پنجاب کے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بیوی مہتاب کور اکثر اپنے میکے کیوں رہتی تھی ، وہ کس بات سے نالاں تھی ؟ بی بی سی کی حیران کن رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سکرچکیا مثل کے سربراہ مہان سنگھ اور راج کور کا بیٹا 1780 میں پیدا ہوا تو بدھ سنگھ نام ملا۔ بچپن ہی میں چیچک نے بائیں آنکھ کی بینائی چھینی اور چہرے پر گڑھے ڈال دیے۔ چھوٹا قد، گورمکھی حروف تہجی کے علاوہ نہ کچھ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے۔

نامور صحافی اور محقق وقار مصطفیٰ بی بی سی کے لیے اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں گھڑسواری اور گھر پر فن حرب خوب خوب سیکھا۔ پہلی لڑائی دس سال کی عمر میں اپنے والد کے ہم رکاب لڑی۔میدان کارزار میں لڑکپن ہی میں فتح پائی تو اسی رعایت سے والد نے نام رنجیت رکھ دیا۔گربخش کی بیوی سدا کور نے کنہیا مثل کے سربراہ اور اپنے سسر پر صلح جوئی کے لیے زور دیا اور وہ ان کی بات مان بھی گئے۔ سدا کور نے دشمنی کے بجائے مل کر آگے بڑھنے اور طاقت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جوالا مکھی کے مقام پر رنجیت سنگھ کی والدہ راج کور سے 1786 میں ملیں اور دونوں خواتین نے دشمنی ختم کرنے کے لیے اپنے بچوں رنجیت سنگھ اور مہتاب کور کی شادی کا فیصلہ کیا۔رنجیت سنگھ بارہ سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ تب ہی سے ان کی زندگی میں خواتین کے اہم کردار کی ابتدا ہوتی ہے۔والد کی جگہ سکرچکیا مثل کے حکمران ہوئے تو والدہ راج کور کی سرپرستی میسر آئی جو اپنے معاون دیوان لکھ پت رائے سے مل کر جائیداد کا بندوبست کرتی تھیں۔پندرہ یا سولہ برس کے ہوں گے جب کنہیا مثل کے بانی جے سنگھ کنہیا کی پوتی اور گوربخش سنگھ اور سدا کور کی اکلوتی بیٹی مہتاب کور سے شادی ہوئی۔ مہتاب کور رنجیت سنگھ سے دو سال چھوٹی تھیں۔ تاہم یہ شادی ناکام ہی رہی کیوں کہ مہتاب کور نے کبھی یہ نہ بھلایا کہ

ان کے باپ کی رنجیت سنگھ کے والد نے جان لی تھی اور وہ زیادہ عرصہ اپنے میکے ہی رہیں۔ مورخین کے مطابق مہارانی کا خطاب صرف انھیں ہی ملا باقی سب رانیاں تھیں۔ ان کی وفات کے بعد آخری رانی جندکور کو یہ خطاب نصیب ہوا۔رنجیت سنگھ کی عمر 18 سال تھی جب ان کی ماں کی وفات ہوئی۔ تب ان کی پہلی بیوی مہتاب کور کی والدہ سدا کور ان کی مدد کے لیے موجود تھیں۔سدا کور نے رنجیت سنگھ کے راج کی بنیادیں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ افغان حکمران شاہ زمان نے تیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ لشکر کشی کی اور پنجاب میں لوٹ مار کی۔ تمام سکھ سردار افغانوں سے لڑنے سے خائف تھے۔ سدا کور نے رنجیت سنگھ کی طرف سے امرتسر میں سربت خالصہ کا اکٹھ کیا اور سکھ مثل داروں سے کہا ‘خالصہ جی اگر آپ میں لڑنے کی ہمت نہیں ہے تو میں پنجاب کی آن کی خاطر لڑتے لڑتے جان دے دوں گی۔’سدا کور رنجیت سنگھ کی خوش دامن ہی نہیں ان کی قسمت کی دیوی بھی تھیں۔ سدا کور نے، جو اپنے سسر کی 1789 میں وفات کے بعد کنہیا مثل کی سربراہ بنی تھیں، مہاراجہ بننے میں رنجیت سنگھ کی مدد کی۔ سدا کور ہی کے کہنے پر رنجیت سنگھ کا 19 سال کی عمر میں دفاعی فوج کی کمان سنبھالنے کے لیے انتخاب ہوا۔رنجیت سنگھ نے 1797 اور 1798 میں شاہ زمان کو شکست دی اور کنہیا مثل کے ساتھ مل کر بھنگی حکمرانوں کو 1799 میں لاہور سے نکال باہر کیا۔ بعد کے برسوں میں وسطی پنجاب کا ستلج سے جہلم تک کا علاقہ ان کے زیرنگیں ہوا اور سکھ سلطنت کی بنیاد ڈالی گئی۔1804 میں پیدا ہونے والے مہتاب کور کے پہلے بیٹے ایشر سنگھ ڈیڑھ یا دو سال کی عمر میں چل بسے۔ یہ رنجیت سنگھ کے دوسرے بیٹے تھے کیوں کہ ان سے پہلے کھڑک سنگھ کی پیدائش 1801 میں ہو چکی تھی جو دوسری بیوی دتار کور کے بیٹے تھے۔ یہ دتار کور سے 1798 میں شادی ہی تھی جس سے مہتاب کور کی رنجیت سنگھ سے عارضی علیحدگی مکمل ہوگئی۔دتار کور نکئی مثل کے سربراہ کی بہن اور سردار رن سنگھ نکئی کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔ ان کا اصل نام راج کور تھا جو رنجیت سنگھ کی والدہ کا بھی تھا۔ اسی لیے پنجابی روایت کے احترام میں یہ نام بدل دیا گیا۔ 1801 میں انھوں نے کھڑک سنگھ کو جنم دیا جو رنجیت سنگھ کے جاں نشین ہوئے۔ کھڑک سنگھ کو حکمرانی کے پہلے ایک آدھ سال ہی زندگی سے محروم کر دیا گیا ۔