شریفوں اور زر والوں کے دور میں قائم ہونے والے امارت کے محلات زمین بوس ہونے کا وقت آن پہنچا ، اگر عمران حکومت کو کچھ وقت مزید مل گیا تو پاکستان کا حلیہ کیا ہو گا ؟ سابق آرمی افسر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) چار پانچ ماہ سے ساری دنیا کے ساتھ پاکستان کی فضاؤں پر بھی کورونا کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بعض حکومتی اہلکار یہ بیان دے کر ’سرخرو‘ ہو جاتے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک گھنگھور گھٹاؤں کی زد پر ہیں لیکن پاکستان ان چند خوش نصیب ملکوں میں شامل ہے

پاک فوج کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں مطلع صرف ابر آلود ہے، بادل برستے تو ہیں لیکن موسلا دھار بارشیں فی الحال ہماری فضاؤں سے دور ہیں۔ پھر بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارے جیسے لوگ خواہ مخواہ باہر نہیں نکلتے۔ کسی سے ہاتھ نہیں ملاتے اور نہ ہی کسی کے ’نزدیک‘ جاتے ہیں بس بقولِ فلمی شاعر دور دور سے نظارا کر لینے پر اکتفا کئے ہوئے ہیں۔ البتہ اس عالمِ یاس میں میڈیا کو دعائیں دیتے ہیں کہ اس کے طفیل لبوں اور رخساروں پر طاری سنجیدگی بعض اوقات مسکراہٹ میں بدل جاتی ہے اور کبھی کبھی تو قہقہے لگانے کو بھی دل چاہتا ہے۔مثلاً آج اخباروں کی فائل دیکھی ہے تو ایک مطبوعہ نیوز الرٹ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے پڑھنے کو ملا ہے۔ فرماتے ہیں: ”حکومت کو مزید وقت دینا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں“۔ ان کے مطابق ملک کا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ موجودہ حکومت جعلی ہے۔ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور اب اس کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ارشادات انہوں نے اپنی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی اور سینیٹر مولانا فیض محمد سے کوئٹہ میں ایک گفتگو کے دوران لبِ شیریں سخن سے ادا کئے۔ مولانا جب سے اقتدار سے الگ ہوئے ہیں، انہیں کسی کروٹ چین نہیں آتا۔ ملک کے وہ دو بڑی سیاسی جماعتیں جو اسمبلی اور سینیٹ میں ہیں ان کے مابین رابطوں اور نامہ و پیام کا کام انہی مولانا کے سپرد تھا (اور ہے)۔

کاندھوں پر صافہ ڈالے اور سر پر مخصوص اسٹائل کی دستار سجائے پچھلے دنوں وہ ملک کی دوبڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے محوِ گفتگو تھے۔ ان دونوں حضرات نے تو منہ پر ماسک چڑھا رکھے تھے جبکہ مولانا اس بدعت کے حق میں نہیں۔ ان کا فرمانا ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کا ایک وقت مقرر ہے اس لئے جتنی بھی احتیاطیں کر لی جائیں، وہ لمحہ ٹل نہیں سکتا۔ اس لئے ماسک منہ پر چڑھانا، مصافحہ و معانقہ نہ کرنا، خواہ مخواہ بار بار ہاتھ دھونا اور خلقِ خدا سے فاصلے پر رہنا بالکل لغو باتیں ہیں۔ اس ملاقات کی جو تصویر میڈیا پر آئی اور اخباروں میں شائع ہوئی ہے وہ حضرت مولانا کی کتاب و سنت سے وابستگی کی بین دلیل سمجھی جا رہی ہے اور چونکہ اپوزیشن کا بیانیہ یہ ہے کہ حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے، صبح گئی یا شام گئی اس لئے مولانا نے اپنی پارٹی کے وفد سے ملاقات میں یہ دوٹوک فیصلہ سنا دیا ہے کہ اس حکومت کو مزید وقت دینا”ملک و قوم“ کے مفاد میں نہیں …… بندہ پوچھے حضرت! ملک و قوم نے اس طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار آپ کو کب سے دے دیا ہے؟ آپ کا اِترانا اور اس طرح کی گیدڑ بھبھکیاں دینا اس وقت مباح ہوتا جب ’ملک و قوم‘ آپ کو اختیار کی کوئی کمزور سی ڈوری بھی آپ کے ہاتھ میں تھما دیتی۔ لیکن قوم نے تو آپ کو گزشتہ الیکشنوں میں بامِ اقتدار سے بالکل نیچے پھینک دیا اور بیک بینی و دوگوش اسمبلیوں سے باہر نکال دیا۔

