میں کام کرنا چاہتا ہوں لیکن تمام منصوبے اس وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ۔۔۔۔ عمران خان نے ناکامی کا ملبہ کس پر ڈال دیا؟ تازہ ترین اعتراف

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ اسکیم کی تکیمل کے دوران متعدد رکاوٹیں سامنے آئیں، گزشتہ 4 مہینے اس منصوبے کی از خود نگرانی پر احساس ہوا کہ ہمارے نظام کی خرابی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے ناکام ہوجاتے ہیں۔لاہور میں قائد اعظم بزنس پارک کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب

کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے صنعت کار یا کاروباری افراد کے لیے انتہائی مشکل نظام ہے جس کے ہر مرحلے میں رشوت ملوث ہے، اگر پیسہ ہے تو رشوت دے کر سارے کام کیا جا سکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہوگی کہ نظام کو درست کیا جاسکے تاکہ وہ متوسط اور مزدور طبقہ جو برطانیہ یا دیگر ممالک میں جا کر بڑی بڑی صنعت لگاتے ہیں، پاکستان میں ایسا ماحول مل سکے کہ نئی نسل ادھر ہی منصوبے شروع کرے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہ حکومت کا کام عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، بتدریج رکاوٹیں دور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ادارے یا نظام محض چند دن میں ٹھیک نہیں ہوسکتے لیکن ان کی اصلاحات کا عمل شروع ہوچکا ہے۔عمران خان نے قائد اعظم بزنس پارک کاروباری طبقوں کے لیے زبرداست موقع ہے، متعدد چینی کمپنیاں پاکستان آنے کی خواہش مند ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے باور کرایا کہ آپ کے ملک میں پروسیجرز بہت مشکل ہیں جنہیں نرم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری حکومت نے بشمول بنگلہ دیش دیگر ممالک میں بزنس پروسیجرز کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ پاکستان کے مقابلے میں ان ممالک میں غیرمعمولی آسان مراحل ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ‘قائد اعظم بزنس پارک میں ون ونڈو آپریشن ہے جہاں آنے والے تمام صنعت کاروں کو ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات میسر ہوں گی’۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ ایک ڈائنامک چیف منسٹر ہیں’۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم بزنس پارک کے لیے موٹروے کے قریب بہترین جگہ کا انتخاب کیا گیا اور وفاقی حکومت منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر مرحلے میں مدد کرے گی’۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کہوٹہ میں وزیراعظم عمران خان نے مون سون شجر کاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں آتا ہے جہاں سب سے کم جنگلات باقی ہیں علاوہ ازیں انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ 10 ارب درخت لگائیں گے، 2 برس میں 30 کروڑ درخت لگائیں ہیں، ہماری نرسریوں میں پودے تیار ہیں اور آئندہ جون تک ایک ارب درخت لگا دیئے جائیں گے۔