چاہ بہار منصوبے سے علیحدگی، بھارت کے پاس کوئی حل نہ رہا، افغانستان تک پہنچنے کے لیے پاکستان سے گُزرنا ضروری ہوگیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) گذشتہ روز بھارت کو شدید جھٹکا لگا جب ایران نے چاہ بہار منصوبے سے بھارت کو الگ کر دیا۔ بھارت کو اپنے ایک وقت کے دوست ممالک کی طرف سے مسلسل دھچکوں کا سامنا ہے اوراس فہرست میں تازہ ترین ملک ایران ہے جس نے چابہار ریل منصوبے سے بھارت کو نکال

باہرکردیا اور چابہار سے زاہدان تک ریلوے لائن خودتعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ اس متعلق بین الاقوامی اخباروں نے ایسی ایسی ہیڈلائنز لگائی ہے کہ مودی کو دنیا بھر میں ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کہا کہ چاہ بہار سے زائیدن تک سڑک بنائی جانی تھی جس کے ذریعے پاکستان کو بائی پاس کیا جانا تھا۔لیکن یہاں پر چائنا بازی لگ گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اب بھارت کی افغانستان تک رسائی صرف پاکستان کے ذریعے ممکن ہے۔واضح رہے کہ ایران نے مالی امداد کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے بغیر کسی بھارتی امداد کے چابہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ سہ فریقی معاہدے کے حصے کے طور پر اس منصوبے کو حتمی شکل دیئے جانے کے چار سال بعدبھارت کو نکال باہرکیاگیا ہے۔بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق یہ سارا منصوبہ مارچ 2022ء تک مکمل ہوجائے گا اور اس منصوبے کے لئے ایرانی قومی ترقیاتی فنڈکی طرف سی40کروڑ ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔ تاہم یہ منصوبہ بھارت کی طرف سے بغیر کسی مدد کے مکمل کیا جائے گا۔ریلوے لائن کامنصوبہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سہ فریقی معاہدے کا حصہ تھا اور اس کا مقصد افغانستان اور وسطی ایشیا کے لئے ایک متبادل تجارتی راستہ بنانااور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا مقابلہ کرنا تھا۔2016 ء میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ تہران کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب ایران چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی اور سکیورٹی شراکت داری کو حتمی شکل دینے کے لئے کوشاں ہے اور یہ معاہدہ 400 ار ب ڈالرکا ہے۔ ایران اور چین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے نتیجے میں بینکاری ، ٹیلی مواصلات ، بندرگاہوں ، ریلوے اور ایران کے متعدد دوسرے منصوبوں میں وسیع بنیادوں پر چینی شراکت داری ہوسکتی ہے۔