اصل تبدیلی شروع ۔۔۔ ضائع شدہ پلاسٹک بیگز کو استعمال کر کے گیس بنانے کا منصوبہ تیار ، عمل درآمد کب اور کہاں سے ہو گا؟ دل خوش کر دینے والی تفصیلات

پشاور(ویب ڈیسک) پشاور میں پلاسٹک کے فضلے سے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) تیار کرنے کے منصوبے کا افتتاح کردیا گیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش نے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک شاپنگ بیگ ختم کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں،

پلاسٹک کے فضلے کو اب ایل پی جی کی تیاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی تیاری میں کسی بھی قسم کے گیس کا اخراج نہیں ہوگااور پلاسٹک فضلے سے ایل پی جی تیار کرنے کا عمل ماحول دوست ہوگا۔ان کا کہا تھا کہ پشاور میں یومیہ 1400 ٹن کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے جس میں سے 200 ٹن پلاسٹک کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دور میں موسمیاتی تبدیلیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اشیاء بنانے میں بے شمار کمپنیاں سرگرم ہیں، متعدد گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسی ماحول دوست گاڑیاں تیار کر رہی ہیں جو بجلی سے چلتی ہیں۔حال ہی میں امریکا کی آٹو موٹو فورڈ کمپنی کچرے کو استعمال کرنے کا ایک نیا آئیڈیا لے کر آئی ہے اور کمپنی کی جانب سے اعلان کیاگیا ہے کہ وہ گاڑی کے پارٹس بنانے کے لیے کافی کے بیجوں کا کچرا استعمال کریں گے۔گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’وہ بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چین میک ڈونلڈ سے کافی کے بیجوں کا کچرا حاصل کریں گے۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے ’ہم نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کافی کے بیجوں کا کچرا ایک انتہائی پائیدار مادے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس سے گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے پارٹس بنائے جا سکتے ہیں‘۔فورڈ کمپنی کے مطابق کافی کے بیجوں سے حاصل کیا جانے والا کچرا گاڑیوں کی ہیڈلائٹ ماونٹنگ پینل اور اندرونی و بیرونی پارٹس کے دیگر حصے بنانے کے لیے کارآمد ثابت ہو گا۔مپنی حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آکسیجن کی سطح کو کم رکھتے ہوئے کافی کے بیجوں کے کچرے کو گرم کرنا اور دیگر پلاسٹک میں شامل کرنے کے نتیجے میں ایک ایسا مواد بنے گا جس کو مختلف شکلوں میں تبدیل کیا جا سکے گا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طریقہ سے تیار کردہ پارٹس 20 فیصد ہلکے ہیں اور اسے بنانے کے دوران مولڈنگ کے عمل میں 25 فیصد کم توانائی کی ضرورت ہو گی۔