کیا طاہر القادری واقعی عیسائی پادری کے سامنے جھکے تھے؟ اصل ماجرا کیا نکلا؟ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کی حقیقت سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی گئی جوہزاروں مرتبہ دیکھی جا چکی ہے، فیس بک پر شیئر ہونے والی تصویر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے معروف مذہبی رہنما عیسائی پادری کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، یہ تصویر جعلی ہے، کیونکہ اس تصویر کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔

دراصل یہ تصویر 2008ء میں سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ایک چرچ میں لی گئی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق 23 جون 2020ء کو فیس بک پر یہ تصویر شیئر کی گئی ، جسے ابتک 22 ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے، اس تصویر میں نظر آنے والے پاکستان کے معروف عالم دین ڈاکٹر طاہر القادری ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق اس تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’’کیا ایک عالم کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک پادری کے سامنے جھکے‘‘۔ اس تصویر کا سکرین شاٹ نیچے دکھایا گیا ہے۔ اسے ہزاروں مرتبہ شیئر کیا گیا ہے، ہماری تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ یہ تصویر جعلی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گوگل پر تصویر سرچ کی گئی، جس میں پتہ چلا کہ یہ تصویر نقلی ہے، کیونکہ اصل تصویر جو حاصل کی گئی میں اس ڈاکٹر طاہر القادری کی جگہ ایک عیسائی چرچ میں پادری کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ یہ تصویر اکتوبر 2008ء کی ہے۔ ان دونوں تصویروں کا سکرین شاٹ نیچے دکھایا گیا ہے۔اے ایف پی کے مطابق اس تصویر کو پاکستان کے معروف عالم ڈاکٹر طاہر القادری کی مرکزی جماعت تحریک منہاج القرآن کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا گیا تھا جہاں پر لکھا تھا کہ یہ تصویر بے بنیاد اور جعلی ہے۔