عمران خان نے بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایسا قانون متعارف کروا دیا گیا کہ کرپشن کرنے والے عناصر کانپنے لگے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہزاد ارباب کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران کو بیوروکریسی سے نکال باہر کرنے کے لیے سول سرونٹ رولز2020 آ گیا۔ جس کے مطابق 20 سالہ ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کے قواعد وضع کیے گئے ہیں اب ہر افسر20 سالہ ملازمت مکمل ہونے پر کارکردگی کی لازمی جانچ پڑتال

ہوگی۔ریٹائرمنٹ سے پہلے متعلقہ افسر کو شوکاز نوٹس اور وضاحت کا موقع دیا جائے گا۔ اگر مجاز اتھارٹی کو مطمئن نہ کیا جا سکا تو متعلقہ افسر کو پنشن اور دیگر مراعات کے ساتھ ریٹائر کر دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب نے بتایا کہ اس قانون کے تحت رواں مہینے کے اندر تقریباً565 بیورو کریٹس کی کارکردگی کو جانچا جائے گا جو اب تک 20 سالہ ملازمت پوری کر چکے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی اس مطلوبہ معیات پر پورا نہ اترا تو اسے ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے گا۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد صرف لوگوں کو ریٹائر کرنا نہیں بلکہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے کی اہلیت رکھنے والے لوگوں کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اپنی 36 سالہ سروس کے دوران میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی سول سرونٹ کو اس کی نا اہلی کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کیا گیا ہو۔ ہر حال میں افسران 60 سال تک اپنی نوکری پوری کرتے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ اس ضمن میں چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جو افسران کی کارکردگی کو جانچے گی اور نااہلی سامنے آنے یا کرپشن میں ملوث ہونے پر افسران کو ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی کارکردگی پرکھنے کے لیے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری لا اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل کمیٹی جانچے گی۔شہزاد ارباب نے یہ بھی بتایا کہ گریڈ 20 سے نیچے کے افسران کی کارکردگی کیلئے بھی متعلقہ محکمے کے سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی کارکردگی کو پرکھے گی جس میں کسی قسم کا سیاسی اثرو رسوخ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