کلبھوشن کی اپنے سفارتکاروں سے ملاقات کی اندرونی کہانی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بھارت نے جاسوس کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دینے کی پیشکش قبول کرلی جس کے بعد کلبھوشن یادیو سے بھارتی ناظم الامور نے ملاقات کی، قونصلر ملاقات کے لیے کلبھوشن کی موجودگی کے مقام کو خفیہ رکھا گیا اور قونصلر رسائی اسلام آباد میں محفوظ مقام پر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو بھارت نے جاسوس کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دینے کی پاکستان کی پیشکش قبول کرلی جس کے بعد کلبھوشن سے بھارت کے ناظم الامور گورو اہلووالیا نے ایک ساتھی سفارتکار کے ہمراہ کلبھوشن سے ملاقات کی، قونصلر ملاقات کے لیے کلبھوشن کی موجودگی کے مقام کو خفیہ رکھا گیا اور قونصلر رسائی اسلام آباد میں محفوظ مقام پر دی گئی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے عالمی عدالت کے تقاضوں کے مطابق بھارتی سفارتکاروں کو کلبھوشن کیساتھ ملاقات کیلئے سازگار ماحول دیا۔ جو بات طے ہوئی تھی، اسی کے تحت رسائی دی۔اپنے بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا کہ ملاقات کے وقت بھارت کے سفارت کاروں کا رویہ حیران کن تھا۔ کلبھوشن یادیو نے کہا اپنی حکومت سے بات کرنا چاہتا ہوں اور ان کے سفارتکار سہمے ہوئے تھے۔ بھارتی سفارتکار کلبھوشن کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے دم دبا کر بھاگ گئے، کلبھوشن یادیو انہیں پکارتا رہا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قونصلر رسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے لیکن بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی بدنیتی سامنے آگئی ہے، یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔ کلبھوشن کہتا رہا کہ مجھ سے بات کریں لیکن سفارتکار چلتے بنے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی؟ بھارتی سفارتکاروں کو درمیان میں شیشے پر اعتراض تھا، وہ بھی ہٹا دیا۔ انہوں نے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ پر اعترض کیا وہ بھی نہیں کی گئی۔ پاکستان نے بھارتی سفارتکاروں کی تمام خواہشات پوری کیں، پھر بھی وہ چلے گئے۔دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چاہ بہار ریلوے منصوبے پر بھارت نے بہت بڑی چال چلی تھی لیکن اسے دھچکا لگا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی اپوزیشن اور عوام بھی مودی سرکار پر انگلیاں اٹھا رہی ہے۔ ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کے عزائم برقرار رہے تو پھر بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے چین، نیپال، بنگلا دیش اور سری لنکا کو بھی نشانہ بنایا۔ بھارت خطے کے ممالک سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کی سوچ جنونی ہے۔ اس کے رویے سے خطے کے دیگر ممالک بھی نالاں ہیں۔ بھارتی انتہا پسند حکومت اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان نے مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق دنیا کو دکھائے۔ ہم نے عالمی ادارہ انصاف کے فیصلے کو قبول کیا۔ ہم اپنے اصولوں پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ کلبھوشن یادیو اپنی زبان سے دہشت گردی کا اعتراف کر چکا ہے۔