وزیراعظم عمران خان کا مشیر اطلاعات ہونا مہنگا پڑ گیا ، عاصم سلیم باجوہ کی منی ٹریل کے حوالے سے ایسا سوال کھڑا ہو گیا کہ پوری قوم دنگ رہ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ان کے مشیر اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ بھی تنقید کی زد میں آگئے ، جنرل باجوہ کا عروج پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کے دور میں ہوا

جرمن اردو ویب سائٹ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔ جب انہوں نے فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے ‘آئی ایس پی آر‘ کی کمان سنبھالی اور اسے نئے خطوط پر استوار کیا۔ان کی خدمات کے عوض انہیں ترقی ملی اور بعد میں بلوچستان کی سدرن کمانڈ کا سربراہ لگا دیا گیا۔ عاصم باجوہ اِس وقت وزیراعظم عمران خان کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر ”عاصم باجوہ منی ٹریل دو‘‘ مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا ہے لیکن تا وقت انہوں نے خود اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے نے پاکستانی فوج کے ایک اور سابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ بحیثیت ایک سابق فوجی افسر، وہ اس سارے معاملے کوکیسے دیکھتے ہیں؟ جنرل شعیب: میری نظر میں تو جس شخص نے اپنی مال ملکیت ڈکلیئر کردی، اُس سے منی ٹریل مانگنا شرمناک بات ہے۔ سوال اگر کوئی اٹھائے تو وہ صرف ایف بی آر پوچھ سکتا ہے، وہ بھی تب کہ اگر جنرل باجوہ نے اپنے ٹیکس ریٹرنز اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں یہ چیزیں ڈکلیئر نہ کی ہوں۔ سوال اُن پر اٹھتا ہے جو اپنے اثاثے چھپاتے ہیں اور جن پر کرپشن کے الزامات ہوتے۔ اِن پر سوال بدنیتی کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اب جبکہ قوم مطالبہ کر رہی ہے تو وہ خود ہی منی ٹریل دے دیں تاکہ اگر کوئی شکوک و شبہات ہیں تو دور ہو جائیں؟جنرل شعیب نے کہا : نہیں، بلکل نہیں۔ کیوں دیں؟ لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سوال اٹھائیں۔ وہ حکومتی عہدے پہ تو اب آئے ہیں۔ اس سے پہلے تو انہوں نے ساری زندگی فوج میں گزاری۔ ان کی ساری کمائی ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے تو بڑے صاف ستھرے طریقے سے سب کچھ سامنے رکھ دیا ہے۔ اُن پر سوال اٹھانا تو بڑی زیادتی کی بات ہے۔جہاں تک میری معلومات ہیں تو انہوں نے دو چیزیں ایسی دکھائی ہیں جو ان کی ذاتی ہیں۔ اس میں گلبرگ کا پانچ کنال کا ایک پلاٹ ہے اور دوسرا فیملی بزنس میں شیئر دکھائے ہیں۔ باقی سب جو زمینیں اور ملکیتیں دکھائی ہیں وہ قانونی طور پر فوج میں سروس اور سینیارٹی میں ملتی ہیں۔ لوگوں کو کچھ پتہ ہوتا نہیں بس تنقید کرنے نکل پرتے ہیں۔