زلفی بخاری اور ندیم بابر جیسے لوگوں کو اپنا معاون خصوصی بنانا عمران خان کی بڑی کمزوری و مجبوری ۔۔۔۔۔ مگر کیسے ؟ حامد میر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) زیادہ پرانی بات نہیں۔ پاکستان کے مجبور اور مفلس عوام کی چیخ و پکار اسلام آباد کے حکمرانوں تک بڑی مشکل سے پہنچتی تھی۔ غیرملکی سفارتکار ہمیں کہا کرتے تھے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلام آباد میں کئی کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور اسلام آباد شہر میں رہ کر

نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کو سمجھنا بہت مشکل ہے لیکن پچھلے چند ماہ کے دوران اسلام آباد میں تیزی سے کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔اسلام آباد میں چیخ و پکار اور ہاہا کار بہت بڑھ گئی ہے۔ کچھ دن قبل سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہائوس کے اندر مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو گھیر کر نعرے بازی کی تو بہت سے غیرملکی سفارتکار سمجھے کہ اپوزیشن جماعتوں کے حامی پارلیمنٹ ہائوس کے اندر گھس گئے ہیں۔ایک غیرملکی سفارتکار نے مجھے پوچھا کہ کون سی اپوزیشن جماعت کے حامیوں نے حفیظ شیخ کو گھیرا ہوا تھا؟ میں نے اُسے ہنس کر بتایا کہ یہ جرأت اپوزیشن والوں نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہائوس کے دائیں طرف واقع پاکستان سیکرٹریٹ کے ملازمین نے کی ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ کل اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک انوکھا احتجاج ہوا۔اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تاجروں کی ایک بڑی تعداد نے کشمیر ہائی وے کے راستے پارلیمنٹ ہائوس جانے کی کوشش کی۔ وہ بار بار اپنی گاڑیوں کے ہارن بجا رہے تھے اور انہوں نے اپنے بینر پر لکھا ہوا تھا ’’ہارن بجائو، حکومت کو جگائو‘‘۔ ان تاجروں کا مطالبہ تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ متعدد کاروبار کھولے جا چکے ہیں لہٰذا اب ریسٹورنٹ اور شادی ہال بھی کھولے جائیں لیکن ان تاجروں کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔اسی ریڈ زون میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر ایک مغربی سفارتکار کی گفتگو سُن کر محسوس ہوا کہ ہماری حکومت کو نہ صرف اسلام آباد میں سرکاری ملازمین اور تاجروں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی

بلکہ اُنہیں غیرملکی سفارتکاروں کی طرف سے دی جانے والی وارننگ بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ایک سفارتکار کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں چار صحافی اور چار سفارتکار چھ چھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر کچھ اہم معاملات پر تبادلۂ خیال میں مصروف تھے۔ میں نے جھکی جھکی نظروں کے ساتھ ایک یورپی سفارتکار سے پوچھا کہ یورپی یونین کی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، کیا یہ پابندی جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں؟ سفارتکار نے کہا کہ کچھ دن پہلے ہماری ایئر سیفٹی ایجنسی اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس میں آپ کے وزیر ہوا بازی کی طرف سے پی آئی اے کے پائلٹوں کے بارے میں دیا جانے والا بیان زیر بحث آیا، یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے۔آپ کی ایوی ایشن اتھارٹی کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا ورنہ پابندی میں توسیع ہو سکتی ہے۔ اسی محفل میں یہ بھی پتا چلا کہ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو دیا جانے والا جی ایس پی اسٹیٹس بھی خطرے سے دوچار ہے۔ جی ایس پی Generalised Scheme Of Preferences کے تحت پاکستان سمیت سات ترقی پذیر ممالک کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اُن کی برآمدات پر یورپی مارکیٹ میں امپورٹ ڈیوٹی وصول نہیں کی جاتی لیکن یہ سہولت پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور آزادی اظہار سے مشروط ہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آزادی اظہار پر پابندیوں میں کمی نہ ہونے پر یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان پر واضح کیا گیا ہے

کہ چائلڈ لیبر اور میڈیا پر غیرعَلانیہ سنسر شپ جی ایس پی اسٹیٹس کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک اور اہم مغربی سفارتکار کی طرف سے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری پر بھی حکومت کو تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے کیونکہ جب یہ معاملات یورپی پارلیمنٹ میں زیر بحث آئیں گے تو وہاں پر پاکستان کیلئے جی ایس پی اسٹیٹس کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ افسوس کہ یہ وارننگ بھی ہمارے حکمرانوں کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔بیڈ گورننس یعنی برے طرز حکمرانی کے باعث ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے دوسری طرف دنیا میں پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر لاہور میں جب عمران خان کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا جا رہا تھا عین اُسی وقت لاہور میں آٹا ڈیلروں کی طرف سے آٹے کی قیمت میں اضافے کا اعلان کیا جا رہا تھا۔آٹے اور چینی سمیت عام استعمال کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ ہو چکا ہے۔ رہی سہی کسر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نکال دے گا۔ آج صبح ایک وفاقی وزیر مجھے پوچھ رہے تھے کہ کوئی رکن پارلیمنٹ یا وفاقی وزیر غیرملکی شہریت نہیں رکھ سکتا تو پھر وزیراعظم کے معاونین ِ خصوصی امریکا، برطانیہ اور کینیڈا کی شہریت کیوں رکھ سکتے ہیں؟ میں نے اس محترم وزیر سے کہا کہ بھائی یہ سوال مجھے کیوں پوچھتے ہو، کابینہ کے اگلے اجلاس میں اپنے وزیراعظم سے پوچھ لینا۔اُس نے غصے میں کہا کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں معاونِ خصوصی اور مشیر لگانا منتخب نمائندوں کی توہین نہیں؟ میرا لہجہ بھی کچھ تلخ ہو گیا اور میں نے گستاخانہ انداز میں کہا کہ جب غلام سرور خان صاحب جیسے منتخب نمائندے ایک منتخب ایوان میں غلط حقائق پیش کرکے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر دیں تو پھر وزیراعظم کدھر جائے؟ وہ زلفی بخاری اور ندیم بابر کو معاونِ خصوصی نہ لگائے تو حکومت کیسے چلائے؟ وزیر صاحب نے اونچی آواز میں کہا ’’کیا ایسے چلتی ہے حکومت؟‘‘ میری ہنسی نکل گئی۔میں نے اپنے پیارے وزیر سے کہا کہ آپ لوگوں کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے، آپ کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے۔ وزیروں کو مشیر اچھے نہیں لگتے اور مشیر صاحبان وزیروں کی جہالت کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔عمران خان بار بار عثمان بزدار کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالتا ہے لیکن کچھ دنوں بعد کوئی نہ کوئی صوبائی وزیر اس کشتی میں پھر کوئی سوراخ کر دیتا ہے اور الزام آتا ہے کہ میڈیا جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے، آپ ہمیں معاف کرو، اپنی لڑائی خود لڑو، میڈیا کے کندھے استعمال مت کرو۔ جہاں حکومت آپس میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو وہاں وزیراعظم عوام کی چیخ و پکار کیسے سنے گا؟