ایران نے سی پیک کی حمایت کر دی

تہران(ویب ڈیسک) ایران نے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی حمایت کر دی، گوادر بندرگاہ توڑنے کا منصوبہ فلاپ کرنے کے بعد ایران سی پیک کا بھی پارٹنر بن گیا، تفصیلات کے مطابق ایران نے حیلے بہانوں پربھارت کو پراجیکٹ سے جدا کر کے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا

فیصلہ کیا، ایران اب چاہ بہار ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا، بھارت اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ 4 سال پہلے طے پایا تھا اور منصوبے کے تحت افغان سرحد پر چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن تعمیر ہونی تھی لیکن بھارت کی جانب سے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے اور فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی تاہم ایران یہ پراجیکٹ مارچ 2022 تک خود مکمل کرے گا۔اس اہم منصوبے سے بھارت کی علیحدگی کے بعد ایران نے پاک چین راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ سی پیک اور بی آر ائی خطے کی تقدیر بدل دیں گے، یہ منصوبے علاقائی ترقی خصوصاً پاکستان، چین اور ایران کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوں گے۔انہوں نے سی پیک اور بی آر آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی حمایت کا غیر معمولی اقدام تہران حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیل کا اہم اشارہ ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو چاہ بہار ریلوے پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے۔ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔بھارت اور ایران کے درمیان چار سال قبل یہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت افغانستان کی سرحد کے ساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے کی تعمیر ہونی تھی۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پراجیکٹ شروع کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس سے الگ کر دیا ہے۔