بڑا انکشاف ۔۔۔ معاملہ اور رخ اختیار کر گیا ، امریکی حسینہ سنتھیا رچی آئی ایس پی آر سمیت دراصل کس کے لیے کام کر رہی ہے؟ وزارت داخلہ نے ہوش اڑا دینے والے حقائق سے خود ہی پردہ ہٹا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی پاکستان میں ‘توسیعی’ ویزا پر رہائش پذیر ہیں اور وہ فوج کے میڈیا امور کے ونگ انٹر سروسز پبلک ریلشنز (آئی ایس پی آر) اور خیبر پختونخوا کے اشتراک سے فلمی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں

وزارت داخلہ نے جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا کہ سنتھیا رچی نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ وہ آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا حکومت کے اشتراک سے واک اباؤٹ فلمز کے ساتھ مل کر ملک میں فلموں کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک سال سے اپنے بزنس ویزا کی باضابطہ توسیع کے لیے مکمل دستاویزات کی منتظر تھیں جس میں کچھ دن اور لگ سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے ویزے میں عارضی طور پر 30 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے 27دسمبر 2018 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے تحریر کردہ خط بھی ساتھ منسلک کیا ہے جس کے مطابق واک اباؤٹ فلمز پرائیویٹ لمیٹڈ آئی ایس پی آر کے اشتراک سے مختلف منصوبوں کا آغاز کررہی ہے اور وہ کچھ منصوبوں پر واک اباؤٹ فلمز کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے جواب داخل کرتے ہوئے عرض کیا کہ سنتھیا رچی کے ویزا میں 31 اگست تک توسیع کی گئی ہے اور جس طرح سے الزام عائد کیا گیا ہے اس کے برعکس وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی حرکت یا ناپسندیدہ یا ریاست مخالف سرگرمی کی مرتکب نہیں ہوئیں۔عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کارکن چوہدری افتخار احمد کی درخواست پر حتمی دلائل کے لیے آئندہ ہفتے تک سماعت ملتوی کردی، جنہوں نے سنتھیا رچی کے مارچ میں اپنے بزنس ویزا کی میعاد ختم ہونے اور اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر میڈیا مہم چلانے پر ان کے پاکستان میں طویل قیام کو چیلنج کیا تھا۔درخواست کے مطابق سنتھیا رچی کا بزنس ویزا 2 مارچ 2020 کو ختم ہوگیا تھا اور اس کے بعد وہ پاکستان میں قیام کی حقدار نہیں تھیں، درخواست گزار نے الزام لگایا کہ اس بزنس ویزا کی 18 مارچ 2019 کو قانونی روایات کو پورا کیے بغیر ہی اجازت دے دی گئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا کہ بلاگر نے مارچ میں بزنس ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد وزارت داخلہ کو پیش کی جانے والی اپنی ویزا توسیع کی درخواست میں بھی غلط معلومات کا اندراج کیا۔درخواست گزار نے مدعا علیہ کی مختلف سرگرمیوں،

اس کے میڈیا بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ بھی دیا جو ان کے مطابق توہین آمیز اور قابل اعتراض تھے۔وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق سنتھیا ڈی رچی نے اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ویزا 2 مارچ 2020 کو ختم ہوگیا تھا اور انہوں نے میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے قبل درخواست جمع کرائی تھی تاہم کووڈ 19 کی صورتحال کی وجہ سے کسی توسیع پر کارروائی نہیں کی جارہی تھی اور تمام غیر ملکیوں کو توسیع دی گئی تھی لہٰذا وہ وزارت داخلہ کے ذریعے توسیع شدہ ویزا کے تحت اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔اپنے ویزا کے بارے میں سنتھیا رچی نے کہا تھا کہ ہر بزنس ویزا رکھنے والے کے لیے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں کمپنی کا اندراج کریں بلکہ دوسری کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں کاروبار کیا جاسکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکا میں سرگرم ٹیکس دہندہ تھیں اور انہوں نے ڈفرنٹ لینس پروڈکشن ایل ایل سی کے نام سے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں رجسٹرڈ کمپنی کے حوالے سے محکمہ برائے داخلہ ریونیو اور دیگر دستاویزات کی نقول بھی منسلک کردی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پولیس حکام نے تمام ضروری تصدیق کے بعد انہیں ڈپلومیٹک انکلیو میں رہائش گاہ کے لیے انٹری پاس جاری کیا تھا کیونکہ پولیس ان کی نقل و حرکت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔سابق انتظامیہ کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے اپنے دوروں کے بارے میں امریکی بلاگر نے وضاحت کی کہ قبائلی رہنماؤں کا انٹرویو کرنا اور پاکستان میں کہیں بھی جانا پاکستان کے کسی قانون کے تحت جرم نہیں ہے

کیونکہ وہ ہمیشہ متعلقہ حکام کی مناسب منظوری کے ساتھ سفر کرتی تھیں، وزارت داخلہ کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا میں اپنے بیانات کی بھی وضاحت کی اور اس تاثرکو مسترد کردیا کہ انہوں نے کسی بھی سیاسی قیادت کے خلاف بدنامی کا کوئی جرم کیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ویزا میں توسیع کے لیے ان کی درخواست پر عملدرآمد جاری ہے، ریکارڈ کے مطابق ویزا میں توسیع کے لیے درخواست مارچ 2020 میں موصول ہوئی تھی تاہم کووڈ 19 کی صورتحال اور غیر ملکی شہریوں کی ویزا کی توثیق میں عمومی توسیع کی وجہ سے 2 جون کو متعلقہ سیکشن میں اس پر کارروائی کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا جہاں تک شکایت میں مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر سنتھیا رچی کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو وزارت کو اب تک کسی بھی متعلقہ تنظیم/ایجنسی کی طرف سے اس حوالے سے کوئی منفی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق امریکی بلاگر کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق معاملہ پہلے ہی زیر سماعت ہے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی طرف سے برقی جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کے تحت اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں، تاہم وزارت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ درخواست گزار کے دعوے کے برعکس اسے سوشل میڈیا پر خاتون بلاگر کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی منفی رپورٹ موصول نہیں ہوئی لہٰذا اس مرحلے پر وزارت کی طرف سے کسی کارروائی کی ضرورت نہیں تھی۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جواب دہندگان کو پاکستان میں قیام اور کاروبار کرتے ہوئے پاکستان کے قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کی ضرورت تھی۔