ناقابل یقین اطلاعات

کابل (ویب ڈیسک) افغانستان میں ایک لڑکی نے گذشتہ ہفتے اپنے والدین کی جان لینے والوں کی زندگی کا خاتمہ کردیا ۔سوشل میڈیا پر اس لڑکی کی ‘بہادری’ کی خوب تعریف ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ 17 جولائی کو افغانستان کے صوبہ غور کے گروئے نامی گاؤں میں پیش آیا۔مقامی حکام نے بتایا کہ

لڑکی نے اپنے گھر میں رکھے ہتھیار سے دو افراد کو زندگی سے محروم اور متعدد کو گھائل کردیا ۔مقامی حکام کے مطابق لڑکی کے والد حکومت کے حامی تھے اور گاوٴں کے سردار بھی۔ ان سے ناراض چند عناصر ے ان کے گھر میں گھس کر انتقامی کارروائی کی ۔ مقامی پولیس کے سربراہ حبیب الرحمان ملکزادہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان ناراض افراد نے لڑکی کے والد کو گھر کے باہر کھینچا اور جب اس کی والدہ نے مخالفت کی کوشش کی تو دونوں کو وہیں پر ختم کردیا ۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ ‘اس کے بعد ان کی بیٹی نے گھر پر رکھا ہتھیار اٹھایا اور پہلے والدین کی موت کا باعث بننے والوں کی جان لی اور پھر انکے دیگر ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا ۔ حکام کے مطابق لڑکی کی عمر 14 سے 16 برس کے درمیان ہے۔سوشل مڈیا پر لڑکی کی ایک تصویر بھی شیئر ہو رہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد وہ لوگ پھر آئے اور انہوں نے بچی کے گھر پر جوابی کارروائی کی کوشش کی، لیکن گاوٴں والوں اور حکومت کے حامیوں نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔صوبے کے گورنر نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان اہلکار لڑکی اور اس کے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ کسی محفوظ مقام پر لے گئے ہیں۔اس واقعے کے بعد لڑکی کی سوشل میڈیا پر تعریف کی جانے لگی۔اے ایف پی کے مطابق نجیبہ رحمی نامی صارف نے فیس بک پر لکھا ‘اس کی ہمت کو سلام۔ ‘ایسے ہی ایک اور فیس بک صارف محمد سالح نے لکھا ‘ہمیں پتا ہے، والدین کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ لیکن تم نے جو بدلہ لیا اس سے تم کو تھوڑا سکون ملے گا۔’