مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ایسی خواہش جو ہمیشہ ادھوری رہی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور محقق اور لکھاری وقار مصطفیٰ بی بی سی کے لیے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ڈبلیو جی او سبورن کے مطابق مہاراجہ چاہتے تھے کہ ان کے ہاں کوئی انگریز خاتون بھی ہو۔ اسی ضمن میں وہ مہاراجہ کے ساتھ ایک مکالمہ یوں بیان کرتے ہیں

کیا لارڈ آک لینڈ شادی شدہ ہیں؟نہیں۔کیا؟ ان کی ایک بھی بیوی نہیں؟مجھے علم نہیں۔آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟میں خرچہ نہیں چلا سکتا۔کیوں نہیں؟ کیا انگریز بیویوں کا اتنا خرچہ ہوتا ہے؟جی، جناب۔میں کچھ عرصہ پہلے اپنے لیے بھی چاہتا تھا۔ میں نے حکومت کو خط بھی لکھا لیکن انھوں نے بھجوائی ہی نہیں۔جندکور کے والد منا سنگھ اولکھ نے رنجیت سنگھ کے سامنے تب اپنی بیٹی کی خوبیاں بیان کیں جب وہ اپنے جانشین کھڑک سنگھ کی کمزور صحت کے بارے میں پریشان تھے۔ مہاراجہ نے 1835 میں جندکور کے گاؤں ‘اپنی کمان اور تلوار بھیج کر’ شادی کی۔1835 میں جندکور نے دلیپ سنگھ کو جنم دیا جو سکھ سلطنت کے آخری مہاراجہ بنے۔ جندکور کو مہارانی کا خطاب ملا۔ ان سے پہلے یہ خطاب صرف پہلی بیوی مہتاب کور کو ملا تھا۔لکھاری آروی سمتھ کا کہنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ آخری برسوں میں بڑھتی عمر اور حرم میں موجود 17 بیویوں کے مابین چپقلش جیسے مسائل کا شکار ہوئے۔ 1839 میں فالج جان لے گیا ۔ ‘ڈاکٹر مارٹن ہونی برجر لکھتے ہیں ’‘رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد سکھ سلطنت 10 سال تک قائم رہی۔ مہاراجہ کھڑک سنگھ (1839 سے 1841 تک) اور شیر سنگھ (1841 سے 1843 تک) کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد دلیپ سنگھ کی کم عمری کے باعث 1843 سے 1846 تک جندکور ان کی نائب رہیں اور پنجاب پر قبضہ کرتی برطانوی فوج کے سامنے سینہ سپر ہوئیں۔ 1861 میں، یعنی تیرہ سال بعد، ان کے بیٹے دلیپ سنگھ انھیں لندن لے گئے جہاں 46 سال کی عمر میں ان کا انتقال 1863 میں ہوا۔ دلیپ سنگھ کو انگریز اپنے ساتھ انگلستان لے گئے تھے اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انھوں نے ایک بار سکھ سلطنت واپس حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی۔ ان کی زندگی پر ہالی وڈ کی فلم ‘دی بلیک پرنس’ بنی۔