرانے کا آسان

طریقہ بجٹ کی مخالفت تھی۔بجٹ اجلاس میں رانا تنویر جیسے لیگی رکن نہیں آئی۔مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کو گرفتار کیا جائے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب وزیراعظم کو گرفتار کیا جاتا ہے تو مارشل لا لگتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کام کرے یا گھر جائے۔ن لیگی رہنما رات میں کس سے ملاقات کر رہے ہیں کچھ معلوم نہیں۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف ایک ساتھ بولتے ہیں لیکن ایک ساتھ چپ ہو جاتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما اعتزاز احسن نے مزید کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی انہوں نے وفاداری کی، آصف علی زرداری کی زبان شریف برادران کے دور اقتدار میں کٹوائی گئی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلزپارٹی کے ساتھ چلنے پر اعتبار نہیں کرسکتا، اپنی جماعت کے قائدین کو مشورہ دوں گا کہ وہ مسلم لیگ (ن) پر بھروسہ نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ میاں شریف 7بھائی تھے باقی 6 بھائیوں کا کس کو معلوم ہی ، نوازشریف نے اپنے بھائیوں کو بھی دھوکہ دیا تو وہ کسیدوسری سیاسی جماعت کے ساتھ کیسے وفا کرسکتے ہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ نوازشریف کالاکوٹ پہن کر پیپلزپارٹی کیخلاف عدالت جاتے تھے،بی بی کی تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکی گئیں، مسلم لیگ (ن) کے دوران میں میموگیٹ سکینڈل بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہی آصف زرداری کی بطور سزا زبان کاٹی گئی اور جس نے یہ کام کیا وہ شخص آج سینیٹر بن کر ایوان میں بیٹھا ہوا ہے، مسلم لیگ ن نے کبھی وفاداری نہیں کی، سینیٹ الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن)نے جو کیا وہ سب کے سامنے ہے، بجٹ منظور ہوگیا جبکہ حکومت گرانے کا سب سے آسان طریقہ بجٹ کو منظوری سے روکنا تھا۔اعتزاز احسن نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے پیپلزپارٹی کو (ن) لیگ سے ضمانتیں لینی چاہئیں،مسلم لیگ (ن) سے پیپلز پارٹی کا اتحاد لمبے عرصے نہیں چل سکتا۔