مشہور و متنازعہ پولیس انسپکٹر کی زندگی کے حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) تقریباً چار دہائی پہلے راوی میں تیرتی ایک کشتی پر سوار کچھ نوجوان طلبا نے سفر کے دوران کشتی چلانے والے سے اس کا نام دریافت کیا، جواب ملا عابد حسین! طلبا نے پھر سوال کیا ، کیا تم پڑھتے بھی ہو؟ کشتی ران نے جواب دیا، میں نے میٹرک کیا ہے۔

نامور صحافی شاہد اسلم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک طالبعلم نے پھر سوال کیا۔ آگے نہیں پڑھو گے تو عابد حسین بولا کیا اس سے آگے بھی پڑھتے ہیں؟طالب علم بولا ’ہاں یار، اس کے بعد بھی پڑھتے ہیں اور کالج جانا پڑتا ہے۔ تم تو اچھی کشتی چلا لیتے ہو تمھارا تو اس کھیل (روئنگ) کی بنیاد پر بھی داخلہ ہو سکتا ہے۔‘ اور پھر وہ کشتی ران کچھ روز بعد اپنے کاغذات لے کر گورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گیا اور ان طلبا میں سے ایک سے جا کر ملا۔ پھر اس کا اسی کالج میں داخلہ ہو گیا مگر اس نوجوان کو اس وقت شاید علم نہیں تھا کہ اس درسگاہ میں داخلہ اس کی آنے والی زندگی کو کس قدر متاثر کرے گا، کیونکہ طالبعلم عابد حسین کے لیے عابد باکسر بننے کے سفر میں یہ داخلہ ہی سب سے اہم کڑی ثابت ہونے والا تھا۔ مجھے یہ واقعہ لاہور پولیس کے انسپکٹر عابد حسین المعروف عابد باکسر کے گورنمنٹ کالج لاہور(موجودہ یونیورسٹی) کے کلاس فیلو اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اُن کے دوست شاہد حسن نے سنایا۔ شاہد حسن آج کل ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات ہیں۔شاہد حسن کے مطابق ’عابد فزیکل فٹنس میں سب سے بہتر تھا۔ اسی وجہ سے ہم اسے باکسنگ کھیلنے کے لیے قائل کرتے رہتے کیونکہ ان دنوں اکثر گورنمنٹ کالج لاہور کی باکسنگ ٹیم بھی پوری نہیں ہوتی تھی۔‘سنہ 1988 میں جب عابد باکسنگ کے کھیل میں کئی ٹورنامنٹ جیت کر اپنا نام بنا چکا تھا، پولیس میں بھرتیوں کا اعلان ہوا

اور عابد باکسنگ کی بنیاد پر پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہو گیا۔ اگلے سال نیشنل گیمز میں پولیس کی طرف سے کھیلتے ہوئے باکسنگ میں گولڈ میڈل جیتنے پر تربیت کے دوران ہی عابد کو سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔ ان دنوں لاہور میں کئی بڑے بدمعاش گروپ سرگرم تھے جن میں خنیفا اور شفیقا بابا، ہمایوں گجر، عاطف چوہدری، امیر الدین عرف بلا ٹرکاں والا، ججی اور گوگی بٹ اور بھولا سنیارا جیسے نام شامل تھے۔ لوگ ان کے نام سے ڈرتے تھے سنہ 1992-93 میں عابد باکسر کی تعیناتی سٹاف افسر کے طور پر اس وقت کے ایس پی کینٹ اور ایس پی سٹی لاہور اور بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے میر زبیر محمود کے ساتھ ہوئی۔ یہ ان کے پولیس کریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ میر زبیر کے ساتھ تعیناتی کے دوران ہی عابد حسین نے عابد باکسر بننے تک کا سفر طے کیا اور یہ تبدیلی پھر زندگی بھر ان کے ساتھ جڑ گئی۔اسی دوران عابد باکسر کے مقامی گروپ کے سرغنہ عاطف چوہدری کے ساتھ بھی تین مرتبہ مقابلے ہوئے جن میں وہ زخمی تو ضرور ہوا لیکن بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ عاطف چوہدری کے ساتھ ان پولیس مقابلوں کی وجہ سے ہی عابد حسین، عابد باکسر کے نام سے مشہور ہوئے۔عابد باکسر کی اس کارکردگی نے انھیں لاہور پولیس میں اس وقت ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ سکواڈ‘ کے نام سے مشہور گروپ میں شامل کروا دیا جن میں اس وقت کے ڈی ایس پی عاشق مارتھ، ڈی ایس پی رانا فاروق، ڈی ایس پی طارق کمبوہ،

