کووڈ-19 نے پاکستان کا مستقبل اجاڑ دیا ۔۔۔۔ لاک ڈاون کے باعث کتنے کروڑ بچے ابتدائی تعلیم سے محروم رہے ؟ جان کر آپ بھی پریشان ہو جائیں گے

کراچی (ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی تحقیق کے مطابق کووڈ-19 کے باعث اسکول اور چائلڈ کیئر مراکز بند ہونے سے دنیا بھر میں کم ازکم 4 کروڑ بچے ابتدائی تعلیم سے محروم ہوگئے۔یونیسیف کے تحقیق کے شعبے کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ میں کووڈ-19 سے دنیا بھر میں پری اسکول تعلیم اور چائلڈ کیئر

سمیت بچوں سے متعلق دیگر خدمات پر پڑنے والے اثرات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔یونیسیف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہنریتا فور کا کہنا تھا کہ ‘کووڈ-19 وبا کے باعث تعلیم میں رکاؤٹوں کے نتیجے میں بچے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل سے دور رہ گئے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘چائلڈ کیئر اور بچوں کی ابتدائی تعلیم بچوں کی ترقی کے لیے ہر پہلو سے بنیاد فراہم کرتی ہے، وبا سے یہ بنیاد شدد خطرے سے دوچار ہے’۔چائلڈ کیئر کے عالمی بحران کے موضوع پر کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 نے خاندانی زندگی اور کام پر اثر ڈالا ہے اور لاک ڈاؤن سے کئی والدین کوچائلڈ کیئر اور ملازمت میں توازن پیدا کرنے کے لیے پریشانی کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے خواتین پر غیرمتوازن بوجھ پڑا ہے، جواوسطاً مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ بچوں کا خیال رکھتی ہیں اورگھر کا کام کرتی ہیں۔یونیسیف کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بندشوں سے خاص کر بچوں والے خاندانوں کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا اور ان غریب ممالک میں جہاں وہ پہلے ہی سماجی خدمات تک رسائی سے محروم تھے۔چائلڈ کیئر کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کومطلوبہ خدمات بہترخوراک کے ساتھ ساتھ سماجی اور جذباتی حوالے سے مضبوط بنانے کے لیے چائلڈ کیئر بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔تحقیق کے مطابق کووڈ-19 سے قبل مہنگی اور غیرمعیاری چائلڈ کیئر اور ابتدائی تعلیم کے باعث والدین اپنے بچوں کو غیرمحفوظ ماحول میں چھوڑنے پر مجبور تھے جو ان کی نشوونما کے لیے موزوں نہیں تھا۔اسی طرح دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر کے 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے بڑوں کی نگہداشت سے محروم ہوجاتے تھے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 166 ممالک میں نصف سے بھی کم ملکوں میں کم ازکم ایک سال کے لیے مفت ٹیوشن، پری پرائمری پروگرام کی سہولت فراہم کی جاتی تھی جو غریب ممالک میں گر کر 15فیصد پر آگئی ہے۔حالیہ دستاویزات کے مطابق 54 غریب اور متوسط ممالک میں 3 سال سے 5 سال کی عمر کے 40 فیصد بچے اپنے گھروں میں سماجی اور ذہنی تحرک کے لیے بڑوں سے کچھ نہیں سیکھ پارہے ہیں۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ چائلڈ کیئر اور ابتدائی تعلیم کی عدم فراہمی سے والدین، خاص طور پرغیررسمی شعبوں میں کام کرنی والی ماؤں کو اپنے بچوں کو کام پر لگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔بچوں کی ابتدائی تعلیم پر مبنی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ براعظم افریقا میں 10 سے 9 سے زائد، ایشیا میں 10 میں سے تقریباً 7 خواتین غیر رسمی شعبوں میں کام کرتی ہیں اور انہیں کوئی سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان غیر یقینی حالات اور کم تنخواہوں کے باعث کئی والدین غربت کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