ٹک ٹاک کے ذریعے کس طرح آپ کی جاسوسی کی جا رہی ہے؟ تفصیلات جانتے ہی آپ ایلیکیشن ڈیلیٹ کر دیں گے

لندن(ویب ڈیسک) چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر مغربی ممالک میں پابندی عائد کی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے چینی حکومت لوگوں کی جاسوسی کر رہی ہے۔اب ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس ایپ کے ذریعے نہ صرف چینی حکومت کی طرف سے کم عمر بچوں کی جاسوسی کرنے کا الزام سامنے

آ گیا ہے بلکہ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بچوں میں جنسی رغبت رکھنے والے شیطان بھی اس ایپ کے ذریعے بچوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میل آن لائن کے مطابق اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی ByteDanceکا ہیڈکوارٹربیجنگ میں ہے اور اس کے چین کی کمیونسٹ پارٹی سے قریبی روابط ہیں۔ غالب امکان ہے کہ اس ایپ کے ذریعے چین دیگر صارفین سمیت کم عمر لڑکے لڑکیوں کی معلومات بھی حاصل کر رہی ہے۔اخبار کے مطابق ٹک ٹاک کے لوگوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا ایک ثبوت یہ سامنے آیا ہے کہ ٹک ٹاک کی طرف سے ایسے ہزاروں صارفین کے اکاﺅنٹس معطل کیے جا رہے ہیں جو بچوں کو فحش ڈائریکٹ میسجز کرتے ہیں۔ ان میسجز کے ذریعے بچوں میں جنسی رغبت رکھنے والے یہ درندے کم عمر لڑکے لڑکیوں کو ورغلانے اور اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ٹک ٹاک صارفین کے ڈائریکٹ میسجز پر نظر رکھتی ہے اور پالیسی کی پہلی بار خلاف ورزی پر اکاﺅنٹ ایک ہفتے کے لیے معطل کیا جاتا ہے، دوسری بار ایک مہینے کے لیے اور جو تیسری بار یہ حرکت کرے اسے مستقل بین کر دیا جاتا ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم برنارڈوز نے والدین کے لیے ایک وارننگ جاری کی ہے جس میں انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ٹک ٹاک پر سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور آگاہ رہیں کہ وہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے کس شخص کے ساتھ رابطے میں ہیں۔