انسپکٹر سعید نوید اور انسپکٹر عمر ورک شامل تھے۔یہ پولیس افسران اور اہلکار سنہ 1999 تک بہت سے ایسے پولیس مقابلوں میں شامل رہے جن میں جرائم پیشہ عناصر کی ایک بڑی تعداد جان سے گئی ۔ 90 کی دہائی میں عابد باکسر کے ساتھ کام کرنے والے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ جو بھی انکاؤنٹرز عابد باکسر نے کیے ہیں وہ سب اصلی ہی تھے۔ باقی پولیس والوں کی طرح عابد نے بھی بہت سے جرائم پیشہ لوگ ماورائے عدالت مارے ہیں اور اس وقت یہ تھوڑا ہی دیکھا جاتا تھا کہ انکاؤنٹرز اصلی ہیں یا جعلی، بس ایسے لوگوں کو پار کر کے جان چھڑانے کی پالیسی ہی رائج تھی۔‘پولیس افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ایسے غنڈے اور بدمعاش جنھیں ہم نے ’پار‘ کیا اگر مناسب طریقے سے ان سے تحقیقات ہوتیں تو وہ لوگ بھی سامنے آتے جو انھیں پالتے ہیں، پناہ دیتے ہیں اور ایسا کچھ لوگ چاہتے نہیں تھے۔ آج تک ایسے جرائم پر اسی لیے تو قابو نہیں پایا گیا کیونکہ پولیس ان کی جڑ تک کبھی پہنچ ہی نہیں پائی۔‘عابد باکسر نے یہ بھی کہا کہ ’یہ تاثر کہ پولیس والے بندے اس لیے مارتے تھے کہ بڑا انعام یا ترقیاں ملتی تھیں، حقیقت نہیں ہے۔ میں نے کئی ایسے لوگوں کو بھی مارا جن پر لاکھوں روپے انعام تھا لیکن مجھے محکمے سے آج تک ایک روپیہ بھی نہیں ملااور نہ ہی کوئی ترقی ملی۔‘پھر حالات کچھ ایسے بدلے کہ خود عابد باکسر پہ مقدمات قائم ہونے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور چند برس کے اندر ان پر

جعلی پولیس مقابلوں، مرڈر، زمینوں پر قبضے جیسے الزامات کی بنیاد پر ایک درجن کے قریب مقدمات درج ہو گئے۔ عابد باکسر پر پہلی ایف آئی آر سنہ 1999 میں طاہر پرنس نامی شخص کی مبینہ پولیس مقابلے میں موت کی بنیاد پر درج ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔ان افسران اور اہلکاروں میں سے صرف عمر ورک اور عابد باکسر ہی ایسے دو پولیس افسران ہیں جو زندہ بچے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ انھیں مارنے کی کوشش نہیں کی گئی۔عابد باکسر کی زندگی میں وہ لمحے بھی آئے جب انھیں محسوس ہوا کہ ایک ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کو شاید ایک انکاؤنٹر میں ہی مار دیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب ’باغ بچہ اراضی کیس‘ میں وہ تین ماہ سے زیر حراست تھے تو ’11 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے ایس ایس پی چوہنگ لاہور میر زبیر نے مجھے بتایا کہ ایک دو روز میں تمھیں مار دیں گے۔ اسی روز سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل نے بھی آ کر یہی کہا کہ یہ تمہیں مار دیں گے۔ میں ساری رات پریشانی کے عالم میں سو نہ سکا اور سوچتا رہا کہ میرے بچوں کا کیا بنے گا۔‘’اگلے روز شام کے وقت کچھ اہلکار آئے اور کہنے لگے وضو کر لیں آپ کو تفتیش کے لیے لے کر جانا ہے۔ تب میں سمجھ گیا کہ مجھے مارنے کے لیے لے جانے لگے ہیں ورنہ وضو کروا کر کون تفتیش کرتا ہے۔ میں نے دعا کی یاﷲ میرے بچوں کی حفاظت کرنا۔ پھر تھوڑی دیر بعد سپرٹنڈنٹ دوبارہ بھاگتا ہوا آیا کہ ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے اور فوج آ گئی ہے۔ اس طرح اس روز میری جان بچی۔‘ان کے مطابق اس کے بعد دس برس کا عرصہ انھوں نے دبئی اور برطانیہ میں گزارا۔عابد باکسر سنہ 2018 میں انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئے تھے اور ان کی آمد کے موقع پر یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ انھیں شہباز شریف کے خلاف استعمال کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ تاہم اس بارے میں عابد باکسر کا کہنا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں تھی اور وہ پاکستان اس لیے واپس آئے کیونکہ طویل جلاوطنی کاٹ چکے تھے اور مقدمات کا سامنا کر کے اپنا نام صاف کروانا چاہتے تھے۔عابد باکسر کے بقول اب ان پر کوئی مقدمہ نہیں ہے اور پہلے درج کیے گئے مقدموں میں سے دو میں انھیں بری کر دیا گیا جبکہ باقی خارج ہو گئے۔(بشکریہ : بی بی سی )