ایک نوجوان لڑکی کے انکشاف نے پاکستانیوں اور امت مسلمہ کا سر شرم سے جھکا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) کبھی کبھی کسی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے دل کرتا ہے کہ قاری کے سامنے ہاتھ جوڑوں، اس کے پاؤں پکڑوں اور عرض کروں کہ صرف تین منٹ کی بات ہے، سن لیں، گالی دیں، اختلاف کریں، بحث کریں لیکن ایک انٹرنیٹ یا وٹس ایپ پر پڑھا ہوا جھوٹ تاریخی

سمجھ کر منہ نہ پھیر لیں۔مشہور کالم نگار محمد حنیف بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کچھ مہینے پہلے بچوں کے ساتھ ظلم جیسے موضوع پر ایک مضمون لکھنے کے لیے تھوڑی تحقیق کی۔ اپنے ساتھیوں دوستوں جاننے والوں اور ان کے جاننے والوں کی باتیں یاد کیں اور کچھ سے دوبارہ پوچھا۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ بچپن میں یہ شرمناک کام نہ ہوا ہو ۔یا اس کی کوشش نہیں ہوئی۔ گندے طریقے سے چھونے سے لے کر آخری و شرمناک حد تک کرنے والے وہی تھے جن کو بچے کے والدین قابل اعتبار سمجھتے تھے۔چاچا، ماما، خانساماں، ڈرائیور، ٹیچر، قاری، ٹیوٹر اور بعض دل دہلا دینے والے واقعات میں باپ اور بھائی کبھی سگے اور کبھی سوتیلے۔اور اب ہمارے سامنے ایک اور نسل ہے۔ایک طرف لاہور کا گرامر سکول جہاں مڈل کلاس کی بھاری فیس دینے والے انگریزی میڈیم کے بچے پڑھتے اور اقوام متحدہ طرز کے مباحثوں کا حصہ بنتے ہیں۔وہ بھی اپنے انگریزی میڈیم استادوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ایک طرف خیر پور کے غریبوں کے بچے ایک ٹیوٹر کے ہاتھوں ۔۔۔مجھے ایک نوجوان لڑکی نے بتایا کہ جب وہ ابھی کم سن تھی تو اپنے والدین کے ساتھ حج کرنے گئی تو وہاں طواف کرتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی۔ میرے منہ میں خاک ۔جو سزا دینی ہے دے لو جو کرنا ہے کر لیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ مسئلہ ہمارے گھروں میں، سکولوں میں، مدرسوں میں ورکشاپوں میں، ٹرک اڈوں اور بس اڈوں میں، جھونپڑیوں میں اور کوٹھیوں میں ہر جگہ موجود ہے۔یہ قبیح فعل کرنے والے آپ کے پیارے ماموں بھی ہو سکتے ہیں۔ ایلیٹ سکول کے انگریزی بولنے والے استاد بھی، قاری بھی اور آپ کے ابو کے دوست بھی۔ہو سکتا ہے ان میں سے کسی کو آپ جانتے بھی ہوں۔ تو اگر آپ نے اپنے بچوں کو اس سے بچانا ہے تو سزا کے ساتھ مسئلے کی آگاہی کا مطالبہ بھی کریں۔

ایک نوجوان لڑکی کے انکشاف نے پاکستانیوں اور امت مسلمہ کا سر شرم سے جھکا دیا” ایک تبصرہ

  1. نفس تو برائ پر اکساتا ہے اگر میرے رب کی رحم شامل حال نہ ہو اللہ بے حد رحیم ہے اسلام کی پاک اصولوں کو اپنانے سے ہی ایسی گندی حقا رتوں سے بچا جا سکتا ہے

تبصرے بند ہیں