خان صاحب دیانتداراور پوری قوم بے ایمان : جناب والا ایک ایماندار بندے سے ملک نہیں چل سکتا اس لیے ۔۔۔۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون کی حیران کر دینے والی باتیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔عمران خان کی ایمانداری کا طوطی بولتا ہے اور اب تو یوں لگنے لگا ہے خان صاحب کے علاوہ پورا ملک ہی کرپٹ ہے۔ایک بندے کی ایمانداری سے ملک چل سکتا تو ماضی میں بھی

ایماندار حکمران گزر چکے ہیں مگر ملک آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہی چلتا رہا۔پاکستان کے 19 ویں وزیر اعظم کمال صفات معراج خالد نے غربت کے ماحول میں آنکھ کھولی۔دن رات محنت مزدوری کرکے وطن عزیز پاکستان کے نگران وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے۔انہوں نے ساری عمر سادگی، عاجزی اور انکساری میں گزار دی۔ کسمپرسی اور غربت میں سکول اور کالج کی فیس بھی ان کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ معراج خالد تین بجے جاگ جاتے ، بھینسوں کا دودھ دوہتے اور دودھ بیچ کر پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔ کئی سال ایک کرتا پہنے رہے کہ مزید خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے، حتیٰ کہ پہننے کے لئے جوتا بھی نہیں تھا۔ والد صاحب کا جوتا پہن کر کالج جاتے اور واپس آکر انہیں دے دیتے۔ باپ بیٹا دونوں کے پاس ایک ہی جوتا تھا۔ دن کے وقت والد صاحب اور دوپہر کے بعد ملک معراج خالد ننگے پائوں پھرتے تھے۔تحریک پاکستان میں زمانہ طالب علمی میں بھرپور حصہ لیا اور مہاجرین کی آبادکاری کے لئے بھی کام کیا۔ پوری تعلیم دودھ فروشی اور معمولی ملازمتیں کرکے ہی حاصل کی۔ان کی بیگم صاحبہ سکول ٹیچرتھیں،ان سے پوچھاگیا میڈم آپ کے میاں وزیراعلیٰ پنجاب ہیں کیا آپ سکول کی ملازمت چھوڑ دیں گی تو بیگم صاحبہ نے کہا میری ملازمت مستقل نوعیت کی ہے میں کیوں چھوڑوں گی؟ ان کی ملازمت تو عارضی ہے۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا ہمارے گھر میں مٹی کے دو گھڑے ہیں ہم ان گھڑوں کا ٹھنڈا

پانی پیتے ہیں جبکہ فریج ہم نے مہمانوں کے لئے رکھی ہوئی ہے۔پاکستان کے دسویں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی شرافت اور ایمانداری بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ پاکستان کے چھٹے صدر جنرل ضیا الحق کے ذاتی کردار اور ایمانداری پر بھی کوئی سکینڈل نہ بن سکا۔ پاکستان کے دوسرے صدر جنرل ایوب خان اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قابلیت اور دیانتداری پر بھی تاریخ گواہی دیتی ہے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان کو دیانتدار اور محب وطن سربراہان نہیں مل سکے ، سوال یہ ہے کہ ملک آگے بڑھنے کی بجائے پستی کا شکار کیوں ہوتا چلا گیا ؟ ملک کو آگے لے جانے کے لئے فقط سربراہ مملکت کی دیانتداری اور سادگی کافی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ماضی میں پاکستان ایماندار سربراہان کے ہوتے ہوئے ناکامی کی طرف کیوں گامزن رہا ؟کچھ کو اقتدار کا نشہ لے ڈوبا اور کچھ اختیارات کے ہاتھوں مجبور عہدہ نبھاتے رہے اور ملک کا نظام درست کرنے میں دیانتدار سادہ سربراہان بھی کوئی حصہ نہ ڈال سکے۔ فقط دیانتداری اور سادگی کی ڈگڈگی سے ملک کی معیشت اور نظام میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ریاست کو پیروں پرکھڑا کرنے کے لئے لیڈر شپ کا اچھا ہونا کافی نہیں۔ نیچے ٹیم کا قابل محنتی اور دیانتدار ہونا بھی لازمی ہے۔ عام انسانوں کی کیا بات کریں جبکہ دو جہاں کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے انہیں بھی اسلام پھیلانے اور یثرب کو مدینہ طیبہ بنانے کے لئے ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت تھی۔ نبی پاک صلی اللہ وسلم نے

مکہ میں پہلے تیرہ سال اپنی ایک مضبوط ٹیم تیار کی۔ پھر یثرب کو مثالی ریاست مدینہ بنا کر دنیا میں بے مثال تاریخ رقم کر دی۔ ہر شعبے اور ادارے میں انقلابی تبدیلی لے کر آئے کہ تا قیامت حوالہ اور مثال بن گئے۔پاکستان کی معیشت زبوں حالی کاشکارہے۔ڈالرکی ایک روپے قیمت بڑھنے سے ملک کاقرضہ بلین روپے بڑھ جاتا ہے۔پاکستان پچھلی حکومتوں میں بھی قرضہ لیتا تھا ، آج بھی قرضہ لے رہا ہے۔ پہلی حکومتیں سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتی تھیں۔یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔ پچھلی حکومتیں بھی خزانہ خالی کا رونا روتی تھیں۔ آج بھی یہ رونا جاری ہے۔ پہلی حکومتیں بھی اپنے کارکنوں اور نمائندوں کو بلا تمیز نوازتی تھیں۔ آج بھی سب کو ایڈجسٹ کیا گیاہے۔ کرپشن کے رنگ پہلے بھی مختلف تھے آج بھی مختلف ہیں۔ بیروزگاری مہنگائی بجلی گیس لوڈ شیڈنگ پہلے بھی موجود تھی آج بھی موجود ہے۔ پہلی حکومتوں نے بھی اپنی اپوزیشن کو جیلوں میں بند کرایا۔ آج بھی یہ رسم قائم ہے۔ نہ پہلی حکومتیں سابقہ حکومتوں سے عوام کا پیسہ نکلوا سکیں نہ آج کسی میں یہ دم خم ہے۔ ملک کا پیسہ گیا ہی گیا ہے واپس نہیں آیا۔ قرضہ آیا ہی آیا ہے لوٹایا نہیں گیا۔ نہ چہرے تبدیل ہو سکے نہ نظام۔ برتن قلعی کرالو کے مصداق پرانے لوٹے بار بار قلعی کرا کے ہر بار فٹ کر دئیے جاتے ہیں۔بیکار اور ناکارہ ٹیم کے ساتھ بیس برس بھی حکومت میں بیٹھے رہیں ملک کی حالت بد سے بدتر ہو گی۔(ش س م)