بلاول بھٹو اپنے ہی خلاف رپورٹ منظرعام پر لے آئے۔۔!! حکومت پر تنقید کے چکر میں اپنا ہی کچا چٹھا کھول بیٹھے، اینکر سید علی حیدر نے مندرجات پڑھ کر سنا دیے

کراچی (ویب ڈیسک) بلاول زرداری اپنے ہی خلاف رپورٹ منظرعام پر لے آئے۔۔حکومت پر تنقید کے چکر میں اپنا ہی کچا چٹھا کھول بیٹھے۔۔ اینکر سید علی حیدر نے رپورٹ کے مندرجات پڑھ کر سنا دیے۔ اینکر سید علی حیدر کے مطابق بلاول نے الزام لگایا کہ کے الیکٹرک نے اربوں روپے کی گیس استعمال

کی اور اسکی ادائیگی نہیں کی، کوئی معاہدہ تک نہیں کیا گیا لیکن جو ایف آئی اے رپورٹ بلاول لہرارہے ہیں اسکے مطابق تو جو کچھ بھی ہوا، وہ پیپلزپارٹی کے دور میں ہوا، جب کے الیکٹرک کی نجکاری ہوئی تھی تب یہ طے ہوا تھا کہ گیس کمپنیوں سے ایک معاہدہ کیا جائے گا لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی کے الیکٹرک کو معاہدے کے بغیر ہی گیس دیتی رہی۔معاہدے کی عدم موجودگی کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی کیلئے اپنے پیسے ریکور کرنا ممکن نہ رہا۔ سید علی حیدر کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ کے الیکٹرک نے 2011 سے 2013 تک 56 ارب روپے کی گیس استعمال کی جبکہ سوئی سدرن کا ریکارڈ کہتا ہے کہ کے الیکٹرک نے 65 ارب روپے کی گیس استعمال کی یعنی 9 ارب روپے کا فرق ہے۔ کے الیکٹرک نے 9 ارب کا فرق اپنے کھاتوں سے ہی غائب کردیا۔ اینکر کا مزید کہنا تھا کہ بلاول جو رپورٹ لہرارہے تھے اسکے مطابق کہاگیا کہ لیٹ پے منٹ سرچارج چھپانے میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا کردار بھی ریکارڈ پر لایا جانا چاہئے۔ 2012 سے 2018 تک صرف لیٹ پے منٹ سرچارج کی مد میں ہی 49 ارب روپے کی رقم بنتی ہے اور کے الیکٹرک اصل رقم بھی نہیں دے رہا جو 31 ارب روپے بنتی ہے۔ سید علی حیدر نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے کل ملاکر سوئی سدرن کے 79 ارب روپے دینا ہیں

لیکن اسکے باوجود کے الیکٹرک کو پیپلزپارٹی اور ماضی کی حکومتوں میں رعایتیں دی گئیں۔2009 اور 2010 میں کے الیکٹرک کو گیس کی بجائے تیل دیا گیا جس کے اضافی 5 ارب روپے بھی حکومت پاکستان نے ادا کئے۔ اینکر نے انکشاف کیا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ہی 2008 میں ابراج کمپنی نے کنٹرول سنبھالا تو وہ نادہندہ تھی۔ نادہندہ ہونے کے باوجود اسکا لائسنس معطل نہیں کیا گیا اور اسے معاشی فائدے ملتے رہے۔ معاہدے کرانا اور عدم فراہمی پر جرمانے کرنا بھی اوگرا کی ہی ذمہ داری تھی۔ سیدعلی حیدر کے مطابق سوال یہ ہے کہ ان ساری باتوں کا تعلق پیپلزپارٹی کے دور حکومت سے ہے پھر بلاول میڈیا سے انسان بننے کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ جب ابراج گروپ نے کے الیکٹرک کا کنٹرول سنبھالا تب تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی لیکن اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 7 پر یہ لکھا ہے کہ ابراج گروپ کے عارف نقوی کے وزیراعظم عمران خان سے تعلقات ہیں، اسی کو بنیاد بناکر بلاول نے میڈیا سے کہا کہ انسان بنو اور اس پر پروگرام کرو لیکن وہ باقی چیزیں فراموش کرگئے جو انکے دور میں ہوئی تھیں۔ آخر میں اینکر سید علی حیدر نے کہا کہ اب بلاول سے بھی سوال ہوگا کہ جو رپورٹ آپ لائے ہیں اس میں گیس کمپنی کو پیسے نہ دینے کا ذکر ہے، جس وقت یہ سب ہورہا تھا، اس وقت آپکی حکومت تھی۔