دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے مودی سرکار خوفزدہ ہو گئی!! ڈیم کی تعمیر پر رونا دھونا شروع کر دیا

گلگت بلتستان (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کو اعتراضات ہونے لگے۔ جب اس حوالے سے جائزہ لیا گیا تو بھارت کے بعض حلقوں میں احتجاج بھی کیا گیا، دو روز قبل بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ بھارت نے

اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،جموں و کشمیر کا پورا یونین علاقہ اور ریاست کا مرکز لداخ بھارت کا مضبوط حصہ رہا ہے، بھارت پاکستان کے ڈیم کی تعمیر کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے اعتراض اٹھایا کہ اس ڈیم کی وجہ سے بھارت یونین علاقہ جموں وکشمیر اور لداخ کے بہت سے علاقے زیرِ آب آئیں گے، اسلئے ہم غیرقانونی طور پر مقبوضہ علاقوں کو تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس منصوبے پر بھارت کے اعتراضات کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلا، کشمیر اور لداخ کے ان علاقوں کے ڈوبنے کا خطرہ جس پر بھارت اپنی طاقت کا دعویٰ کرتا ہے، دوسرا یہ کہ اس منصوبے میں چین کی شمولیت ہے،ایشیا کے امور کے ماہر ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ بھارت کی مخالفت اس لیے ہے کہ ڈیم کی تعمیر سی پیک کے تحت ہو رہی ہے اور چین اس سے وابستہ ہے، بھارت کو خدشہ ہے کہ چین اور پاکستان مل کر بھارتی پانی کے بارے کوئی پالیسی بنا سکتے ہیں کیونکہ اس وقت لداخ میں تنازع ہے اور ندیاں لداخ ہی سے گزرتی ہیں،ایس ڈی منی کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کو روکنا ممکن نہیں ہے کیونکہ جب تک یہ علاقہ پاکستان کے پاس ہے، پاکستان جو چاہے کرسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پندرہ جولائی کو دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا، پاکستان چین کی مدد سے یہ منصوبہ بنا رہا ہے،بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیم چین اور پاک فوج فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے مابین مشترکہ معاہدے کے تحت تعمیر کیا جارہا ہے،جس کی وجہ سے بھارت پاکستان اورچین دونوں ممالک کے خلاف ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کو امید ہے کہ اس منصوبے سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 16000 سے زائد افراد روزگار سے مستفید ہوسکیں گے۔