اسامہ بن لادن کی تلاش میں مبینہ طور امریکہ کی مدد کرنے والے شکیل آفریدی کہاں اور کس حال میں ہے؟ حیرت انگیز تفصیلات

اسلام آباد(ؤیب ڈیسک) القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی اپنی 23 برس قید کی سزا میں سے نو برس سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔شکیل آفریدی کو مئی 2010 میں ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا تھا

تاہم انھیں یہ سزا القاعدہ کے سربراہ کی تلاش میں مدد دینے پر نہیں بلکہ ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔شکیل آفریدی نے اپنی اس سزا کا ابتدائی عرصہ پشاور کی سینٹرل جیل اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں گزارا اور اب وہ پنجاب کے شہر ساہیوال کی اس ہائی سکیورٹی جیل میں قید ہیں جسے ملک میں انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔شکیل آفریدی کے بڑے بھائی جمیل آفریدی نے چند روز قبل اُن سے جیل میں ملاقات کی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے وہ تقریباً پانچ ماہ کے عرصے کے بعد اپنے بھائی سے ملنے میں کامیاب ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ وہ 11 جولائی کو اپنے بھائی سے ملے جبکہ اس سے قبل ان کی ملاقات 29 فروری کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد وسط مارچ میں انھوں نے ملاقات کرنی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے وہ ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جمیل آفریدی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی صحت کے بارے میں شدید فکرمند دکھائی دیے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی دورانِ اسیری بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ ’وہ بہت کمزور نظر آ رہے تھے اور ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔‘جمیل آفریدی کے مطابق ’جب میں نے ان سے جیل میں ان کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ جیل میں کچھ نہیں کر سکتے۔’اُن کے پاس تو کوئی پینسل اور کاغذ بھی نہیں ہے کہ وہ کچھ لکھ سکیں یا اپنی یادداشتیں محفوظ کر سکیں۔

انھیں کتابیں پڑھنے کی اجازت بھی نہیں ہے اور جب وہ ساہیوال جیل گئے تھے تو دینی کتابیں جن میں قران پاک اور وظائف کی کتابیں تھیں وہ انھوں نے واپس کر دی تھیں۔‘ملاقات میں دونوں بھائیوں نے کیا گفتگو کی؟جمیل آفریدی نے بتایا کہ شکیل آفریدی اپنے مقدمے کے بارے میں پریشان اور فکرمند نظر آئے۔ان کے مطابق شکیل آفریدی کو اس بات کا گلہ تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں ان کے مقدمے کی سماعت بار بار ملتوی ہو جاتی ہے اور کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی اور اس کے لیے ان کے وکلا کیا کر رہے ہیں؟جمیل آفریدی کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی حکمرانوں کے رویے سے بہت مایوس نظر آئے اور وہ یہ کہتے رہے کہ ’انھیں انصاف چاہیے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نظام سے تو مایوس تھے لیکن خدا کی ذات سے مایوس نہیں تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ انھیں ضرور انصاف ملے گا۔شکیل آفریدی کے وکلا کیا کہتے ہیں؟شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت 30 جون کو ہونی تھی لیکن اس روز چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ چھٹی پر تھے اس لیے سماعت نہیں ہو سکی۔شکیل آفریدی کے وکیل لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اگلی سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی جا سکی۔لطیف آفریدی کا کہنا تھا 30 جون سے پہلے کی سماعت میں انھوں نے چیف جسٹس کے سامنے سارے حقائق رکھتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ اس مقدمے میں تاخیر کی جا رہی ہے جس پر عدالت نے اگلی سماعت پر اس کیس کو نمٹانے کے متعلق ریمارکس دیے تھے۔

ان کے وکیل کو اگلی سماعت میں پیش رفت کی امید ہے۔لطیف آفریدی نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کیا فیصلہ ہو گا لیکن وہ موجود حقائق کی بنیاد پر دلائل دے سکتے ہیں جس سے وہ عدالت کو مطمئن کر سکتے ہیں اور ان حقائق اور دلائل کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کے خلاف جرم اب تک ثابت نہیں ہوا۔ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ شکیل آفریدی نے بہت وقت جیل میں گزارا ہے اور انھیں ساہیوال جیل منتقل کرنا بھی غلط ہے اور غیر قانونی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے خاندان کے افراد کی ملاقات بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اتنی دور کسی قیدی کو رکھنا انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔شکیل آفریدی کی حراست کا پس منظرڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی اور اسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے ایبٹ آباد آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ان الزامات کے باوجود انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں دی گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے انھیں تین مقدمات میں کل 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل فاٹا ٹرائبیونل میں دائر کی گئی تھی جہاں پہلے ٹرائیبیونل کے اراکین پورے نہیں تھے اور بعد میں ریکارڈ کی طلبی اور عدم تیاری کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی تھی۔خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد بھی اب پشاور ہائی کورٹ میں بھی ان کے مقدمے کی سماعت متعدد مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کئی سال تک پشاور کی سینٹرل جیل میں قید رہے اور پھر سکیورٹی خدشات کے باعث انھیں اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