وہ دوہری شہریت والا جو صرف والدین سے ملنے پاکستان آیا اور عمران اینڈ کمپنی نے اسے گھیر گھار کر معاون خصوصی بنا دیا ؟ رؤف کلاسرا کا حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) ویسے ایک بات کی داد تحریکِ انصاف کو دینا پڑے گی کہ ہرکام کا جواز یہ لوگ ٹوئٹر پر ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ابھی دیکھ لیں جب سے سپیشل اسسٹنٹس اور مشیروں کی غیرملکی شہریت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے بعد یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ قانون میں کہاں لکھا ہے

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیرملکی شہریت کا حامل شخص ایڈوائزر نہیں لگ سکتا؟مزے کی بات ہے آپ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکتے‘ آپ الیکشن نہیں لڑ سکتے اگر آپ کے پاس فارن نیشنیلٹی ہے‘ جن لوگوں نے چھپا کر الیکشن لڑے وہ بعد میں سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے‘ لیکن آپ وزیراعظم کے مشیر بن سکتے ہیں یا ان کے معتمدِ خاص۔ آپ فارن نیشنل ہیں تو سینیٹ‘ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں نہیں بیٹھ سکتے لیکن سیدھے کابینہ میں بیٹھ سکتے ہیں۔ ملک کے سب اہم فیصلوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔ اور تو اور زلفی بخاری کی طرح آپ اس ٹاسک فورس میں بھی شامل ہوسکتے ہیں جس نے اربوں ڈالرز کے روزویلٹ ہوٹل نیویارک کو دائیں بائیں کرنا ہے۔ آپ یہ بھی نوٹیفکیشن میں لکھوا سکتے ہیں کہ زلفی بخاری کے بغیرروز ویلٹ ہوٹل پر کوئی اجلاس نہیں ہوگا ۔ وہ ہوں گے تو اجلاس ہوگا ورنہ وزیر‘ سفیر‘ افسر کوئی بھی اجلاس نہیں بلاسکتا ۔ اب سب کہتے ہیں کہ کہاں ہے قانون جو ان لوگوں کو مشیر بننے سے روکتا ہو؟سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے قانون ہے تو پھر ایڈوائزر کے لیے کیوں نہیں کہ وہ فارن نیشنل نہ ہو؟ اور تو اور آپ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بھی امریکہ سے لاتے ہیں جس نے اب محمد مالک کے شو میں دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ وہ تو پاکستان میں اپنے والدین کی خدمت کرنے آئے تھے ا ور اگلوں نے انہیں نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بنا دیا

۔ اندازہ کریں ایک بندہ امریکہ سے پاکستان آتا ہے کہ اس کے والدین کو اس کی ضرورت ہے اور اسے وزیراعظم ہاؤس لے جا کر قومی سلامتی کے اہم امور کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے۔ زلفی بخاری بار بارپوچھتے ہیں کہ کون سا قانون انہیں روکتا ہے۔ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ وزیراعظم اگر چاہیں تو امریکی صدر ٹرمپ کو بھی کابینہ کے اجلاس میں بلاسکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ قانون کیوںنہیں ہے؟ کبھی ہم نے سوچا کہ قانون کب اور کیوں بنائے جاتے ہیں؟ کسی کے ذہن میں کوئی قانون نہیں ہوتا جب تک اس کی اچانک ضرورت پیش نہ آئے۔ ہر قانون ایک ہی رات میں نہیں بنا بلکہ انسان ہزاروں سال سے قانون بناتا آیا ہے۔ پرانے قانون بدلے گئے اور نئے بنتے گئے۔ کبھی یہ بھی قانون تھا کہ لوگوں کو زندہ جلا کر سزائے موت دی جاتی تھی‘ پھر پھانسی دی جانے لگی ‘مگر آج دنیا کے ڈیڑھ سو ملکوں میں یہ قانون بھی موجود نہیں‘ وہ عمر قید دیتے ہیں۔ اس طرح ہندوستان میں انگریزوں کے آنے سے پہلے اعلیٰ ہندو خاندان کی عورت کو بیوہ ہونے پر خاوند کے ساتھ جلا دینے کی بھیانک رسم موجود تھی‘ لیکن انگریزوں نے اس رسم کو ایک قانون کے تحت ختم کیا۔ یہ چند مثالیں ہیں کہ قانون بنتے ہیں‘ تبدیل ہوتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بنتے رہتے ہیں۔چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ کوئی قانون نہیں ہے تو پھر عمران خان صاحب کو کیا کرنا چاہیے؟ چپ کر جانا چاہیے اور تمام یار دوستوں کو‘ جنہیں وہ باہر سے لائے ہیں ‘

