بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بنائے گئے منصوبے آپریشن مڈنائٹ جیکال کے میجر عامر کو بینظیر بھٹو نے ملاقات کے لیے کیوں بلوا لیا تھا ؟ رؤف کلاسرا نے پرانا واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) خیر شاہد صدیقی صاحب کا اصرار تھا کہ پنچ پیر چلتے ہیں۔ پنج پیر اس وقت مشہور ہوا جب بغاوت کے مقدمے کے بعد بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر وہ اپنے گائوں پنج پیر چلے گئے اور وہاں کئی دن تک رہے۔

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پورے ملک میں ایک ہنگامہ مچ گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور زرداری کو یقین دلایا گیا تھا کہ اگر اس میجر عامر کو سزا دلوا دی گئی تو آئندہ کوئی ایجنسی ان کے خلاف سازش نہیں کر سکے گی۔ میں نے پنج پیر کی اس شام میجر عامر سے پوچھا: واقعی وہ بینظیر بھٹو کے خلاف سازش کررہے تھے اور جو کچھ سامنے آیا‘ وہ سچ تھا؟ بولے: ہم اپنے تئیں ان ایم این ایز کی شناخت کرنے میں مصروف تھے جو بینظیر بھٹو کے خلاف ان کے مخالفین استعمال کر سکتے تھے‘ ہم حکومت گرا نہیں بلکہ بچا رہے تھے۔ میں نے کہا: لیکن آپ کے ناقدین یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ایجنسیاں بینظیر کو بچانے کی کوشش کررہی تھیں۔ بولے: اس پر کسی وقت تفصیل سے بات کر لیں گے۔ تاہم اب یہ وفاقی حکومت کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا تھا کہ کیسے ممکن ہے‘ ریٹائرڈ میجر کو گرفتار کرکے اس کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا؟ بینظیر بھٹو حکومت اس لیے بھی زیادہ پراعتماد تھی کہ برسوں بعد وہ سیکرٹ ایجنسی کے سربراہ اور فوج کے سربراہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے جو شاید میجر عامر کو تحفظ فراہم کر سکتے تھے۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر گیا تھا۔ فوج میں نئی قیادت آ گئی تھی بلکہ فوجی قیادت نے ہی بینظیر بھٹو کے خلاف ایک فوجی بغاوت کو کچل دیا تھا۔ اب میجر عامر پر ہاتھ ڈالنا قدرے آسان تھا۔ اس سے پہلے میجر عامر کو بینظیر بھٹو حکومت نے شکایت کرکے فوجی ملازمت سے نکلوا دیا تھا۔

جنرل اسلم بیگ نے انہیں بلا کر اس برطرفی کے عوض مالی اور دیگر مراعات کی پیشکش کی لیکن وہ انکار کرکے نکل آئے۔ جب بینظیر بھٹو نے دوبارہ مقدمہ شروع کیا تو ان کا موقف تھا کہ ایک ہی جرم کی سزا دو بار نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے بابر اعوان کو وکیل کیا اور انہوں نے وہ دلائل عدالت میں دیئے کہ باہر نکل کر میجر عامر نے کہا: دل چاہتا ہے کہ دوبارہ بغاوت کی جائے۔ میں نے میجر عامر سے پوچھا: پھر یہ کرشمہ کیسے ہوا‘ جو آپ کو ہر قیمت پر گرفتار کرنا چاہتے تھے تاکہ آپ کو سزا دی جائے‘ پھر انہی آصف زرداری نے آپ کو صدر بننے بعد انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ بننے کی پیشکش بھی کی‘ یہ دشمنی دوستی میں کیسے بدلی؟ اس سے پہلے کے میجر عامر جواب دیتے میں نے کہا: ویسے آپ کی کبھی بینظیر بھٹو سے بھی ملاقات ہوئی؟ میجر عامر بولے: ہاں بینظیر بھٹو سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ میرے لیے یہ ایک بم شیل تھا۔ میں حیرانی سے بولا: واقعی؟ کب‘ کیسے‘ کہاں؟ہم انسان بھی کیا چیز ہیں۔ کہاں پنج پیر گائوں میں میجر عامر کو گرفتار کرنے کے لیے فیڈرل فورس بھیجی گئی تھی اور پھر کہاں برسوں بعد بینظیر بھٹو اور اسی میجر عامر کی ملاقات ہورہی تھی۔ میجر عامر بینظیر بھٹو سے اپنی ملاقات کے راز شیئر کر رہے تھے۔ پنچ پیر پہاڑی پر رات نے اپنی چادر تان لی تھی۔ اس پہاڑی کا نام ان پانچ پیروں (بزرگوں) کے نام پر پڑ گیا تھا جنہوں نے وہاں کبھی قیام کیا تھا۔ وہ بوڑھی پہاڑی جو پتہ نہیں کتنے زمانوں سے انسانوں کے عروج و زوال کی خاموش گواہ تھی۔(ش س م)