تیرا روم نمبر کیا ہے ؟ نامور پاکستانی کرکٹر جاوید میانداد کھیل کے دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں سے یہ بات کیوں پوچھا کرتے ؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق لیجینڈ کرکٹر اور سابق کپتان جاوید میاں داد فیلڈ میں ہمیشہ سے ہی اپنے طنز ومزاح کے حوالے سے مشہور رہے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق فیلڈ میں کہے جانے والے ان کے الفاظ آف سائیڈ پر ان کے بیک فٹ پنچز جتنے ہی شاندار ہوتے تھے۔

انہی میں سے ان کا ایک مشہور جملہ تھا ’’تیرا روم نمبر کیا ہے‘‘ جو انہوں نے سابق بھارتی لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی سے کہے تھے۔ جاوید میاں داد اور دلیپ دوشی کے درمیان اس گفتگو کو کئی پاکستان اور بھارتی سابق کرکٹرز نے مختلف انداز سے پیش کیا جن میں سنیل گواسکر بھی شامل ہیں۔1983ء میں بنگلور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں جاوید میاں داد اور دلیپ دوشی کے درمیان اس واقعے کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے دلیپ دوشی نے بھارتی اخبار سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میاں داد ایک عظیم کرکٹر تھے، بنگلور ٹیسٹ میں بار بار مجھ سے پوچھتے ’’تیرا روم نمبر کیا ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر جاوید میاں داد آن فیلڈ میں جارحانہ مزاج رکھتے تھے، وہ ایک عظیم بلے باز تھے، ان کا شمار دنیا کے ان بہترین کرکٹرز میں ہوتا تھا جنہیں میں نے باولنگ کی، میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔وہ میرے اچھے دوست بھی ہیں، میدان سے باہر ہم دونوں اچھے دوستوں کی طرح ہوتے تھے لیکن میدان میں ان کا کردار یکسر مختلف ہوتا تھا۔ سابق اسپنر مرلی کارتھک سے انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ جاوید میاں داد آف اسٹمپ پر کھیلنا پسند کرتے تھے۔ میں اسٹمپس کی جانب باولنگ کرتا تھا۔میں جاوید میاں داد کو ان کے پسندیدہ شاٹس کھیلنے سے محدود رکھتا تھا اور اگر وہ اپنے پسندیدہ اسٹوکس کھیلتے تو انہیں رسک لینا پڑتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بسا اوقات وہ جھنجھلا جاتے تھے تاہم ان کے پاس مخالف کی توجہ بٹانے کیلئے ایک ہی طریقہ رہ جاتا تھا کہ وہ اسے غصہ دلائیں اور وہ اس کام میں بہت ماہر تھے، وہ کرن مورے کیساتھ ایسا کرچکے تھے، وہ ڈینس لیلی کیساتھ بھی ایسا کرچکے تھے اور میرے ساتھ بھی کئی مرتبہ یہ طریقہ آزمایا۔دلیپ دوشی نے بتایا کہ وہ قریب کھڑے فیلڈرز کو کچھ کہتے تھے کہ وہ یہ پیغام مجھ تک پہنچائیں۔