کے ذریعے اسی طرح کابینہ اور وزارتوں کے معاملات چلاتے رہنا چاہیے؟ عمران خان صاحب کیوں نیا قانون نہیں بنا سکتے‘ جس کے تحت وہ ایسے تمام لوگوں کو روک دیں جو فارن نیشنل ہیں؟ آپ کہیں گے وزیر اعظم صاحب کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تو وہ کیا کریں؟ پہلی بات یہ ہے جو کام حکومتوں نے کرنے ہوتے ہیں وہ کرگزرتی ہیں اور قانون بھی پاس ہوجاتے ہیں۔ اس میں ویسے بھی رولز آف بزنس تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا پھر آپ کو ایکٹ آف پارلیمنٹ میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے لیے آپ کو دو تہائی ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سادہ اکثریت سے یہ کام ہو جاتا ہے‘ ورنہ اسی ہاؤس نے پچھلا بجٹ 160 ووٹوں سے پاس کر لیا حالانکہ ایک سو بہتّر ووٹوں پر وزیراعظم بنتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت ایک سو بہتّر ووٹ تو ہاؤس میں شو کرتی تاکہ ایک اخلاقی برتری رہے‘ پھر بھی اسے قبول کر لیا گیا۔ اسی طرح جب عمران خان صاحب نے کاروباری لوگوں کوگیس سرچارج یا سیس کے نام پر تین سو ارب روپے معاف کرنے کا پروگرام بنایا تو بھی وہ راتوں رات ایک آرڈیننس لے آئے ‘ جس کے تحت کاروباری لوگوں کو کہا گیا کہ آپ ہمیں دو سو ارب روپے دے دیں اور تین سوا رب روپے آپ خود رکھ لیں۔ یہ پانچ سو ارب ان لوگوں نے عوام سے ٹیکس کی صورت میں اکٹھے کئے تھے ۔ اندازہ کریں کہ عوام سے لیے ہوئے پیسے کاروباری لوگوں کو معاف کیے جارہے تھے اور اس

کیلئے بھی قانون بنا لیا‘ جسے بعد میں میڈیا کے شور مچانے پر واپس لے لیا گیا۔ اسی طرح نیب کے پر کاٹنے کے لیے بھی ایک نیا قانون لایا گیا۔ نیا آرڈیننس صدر علوی نے جاری کیا جس کے تحت نیب کے بہت سے اختیارات ختم کر دیے گئے اور عمران خان صاحب نے کراچی میں خطاب میں کہا کہ میرے بہت سے کاروباری دوست جو نیب سے پریشان تھے‘ وہ خوش ہوجائیں۔ اس طرح بجٹ میں ایک کلاز پاس کرائی گئی جس کے تحت انہوں نے چند وزیروں کی انڈسٹری کو فائدہ دیا۔ ایک اور آرڈیننس کے تحت ان کاروباری لوگوں کو فائدے دئیے گئے جن کے خلاف نیب کے مقدمے تھے۔ اس طرح ایک قانون لایا گیا ہے جس کے تحت کنسٹرکشن کی صنعت کو بے پناہ مالی فائدے دیے گئے ہیں۔ چلیں ان سب کو چھوڑیں ابھی پچھلے دنوں ایک اور آرڈ یننس لایا گیا جس کے تحت بھارتی جاسوس کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کیلئے قانون میں تبدیلی کی گئی اور یہ آرڈیننس وزیر اعظم صاحب کی کابینہ نے پہلے منظور کیا اور پھر صدر عارف علوی نے اسے جاری کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان صاحب اور ان کی حکومت درجنوں ایسے نئے قوانین جاری کرسکتی ہے جو پہلے موجود نہیں تھے تو اسے فارن نیشنلز کو روکنے کے لیے قانون لانے میں کیا مسئلہ ہے؟ یہ اور بات ہے کہ ارشد شریف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان صاحب سے زلفی بخاری بارے پوچھا تھا کہ آپ کیسے انہیں جانتے ہیں

تو جواب دیاکہ وہ ان کا پرانا دوست ہے اور بڑا زبردست بزنس مین ہے ۔ ارشد شریف نے پوچھا :آپ کا دوست کیا کرتا ہے؟ جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم‘ وہ کیا کاروبار کرتا ہے۔ اب جس دوست کے کاروبار کا علم عمران خان صاحب کو نہیں ہے‘ اسے نہ صرف مشیر لگایا گیا بلکہ وزیر کا درجہ دے کر کابینہ میں بھی بٹھایا گیا اور پھر ہر دورے میں وہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور روزویلٹ ہوٹل کی فروخت کے بھی وہ ذمہ دار ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ ہر حکومت اپنے فارن دوستوں کو اس ملک کی خدمت کے لیے نہیں لاتی بلکہ ان کے اپنے کئی مفادات ہوتے ہیں۔ عمران خان صاحب جو دن رات فارن نیشنل مشیروں کے خلاف تقریریں کرتے تھے‘ آج انہوں نے اپنی کابینہ انہی سے بھر لی ہے۔ یہ فارن دوست بیرون ملک حکمرانوں کے بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے خرچے‘ رہن سہن‘ ایئرپورٹ سے پک اینڈ ڈراپ سروس بھی فراہم کرتے ہیں۔ گھر کا خرچہ بھی چلاتے ہیں ۔ ایک بات ذہن میں رکھیں دنیا میں کوئی فری لنچ نہیں ہوتا۔ کسی نے خوبصورت بات کہی تھی کہ اللہ کی رحمت کے علاوہ دنیا میں کوئی چیز مفت نہیں ملتی۔ سب کی قیمت ہے اور بھاری ادائیگی عوام کی جیب سے ہی ہوتی ہے‘ کیونکہ یہ حکمران خود تو جیب میں بٹوہ تک نہیں رکھتے۔ اگر کسی نے ان حکمرانوں کا کبھی بٹوہ دیکھا ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ یہی سب ان کی اے ٹی ایم ہیں اور یہی ان کے بٹوے ہیں ۔(ش س م)