ہاں اگر یہ بیان آپ کے فرزندِ ارجمند رکن قومی اسمبلی کی طرف سے آتا تو شائد اس کی اتنی سبکی یا جگ ہنسائی نہ ہوتی جو آپ کی طرف سے دیئے جانے والے اس بیان کی ہو رہی ہے۔ہمارے یاس و الم کو عارضی طور پر دور کرنے میں ایک اور مولانا کا ہاتھ بھی ہے۔ ان کا اسمِ گرامی مولانا سراج الحق ہے۔ وہ سینیٹر بھی ہیں اور ملک کی ایک مقتدر سیاسی پارٹی (جماعت اسلامی) کے امیر بھی ہیں۔ اس پیرانہ سالی میں ان کی تگا پوئے دمادم کو سلام پیش کرتا ہوں۔ لیکن وہ جب سے امیرِ جماعت منتخب ہوئے ہیں، جماعت کی سیاسی ہردلعزیری کا گراف روبہ زوال ہے۔ پشاور سے کراچی اور خنجراب سے گوادر تک ان کے دورے قابلِ ستائش ضرور ہیں، ان کی تقاریر کے بعض جملے بھی نہائت نپے تلے ہوتے ہیں لیکن خدا جانے ان میں وہ اثر کیوں نہیں ہوتا جو ان کے پیشرو امرائے جماعت میں تھا۔(قاضی صاحب بہت یاد آتے ہیں!!) انہوں نے اگلے روز پشاور میں عمران خان کی ایک دیرینہ رَٹ (ریاستِ مدینہ) پر پھبتی کَسی اور فرمایا: ”پاکستان، ریاستِ مدینہ کے فلاحی نظام کی بجائے کوفی نظام اور استعماری غلامی کی طرف گامزن ہے…… حکومت نے پوری دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ اور شلوار قمیض کو رسوا کر دیا ہے اور اداروں کو برباد کر دیا ہے اور مندروں اور گورودواروں کے لئے اربوں روپے کے فنڈ دے دیئے ہیں“۔میں مولانا سراج الحق کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ ان کی اس بات میں شائد کوئی صداقت کا شائبہ ہو تو ہو کہ پاکستان ’فلاحی نظام‘ کی بجائے ’کوفی نظام‘ کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن ’استعماری غلامی‘ کی سمجھ نہیں آ سکی کہ انہوں نے کس پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔

موجودہ حکومت تو مغرب کی استعماری غلامی کی زبردست مخالف ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان نے امریکی (یا یورپی استعمار) کے سامنے سر جھکانے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ہاں اگر مولانا کا اشارہ چین کی طرف ہے تو اس کو استعماری غلامی کا لیبل لگانے کے لئے شائد مولانا کو کچھ انتظار کرنا پڑا۔ چین خود فی الحال استعماری نظام کے سخت ناقدین میں شامل ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ اور شلوار قمیض کی وقعت میں کسی کوتاہی یا کمتری کو بھی میں تسلیم نہیں کروں گا۔ گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں پاکستانی پاسپورٹ کے وقار میں ایک بدیہی اضافہ ہوا ہے اور جہاں تک شلوار قمیض کا تعلق ہے تو عمران خان تو اقوام متحدہ میں یہی شلوار قمیض اور پشاوری چپل پہن کر گیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں پینٹ شرٹ اور سوٹ پہننے والے وزراء اور دوسرے افسران بھی شاذ شاذ نظر آتے ہیں۔ شلوار قمیض اور واسکٹ وہی ہے جس کی طرح جنرل ضیاء الحق نے ڈالی تھی۔…… میرے نزدیک مولانا فضل الرحمن اور مولانا سراج الحق مذہبی پس منظر میں ”مولانا“ کہلانے کے حقدار نہیں۔ ان کی شہرت مذہبی سکالر کی نہیں، سیاستدان کی ہے۔ کاش کوئی فضل الرحمن یا سراج الحق حضرت مولانا مودودی کی طرز کی کوئی ’تفہیم القرآن‘ لکھ دیتا یا ان کی دوسری کتب کے مماثل کوئی تصنیف قلم بند کرکے ”مولانا“ کہلانے کا صحیح حقدار بن جاتا!حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن بہت حیران ہے کہ حکومت کے خلاف ایسے بیانیے کہاں سے لائے جن سے پی ٹی آئی کی سبکی ہو سکے۔ لے دے کے گندم،

چینی، آٹے اور دال چاول کا بحران ان کو سیاسی سٹیج پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ ایک سال گیارہ ماہ میں عمران کی حکومت نے جو میگا پراجیکٹ شروع کئے ہیں اور ماضی کی سیاسی میگا کرپشنوں کا جو پردہ چاک کیا ہے، اس کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے۔الیکٹرانک میڈیا فی الحال اس امید پر زندہ ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ زیادہ سے زیادہ تین سال اور چل سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول اور شہباز کی تان اسی مطالبے پر جا کر ٹوٹتی ہے کہ وزیراعظم اور حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ عمران،اپوزیشن کا مین (Main)ٹارگٹ ہے لیکن لوگ اب پاکستان اور پنجاب میں ”مائنس ون“ کی طرف کوئی کان نہیں دھرتے۔چند لوگ ہیں جو سابق حکومتوں کے ادوار میں ککھ پتی سے لکھ پتی بلکہ ارب پتی بن گئے۔ لیکن اب ان کے محلات مسمار ہونے جا رہے ہیں۔ میڈیا فی الحال کسی نہ کسی طرح آنے والے تین برسوں میں اپنی سابقہ روایات برقرار رکھنے کے پروگرام پر قائم ہے۔ لیکن اس کو بدلتی رُت کا ادراک نہیں ہو رہا۔ وابستہ مفادات طرحِ نو کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ لیکن دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلابات آئے ہیں ان کو اول اول سخت مخالفت کا سامنا ہوا ہے۔ مخالف نہ ہو تو موافقت کا طول و عرض محدود رہتا ہے اور اس کی تاثیر بھی دیرپا نہیں ہوتی۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ’مردِ بیمار‘ بن کر رہ گیا تھا۔ اسے پھر سے توانا اور تندرست بنانے میں وقت تو لگے گا…… ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا ہوگا اور حکومت کو مزید وقت دینا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن اگر ”مزید وقت“ دینے کے حق میں نہیں تو یہ پاکستان کے لئے ایک نیک فال ہے۔