تحریک انصاف پنجاب میں پٹوار کا نظام واپس کیوں لانا چاہتی ہے ؟ بی بی سی کی اسپیشل رپورٹ میں حیران کن انکشافات

لاہور (ویب ڈٰسک) پاکستان میں صوبہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب کے محکمہ ریوینو میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں صوبے میں قیامِ پاکستان سے قائم زمینوں اور ریونیو کے نظام، جسے عرف عام میں پٹوار کا نظام کہا جاتا ہے،

نامور صحافی ترہب اصغر اور انکے ساتھ نامور ایڈووکیٹ وقار خان بی بی سی کے لیے اپنی مشترکہ تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بعد دوبارہ سے فعال بنایا جا رہا ہے۔اس نظام کو مسلم لیگ نواز کی حکومت میں ختم کر کے اس کی جگہ زمینوں اور ریونیو کا کمپیوٹرائزڈ نظام مرحلہ وار لایا جا رہا تھا لیکن کچھ عرصے سے اس پر پیشرفت نہیں ہو رہی تھی۔تاہم اب پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے دور حکومت میں شروع کیے گئے کمپیوٹرائزیشن کے نظام کو ہم مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ پہلے اسے ضلعی سطح پر، پھر تحصیل اور پھر یونین کونسل کی سطح تک اس نظام کو لے جائیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے محکمہ ریونیو کی جانب سے جو سفارش کی گئی ہے اس کے مطابق وہ پٹواری نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں پٹواریوں کی آسامیاں خالی ہیں کیونکہ کچھ عرصہ پہلے ان آسامیوں پر نئی بھرتیاں ختم کر دی گئی تھیں۔پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ ’اب ہم نئی بھرتیاں کریں گے اور یہ پہلے پٹوار کلچر سے اس طرح مختلف ہو گا کہ تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے بھرتی ہونے والے پٹواریوں کو جدید آلات دیے جائیں گے تاکہ وہ بھی اپنے پاس آن لائن ریکارڈ رکھ سکیں۔اس کے علاوہ گرداوری کا نظام ختم ہو گیا تھا ہم اسے بھی بحال کر رہے ہیں۔

جس سے محکمے کے لوگ اور پٹواری موقع پر جا کر ریکارڈ بنائیں گے اور گرداوری ہر چار سال بعد کی جاتی تھی اس سے یہ معلوم ہو جاتا کہ مالک کون ہے، کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے، فصل کون سے اور کتنی لگی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سب سے ریونیو کا بہت بڑا ریکارڈ برقرار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نمبرداری نظام بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس سب کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے موجود سسٹم کو ہم بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سسٹم کی بحالی سے محکمہ ریونیو کے معاملات بہتر ہوں گے اور اگر کسی کو پٹواری سے اعتراض ہو گا تو وہ مالک اس کے فیصلے کے خلاف درخواست بھی دے سکتا ہے۔ان کے مطابق پٹواری کے خلاف سب سے بڑا الزام آتا ہے زمین کی پیمائش میں فرق دینے کا، ہم نے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر پٹواری آپ کو درست پیمائش نہیں کر کے دیتا تو آپ آن لائن سینٹر میں درخواست دے کر نکلوا سکتے ہیں۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں زمینوں کے اس نظام کو ’دقیانوسی‘ قرار دے کر گذشتہ کئی دہائیوں سے تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔یہ پٹوار کا نظام ہے کیا اور آخر اس نظام میں ایسی کیا خرابی اور خوبی ہے کہ حکومتیں اسے تبدیل بھی کرنا چاہتی ہیں اور ایسا کر بھی نہیں پاتیں؟برصغیر میں سرکاری سطح پر زمینوں کے انتظام وانصرام کی تاریخ شیر شاہ سوری سے لے کر اکبراعظم اور برطانوی راج سے لے کر پنجاب میں موجودہ کمپیوٹرائزیشن تک پھیلی ہوئی ہے۔

انگریز نے سنہ 1860 میں اس مںصوبے پر کام شروع کیا اور سنہ 1900 میں پہلا بندوبست اراضی ہوا۔ سنہ 1940 کے بندوبست میں اس نظام کو صحیح معنوں میں جامع اور موثر طریقے سے نافذ کیا گیا۔آج بھی ہمارے ملک میں بنیادی طورپر اصل ریکارڈ سنہ 1939-40 ہی کا چل رہا ہے۔پنجاب میں ریوینیو کی موجودہ کمپیوٹرائزیشن پر بات کرنے سے پہلے لینڈ ریکارڈ کے اس نظام کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ یہ نظام دراصل کن بنیادوں پر اور کیوں تیار کیا گیا تھا۔ جب برطانوی حکومت نے محکمہ مال کا آغاز کیا تو 40 کتابیں تیار کی گئیں۔سب سے پہلے ‘شرط واجب العرض’ نامی کتاب وجود میں آئی، جو شاید سب سے اہم دستاویز بھی کہلائی جا سکتی ہے۔ اس دستاویز میں ہر گاؤں کو ‘ریونیو سٹیٹ’ قرار دے کر اس کی مکمل تفصیل درج کی گئی جس میں گاؤں کے نام کی وجہ، اس کے پہلے آباد کرنے والوں کے نام، قومیت، عادات و خصائل، ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل، رسم و رواج، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گاؤں کے لوگوں کے معاملات طے کرنے جیسے قوانین کا تذکرہ، زمینداروں، زراعت پیشہ، غیر زراعت پیشہ دستکاروں، حتیٰ کہ پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض، انھیں فصلوں کی کٹائی کے وقت دی جانے والی شرح اجناس کی ادائیگی (جس کے بدلے میں وہ اپنے اپنے ہنر سے گاؤں بھرکے لیے خدمات بجا لاتے تھے)۔ اس کے علاوہ نمبردار اور چوکیدارکے فرائض اور ذمہ داریاں تک طے ہوئیں۔گویا ہر گاؤں کے جملہ معاملات کے لیے ‘شرط واجب العرض’ وجود میں لائی گئی جو آج بھی ریونیو ریکارڈ کا حصہ ہے۔

