مشیر تجارت تو بڑی پہنچی ہوئی چیز نکلے! پاکستان ایل این جی ٹرمینلز کے لیے بڑی شخصیت کو سفارشی عہدہ دلوا دیا، عبد الرزاق داؤد اس سے پہلے اپنے صاحبزادے کو کونسا بڑا ٹھیکہ دلوا چکے؟تہلکہ خیز انکشاف

لاہور( ویب ڈیسک) مختلف اداروں میں اہم تعیناتیوں کا معاملہ، حکومتی شخصیات میں مفادات کا ٹکراؤ جاری، مشیر تجارت رزاق داؤد کی ہدایت پر چیئرمین اینگرو گروپ کو اہم ترین عہدے سے نواز دیا گیا، رزاق داؤد اس سے قبل اپنے بیٹے کو بھی بڑا عہدہ دلوا چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق

مشیر تجارت عبد الرزق داؤد کے احکامات پر ڈائریکٹر اینگر گروپ عاصم مرتضیٰ خان کو پی ایل این جی ٹرمینلز کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔ اس حوالے سے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عاصم حسن نہ صرف اینگر و گروپ کے ڈائریکٹر ہیں بلکہ کمپنی سے بھاری معاوضہ بھی وصول کر رہے ہیں۔یہاں پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایل این جی کی درآمد اور ٹرمینلز میں اینگر گروپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، اس لیے اینگر گروپپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہی عاصم حسن کو پی ایلاین جی ٹرمنیلز کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم حسن کی سفارش مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد کی جانب سے کی گئی تھی۔ عبد الرزاق داؤد کی جانب سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ وہ اس سفارش سے قبل اپنے صاحبزادے کو کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے ضروری آلات و سازوسامان کی ایکسپورٹ کا ٹھیکہ دلوا چکے ہیں ۔دوسری جانب سینئر تجزیہ کار عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملکی ایجنسی کی رپورٹ پر کرپشن میں ملوث وزیر کو فارغ کر دیا ، پچھلے کچھ دنوں سے یہ خبریں سامنے آرہی تھیں کہ عثمان بُزدار جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران یعقوب کا کہنا تھا کہ اصل خبر یہ تھی کہ اسد کھوکھر کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا رائٹ ہنڈ سمجھا جاتا تھا، خفیہ ادارے کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو رپورٹ

پیش کی گئی کہ پنجاب میں جو کرپشن کی باتیں ہورہی ہیں ، میجر اعظم سلیمان کو جب سیکرٹری پنجاب تعینات کیا گیا تو پھر انہوں نے فوری طور پر کچھ افسران کو صوبہ بد کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ آصف بلال لودھی کمشنر لاہور تعینات ہوئے تو اسد کھوکھر کے کہنے پر ہی ان افسران کو واپس لایا گیا لیکن حقیقت کچھ اور تھی کیونکہ اسد کھوکھر صرف ایک مہرہ تھے، ایک پراپرٹی ٹائیکون ہے لاہور میں جو نگ روڈ تعمیر کی جا رہی ہے اس پر تحفظات ہیں، کچھ عرصہ قبل جب جب کوئی کمشنر لاہور کے عہدے پر تعینات تھا تو اس کا کیس عدالت میں چل رہا تھا، اس کیس کی پیروی کے لیے کمشنر لاہور خود عدالت میں پیش ہوتے تھے ، پراپرٹی ٹائیکون کی جانب سے کمشنر لاہور سے کہا گیا ہے کہ جناب ! آپ ہر بار کیوں آجاتے ہیں، جس پر کمشنر لاہور نے پراپرٹی ٹائیکون کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ میرا کام ہے، پراپرٹی ٹائیکون کی جانب سے کمشنر لاہور کو کہا گیا کہ میں آپ کو نہیں چھوڑونگا، کمشنر لاہور نے جب پراپرٹی ٹائیکون کی یہ بات سنی تو کہا کہ دیکھ لیں گے، آپ نے جو کرنا ہے کر لیں، اصل میں آسف بلال لودھی بھی اسی راستے سے آئے ہیں، جب یہ سارا مسئلہ عمران خان کے نوٹس میں آیا تو وزیر اعظم نے انکو بھی عہدے سے ہٹا دیا اور ساتھ ہی عثمان بُزدار کو بھی یہ وارننگ دی گئی کہ تمہارا نمبر بھی لگ سکتا ہے۔