‘روزنامچہ ہدایاتی’ میں پٹواری اعلیٰ افسران کی طرف سے دی جانے والی ہدایات درج کرتا ہے۔ ‘روزنامچہ واقعاتی’ میں پٹواری ہر روز عیسوی، دیسی اور اسلامی تاریخ درج کرتا ہے۔اس کے نیچے وہ اپنی دن بھر کی کارگزاری لکھتا ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ وہ گرداور اور اعلیٰ افسران کی طرف سے روزنامچہ واقعاتی پر ان کے دستخط کرواتا ہے۔ایک دستاویز ‘روزنامچہ کارگزاری’ بھی پٹواری تحریر کرتا ہے۔ وہ سارادن جو کام کرتا ہے اس کی ایک نقل تحصیل آفس میں دفتر قانون گو میں جمع کراتا ہے اور ‘روزنامچہ پڑتال’ پر اعلیٰ افسران اپنے ریمارکس لکھتے ہیں۔برطانوی راج کے دوران جب محکمہ مال کا آغاز ہوا تو حیرت انگیز طریقے سے زمین کے چپے چپے کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگاؤں، کرنال سے شروع ہونے والی بغیر مشینری اورجدید آلات کے زمین کی پیمائش ضلع اٹک، دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں آنے والے ندی، نالے، دریا، سڑکیں، راستے، جنگل، پہاڑ، کھائیاں اورآبادیوں وغیرہ کا بھی اندراج ہوا۔ہر گاؤں، شہر کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے جس بھی شکل میں موجود تھے ان کو نمبرات خسرہ، کیلہ وغیرہ الاٹ کیے گئے۔ہر نمبر کے گرد چاروں طرف پیمائش’کرم’ (ساڑھے پانچ فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لیے ہر گاؤں میں ‘فیلڈ بک’ تیار کی گئی۔جب حد موضع (ریونیو سٹیٹ) قائم ہو گئی تو اس میں نمبرات خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر کی چہار اطراف سے جو کرم کے حساب سے زمین برآمد ہوئی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا کے تحت وضع کر کے اندراج ہوا۔ فیلڈ بک میں ملکیتی نمبرات خسرہ کے علاوہ سڑکوں، عام راستوں، بن، روہڑ، وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کی گئی۔

اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام افسران بالا نے کیا۔ اس کا نقشہ آج بھی متعلقہ تحصیل اور ضلع کے محافظ خانوں میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری گاؤں کا نقشہ (لَٹھا) تیار کرتا ہے۔ جب نیا بندوبست ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔اس پیمائش کے بعد ہر ‘ریونیو سٹیٹ’ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام بقدر حصہ درج کیے گئے۔ ان لوگوں کا شجرہِ نسب تیار کیا گیا اورجس حد تک پشت مالکان کے نام معلوم ہو سکے، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا۔یہ دستاویز آج بھی اتنی موثر ہے کہ آپ لاکھ اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کریں مگر ایک ذرا تحصیل یا ضلعی محفظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے یہ ریکارڈ آپ کے دادا کے پردادا کی بھی قوم اور کسب نکال کر دکھا دے گا۔جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے ان کے وارثان کے نام شجرہ کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثت کے مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں۔شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت ایک اہم ترین کتاب میں مرتب کیا جاتا تھا جسے پہلے ‘جمع بندی’ کہتے ہیں اور اب اس کا نام ‘رجسٹرحقداران زمیں’ رکھا گیا ہے۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام، نمبر کھیوٹ، کتھونی، خسرہ ، کیلہ، مربع، اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوتا ہے۔ہر چار سال بعد پٹواری اس دوران منظور ہونے والے انتقالات میعہ، رہن، ہبہ، تبادلہ، وراثت وغیرہ کا عمل اور زمین کی تبدیلی حیثیت کا اندراج، نیز گذشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت و حصہ وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹرحقداران زمین تیار کرتا ہے اور اس کی ایک نقل محافظ خانہ میں جمع کراتا ہے۔ رجسٹر حقداران زمین کی تیاری کا انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ رائج ہے۔اس کی تیاری میں جہاں پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے، وہاں گرداور اور تحصیلدار سو فیصد جانچ پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان افسران کا گاؤں میں جاکر مالکان کی موجودگی میں ان اندراجات کو پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست تیارکرنا ضروری ہے۔آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ یہ دستاویز اب غلطیوں سے پاک ہے۔